فائز عیسی کے مخالف عمران خان انہی کے سامنے کیوں گڑ گڑانے لگے

  1. موجودہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف اپنے دور حکومت میں سپرپم جوڈیشل کونسل میں جھوٹا ریفرنس دائر کروانے والے سابق وزیراعظم عمران خان برے وقت کے ہاتھوں اتنے لاچار ہو گئے ہیں کہ اب انھوں نے اپنے اور اپنی پارٹی کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو ، غیر قانونی ، غیر آئینی اور سیاسی انتقام پر مبنی قرار دیتے ہوۓ جسٹس فائز سے ہی مداخلت کرنے کی درخوا ست کر دی ہے . چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو چھ صفحات پر مبنی خط لکھ مارا ہے . جس میں استدعا کی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کا نفاذ یقینی بنائیں۔ خط کے ساتھ ملک میں جاری بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مبینہ دستاویزی شواہد بھی منسلک کیے گئے ہیں۔ عمران خان نے خط میں موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کو شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کے نفاذ کا نہایت اہم اختیار حاصل ہے اور دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 184(3) کے تحت عدالت کو شہریوں کو شخصی آزادی اور آزادی اظہار رائے کے آئینی حقوق سے محروم کرنے پر فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس وقت جعلی مقدمات کے اندراج اور گرفتاریوں کے اختیارات کو سیاسی انجینئرنگ کے آلہ کار کے طور پر کھلم کھلا استعمال کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو جھوٹے مقدمات کے اندراج سے لے کر غیر قانونی قید میں رکھنےتک مختلف قسم کے حربوں سے انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے قائدین و کارکنان کو عدالتوں سے ضمانت پر رہائی ملنے کے باوجود فوری طور پر کسی دوسرے من گھڑت مقدمے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور 9 مئی واقعات کے تناظر میں گرفتار کی گئی بےگناہ خواتین تقریباً 6 ماہ سے غیرقانونی طور پر جیلوں میں قید ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی ہائی کورٹس نے اپنے گزشتہ چند آرڈرز کے ذریعے پولیس کو نامعلوم مقدمات میں شہریوں کو گرفتار کرنے سے منع کیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ اس بات سے لاعلم نہیں ہو گی کہ 2018 سے 2022 تک تحریک انصاف یا تحریک انصاف کی حکومت سے منسلک افراد کو کس طرح سے غائب کیا جا رہا ہے، یہ افراد دوبارہ نمودار ہوتے ہیں اور پریس کانفرنس کرتے ہیں جس میں وہ وہی بات کرتے ہیں جو انہیں سکھایا جاتا ہے۔

  2. عمران کا کہنا ہے کہ صحافی عمران ریاض خان سمیت متعدد نامور شخصیات کو اسی صورتحال سے گزرنا پڑا، گرفتاریوں کے علاوہ اس طرح کی گمشدگی اور اغوا کے واقعات سے معاشرے میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے اور یہ واقعات اس امر کی توہین ہیں کہ پاکستان کو آئین اور قانون کے تحت چلایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی مداخلت کے بغیر بڑے پیمانے پر جاری جبری گرفتاریوں اور اغوا کے سلسلے کا خاتمہ اور 8 فروری کو منصفانہ عام انتخابات کے انعقاد کا امکان ممکن نہیں۔ عمران خان نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ دستور میں دیے گئے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کے بنیادی حقوق کا نفاذ اور تحفظ یقینی بنائے۔

  3. انہوں نے استدعا کی کہ ملک بھر میں جبری طور پر لاپتا کیے گئے سیاسی کارکنان اور صحافیوں کی بازیابی کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے اور نگران وفاقی و صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کی جائیں کہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے مساوی ماحول فراہم کیا جائے۔چیئرمین تحریک انصاف نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں مزید استدعا کی کہ وفاقی حکومت اور پیمرا کو ہدایت دی جائے کہ وہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی بلا امتیاز میڈیا کوریج کو یقینی بنائیں۔

Related Articles

Back to top button