فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہ سنانے کی سمجھ نہیں آ رہی

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہےفارن فنڈنگ کيس کا فیصلہ فوری طور پر کیا جائے، پى ٹى آئى نے پچاس بار اس کى کارروائى معطل کروائى ہے، پى ٹى آئى نے اسے روکنے کے لیے نو رٹ پٹيشنز دائر کیں، آٹھ سال اس کيس کو لٹکايا گيا، اب فيصلہ محفوظ ہوگيا ہے تو سمجھ نہیں آرہا کہ اسے سنانے میں کون سى رکاوٹ ہے؟

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکا کہنا تھامسلم ليگ (ن) سمیت حکومت کی تمام سياسى جماعتوں کو تشویش ہے، تمام اتحادى جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ فارن فنڈنگ کا فيصلہ سنايا جائے، 300 سے زائد کمپنياں اس میں شامل ہیں جو اس ميں ملوث ہیں، جو حقائق ثابت ہو چکے ہیں ايکشن بھی ان کے مطابق ہونا چاہيے۔

انہوں نے کہا عمران خان عقل سے بالکل پيدل ہے، اس کو کوئی سمجھائے کہ تم اکثریت کو ملک سے باہر کر دو گے، اس نے گزشتہ روز کہا کہ پى ٹى آئى نے ايک کروڑ ووٹ حاصل کيے، مسلم ليگ ن اور اتحادی جماعتوں نے پچھلى بار اڑھائى کروڑ سے زائد ووٹ ليے، اپنے اعمال کا نہیں معلوم اور گالياں مخالفين کو ديتے ہو، قومى مفاد اس انسان کے نزديک کوئى حيثيت نہیں رکھتا، عمران خان قوم کو حادثے کا شکار کرنے جارہا ہے، قوم نے اگر اس کے شناخت نہیں کی تو اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

رانا ثنا اللہ نے کہاعامر کیانی، سیف اللہ نیازی سمیت دیگر کو فوری طور پر گرفتار کرنا چاہیے، ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس بنتا ہے، عمران خان نے لوٹ مار کی ہے اور خود 50 ارب کا ڈاکا مارا، عمران خان اپنی ڈکیتی کا جواب نہیں دیتا اور مخالفین کو ہر وقت گالیاں دیتا رہتا ہے۔

انکا کہناتھان لیگ شروع سے الیکشن کے حق میں ہے لیکن اتحادیوں کی وجہ سے ہم خاموش ہوگئے، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا معاہدہ یہ لوگ کرکے گئے تھے جب کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، نواز شریف آج بھی الیکشن کی طرف جانے کی بات کرتے ہیں، چیف الیکشن کمیشن کا نام عمران خان نے خود دیا تھا، الیکشن کمیشن کے خلاف جوڈیشل کمیشن میں جانا ہے تو جاؤ اور اگر الیکشن چاہئیں تو کے پی اور پنجاب اسمبلی تحلیل کردو۔

انہوں نے کہاہمارے حق میں جو فیصلے ہوئے تھے وہ آئے ہی نہیں اور مخالفت میں کوئی رہ نہیں گیا، ماڈل ٹاؤن کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے اور سپریم کورٹ تک میں ہمارے خلاف کوئی بات ثابت نہیں ہوئی، اس کیس میں مدعی کو خود بھی دلچسپی نہیں، حکومت کے پاس کسی کو گرفتار کرنے یا کرانے کا کوئی اختیار نہیں، گرفتار کرنے کا اختیار نیب اور ایف آئی اے کے پاس ہے، اگر کوئی مقدمہ بنتا ہے تو بنائیں اور گرفتار کریں۔

وزیر داخلہ نے کہا اگر کیبنٹ 186 لوگوں کی نہ بنی تو پنجاب حکومت ایک ماہ بھی نہیں چل سکے گی، سات ووٹ کا فرق ہے، پنجاب حکومت کا کوئی مستقبل نہیں، کے پی اور پنجاب اسمبلی تحلیل ہو تو میری نظر میں عام انتخابات کرائے جا سکتے ہیں، اس حوالے سے پی ڈی ایم کیا فیصلہ کرتی ہے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا میں نے 15 سے 20 سال بھرپور محنت کی اور جائیداد بنائی، فواد چودھری نے بھی اگر درست طریقے سے جائیداد خریدی تو کوئی مسئلہ نہیں تاہم اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو تحقیقات کرنی چاہئیں۔

Related Articles

Back to top button