آئندہ مالی سال 23-2022 کیلئے 95کھرب حجم کا وفاقی بجٹ پیش

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے 95کھرب حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔

سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونیوالے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ پیش کیا، قومی اسمبلی کے اس اہم سیشن میں بھی تحریک انصاف کی جانب سے کو ئی نہ پہنچا اور اپوزیشن کی نشستیں خالی ہی رہیں۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اہم نکات کے مطابق کل اخراجات کا تخمینہ 9ہزار 502 ارب روپے ہے،قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 3ہزار 144ارب روپے رکھے گئے ہیں،پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 800ارب روپے رکھے گئے ہیں،ملکی دفاع کے لیے ایک ہزار 523ارب روپے رکھے گئے ہیں،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 550ارب روپے رکھے گئے ہیں،پنشن کی مد میں 530ارب روپے رکھے گئے ہیں،سبسڈیز کے لیے 699ارب روپے رکھے گئے ہیں،چھوٹے کاروبار میں سالانہ چھ لاکھ آمدن والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہو گا،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 364ارب روپے رکھے گئے ہیں،ایک کروڑ طلبہ کو بے نظیر اسکالرشپ دی جائے گی،تعلیم کے لیے 109ارب روپے بجٹ میں مختص کیے گئے ہیں،کم از کم ایک لاکھ سے زائد ماہانہ تنخواہ پر ٹیکس ہو گا،40 ہزار ماہانہ سے کم آمدن والوں کو ماہانہ 2ہزار روپے دیے جائیں گے،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کیا گیا ہے،1600سی سی اور اس سے زائد کی گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے،سولر پینل کی درآمدات پر صفر سیلز ٹیکس عائد ہو گا،ماحولیاتی تبدیلی کے لیے 10ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ تقریر کا آغاز کرتےہوئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نےکہا کہ اس حکومت میں وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی ہے لہٰذا ملکی معیشت کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں کو قوم کی وسیع تر حمایت حاصل ہے، حکومت کو گزشتہ پونے چار سال کی بری کارکردگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی ابتر معاشی صورتحال بہتر بنانے کا مشکل چیلنج درپیش ہے، گزشتہ حکومت کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے معاشی ترقی رک گئی، سماجی ڈھانچہ متاثر ہوا اور اس دوران معاشی بدانتظامی عروج پر رہی جس کی وجہ سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوا اور روپے کی قدر میں بے تحاشا کمی دیکھنے میں آئی اور ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی۔

سابق پی ٹی آئی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا گزشتہ پونے 4 سال کے دوران ایک ناتجربہ کار ٹیم نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا، ہر سال ایک نیا آدمی بجٹ پیش کرتا رہا اور ہر سال حکومت کی معاشی پالیسی بدل جاتی تھی جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی، انہوں نے عالمی برادری اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے بھی بار بار مؤقف بدلنے کی عادت اپنائی، اس لیے آئی ایم ایف کا جو پروگرام اس سال ختم ہونا تھا، وہ فروری میں معطل ہوچکا تھا اور وہ بنیادی اصلاحات جو 2019 میں ہونی تھیں ابھی تک نہیں ہوئیں،معیشت کے ڈھانچہ جاتی بگاڑ کو درست کرنے کے لیے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا ایک فوری منفی رد عمل بھی دیکھنے میں آتا ہے مگر معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوجاتی ہے، گزشتہ حکومت ایسے اقدامات سے کتراتی رہی، اس لیے وہ تمام اصلاحات مؤخر ہوتی رہیں جن کی وجہ سے آج معشیت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکی اور خوشحالی ہم نے دور ہوگئی۔

وزیر خزانہ نے کہا موجودہ حکومت کے پاس بہت کم وقت ہے، ہم بڑی آسانی سے ان تبدیلیوں کو آئندہ حکومت پر ڈال سکتے تھے لیکن اس میں ملک کا نقصان تھا، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ وہ تمام تبدیلیاں کی جائیں گی جن سے معیشت اور ملک کو فائدہ ہوگا، ہم یہ جانتے ہوئے حکومت میں آئے تھے کہ ملک کی معشیت کی حالت خراب ہے، ہمارے پاس دو آپشن تھے، ایک تو یہ کہ ملک کو اسی حالت میں چھوڑتے اور نئے انتخابات کا اعلان کردیتے مگر اس طرح معشیت کا بیڑا غرق ہوجاتا اور ملک کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھانا مزید مشکل ہوجاتا، اس لیے ہم نے دوسرا راستہ اپنایا اور مشکل فیصلے کرنا شروع کیے، یہ ہی ترقی کا راستہ ہے، ہم نے پہلے بھی یہ کیا ہے، ہم کرسکتے ہیں اور ہم کرکے دکھائیں گے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا ہم نے ہمیشہ قومی مفاد کو اپنے سیاسی مفاد پر ترجیح دی ہے، اس وقت بھی ہماری اولین ترجیح معاشی استحکام ہے، ہماری معشیت کا ایک بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ اکثر معاشی ترقی کی شرح 3 اور 4 فیصد کے درمیان رہتی ہے جو ہماری آبادی کی شرح سے مطابقت نہیں رکھتی، اس کے برعکس جب معاشی ترقی کی شرح 5 یا 6 فیصد سے اوپر جاتی ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ قابو سے باہر ہوجاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم معیشت کو چلانے کے لیے امیر طبقے کو مراعات دیتے ہیں جس سے درآمدات بڑھ جاتی ہیں جب کہ برآمدات وہیں کھڑی رہتی ہیں،اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہمیں نئی سوچ کو اپنانا ہوگا اور ایک قوم کے طور پر اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا، ہمیں معیشت کو چلانے کے لیے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کو مراعات دینا ہوگی جس سے مقامی پیداوار بڑھے گی اور زراعت کو بھی ترقی ملے گی، ہمیں غریب کے معاشی حالات کو سنوارنا ہوگا، غریب طبقے کو سہولتیں دینا ہوں گی تاکہ اس کی آمدن بڑھے، جب غریب کی آمدن بڑھتی ہے تو وہ ایسی اشیا خریدتا ہے جو ملک کے اندر تیار ہوتی ہیں، ایسی اشیائے صرف پر خرچ کی گئی رقم سے درآمدات نہیں بڑھتیں، لیکن ملک کے اندر معاشی ترقی کا عمل شروع ہوجاتا ہے، ایسا کرنے سے ہم مستقل بنیادوں پر جامع ترقی کرسکتے ہیں۔

بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا ہمیں معاشی ترقی کی بنیاد رکھنی ہوگی، ایسی مضبوط بنیاد جس پر مستحکم معاشی ترقی کی شاندار عمارت تعمیر ہوسکے اور جو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم رہے، ہمیں برآمدات بڑھانے، زراعت، آئی ٹی سیکٹر اور صنعتی برآمدات بڑھانا ہوں گی، ہمیں زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا اور اپنی برآمدات کی مسابقت کو بڑھانا ہوگا تاکہ وہ عالمی منڈی دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرسکیں، ہمیں کاروبار کرنے کے مواقع کو آسان اور بہتر بنانا ہوگا تاکہ مقامی اور بیرونی سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں،ہمیں مشینری اور خام مال کی درآمد کے بعد اس کی ویلیو میں اضافہ کرکے برآمد کرنا ہوگا، اس طرح جتنی درآمدات بڑھیں گی اس سے کہیں زیادہ بر آمدات میں بھی اضافہ ہوگا،ہمیں تباہ حال معشیت کو درست راہ پر گامزن کرنے کا مشکل چیلنج درپش ہے، گزشتہ پونے 4 سال کے دوران معاشی عدم استحکام جاری تھا، تاریخی مہنگائی، غیر ملکی زر مبادلہ کی مشکلات، زیادہ لاگت پر بے دریغ قرضوں کا حصول، لوڈ شیڈنگ اور اوپر سے مسائل کا حل نکالنے میں ناکام سابقہ حکومت نے عوام کی زندگیوں کو مشکلات سے دوچار اور شکستہ حال بنادیا۔

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ گزشتہ پونے 4 سال کی بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان مہنگائی کے حساب سے دنیا کے بڑے ملکوں میں نمبر 3 پر ہے، ساڑھے سات کروڑ لوگ غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، ان میں دو کروڑ کا اضافہ گزشتہ پونے 4 سال میں ہوا جب کہ اسی دوران ساٹھ لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے، اپنی پونے 4 سال کی مدت میں سابقہ حکومت نے 20ہزار ارب روپے قرض لیا جو لیاقت علی خان اور خواجہ ناظم الدین سے لے کر ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، میاں محمد نواز، شاہد خاقان عباسی اور راجا پرویز اشرف سمیت تمام وزرائے اعظم کی حکومتوں کے 71 سال میں لیے گئے قرضوں کے 80 فیصد کے برابر ہے،اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے آمدن سے زیادہ خرچ کیا اور پاکستان کی تاریخ کے 4 بلند ترین خسارے کے بجٹ پیش کیے، ان کا اوسط بجٹ خسارہ 8عشاریہ 6 فیصد کے قریب رہا، اس دوران سالانہ تقریبا 5 ہزار ارب روپے کا قرض بڑھایا گیا اور رواں مالی سال میں پانچ ہزار 100ارب روپے کا خسارہ متوقع ہے، اسی طرح بجلی کا گردشی قرضہ ایک ہزار 62ارب روپے سے بڑھ کر جو ہم مئی 2018 میں چھوڑ کر گئے تھے، اب ڈھائی ہزار ارب روپے کا ہوگیا ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ دیکھنے میں آیا ہے جو مارچ 22-2021 میں ایک ہزار 400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں مہنگائی کم سے کم کی گئی، مہنگائی کی شرح تقریبا 5 فیصد کے قریب تھی جب کہ افراط زر کی کم سے کم شرح 3عشاریہ 9 فیصد ریکارڈ کی گئی، گزشتہ پونے 4 سال کی بد انتظامی کی وجہ سے پاکستان ایک مستقل مہنگائی کی لہر میں ہے کیونکہ گزشتہ وزیراعظم کہتے تھے کہ میں پیاز اور ٹماٹر کے ریٹ دیکھنے نہیں آیا بلکہ ملک کو عظیم بنانے آیا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ غریب آدمی کی مہنگائی کی چکی میں پیس کر کوئی ملک کیسے عظیم بن سکتا ہے،مجھے سمجھ نہیں آتی کہ عمران خان کی حکومت آتے ہی چینی اور آٹے کی قیمتیں کیوں بڑھ گئیں، 2013 میں چینی کی قیمت 55 روپے فی کلو تھی اور 2018 میں جب ہم گئے تو چینی کی قیمت 53 روپے تھی مگر پھر 2018 کے بعد چینی کی قیمت کو پر لگ گئے اور اس کی قیمت 140 روپے سے تجاوز کر گئی،پھر وزیراعظم شہباز شریف آئے جو چینی کی قیمت 70 روپے فی کلو پر لے آئے، اسی طرح ہم 2018 میں آٹے کی قیمت 35 روپے فی کلو چھوڑ کر گئے جو نئے پاکستان میں بڑھ کر 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، پھر شہباز شریف نے یوٹیلٹی اسٹورز اور بہت سی دکانوں پر آٹا 40 روپے فی کلو فراہم کرنا شروع کیا، جب 2018 میں ہماری حکومت گئی تو پاکستان گندم اور چینی برآمد کر رہا تھا مگر اب ہم دونوں چیزیں درآمد کر رہے ہیں جس کی وجہ سابقہ حکومت کے غلط فیصلے ہیں، ہمارے ایل این جی کے معاہدوں پر جھوٹے الزامات لگائے گئے جس کی وجہ سے کئی رہنماؤں کو جیل کاٹنا پڑی، سابقہ حکومت نے کورونا کے دوران سستے ترین نرخوں پر معاہدے کرنے کے بجائے مہنگے داموں پر اسپاٹ خریداری کی، اس کی وجہ سے ہمیں مہنگی ایل این جی خریدنا پڑھ رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا جب عمران خان کو فروری کے آخر میں لگا کہ ہماری حکومت جارہی ہے تو انہوں نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں جب کہ پاکستان کا خزانہ قرضے پر چل رہا تھا، اس فیصلے سے پاکستان کی معیشت بحران میں پھنس گئی جس کو نکالنے کی کوشش جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے پیش نظر غریب طبقے کو تحفظ دینے کا فیصلہ کیا، 40 ہزار روپے ماہانہ کم آمدنی والے خاندانوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ دینے کا فیصلہ کیا گیا، 2013 سے 2018 کے درمیان پاکستانی کرنسی میں استحکام نظر آیا مگر پھر معاشی بد انتظامی کی بنا پر 2018 سے 2022 کے درمیان روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی، روپے کے مقابلے میں ڈالر 115 روپے سے 189 تک پہنچ گیا اور آفر شاکس کی وجہ سے 200 کی حد بھی پار کرگیا، ہم نے کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

بجٹ تقریر میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سے ریلیف دیا جائے، اس مقصد کے لیے امداد اور سبسڈی کے اقدامات کیے ہیں، اس مقصد کے لیے امیر لوگوں پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ زرعی پیداوار میں اضافہ کریں گے، صنعتوں کو ترقی دیں گے، برآمدات میں اضافہ کریں گے جس سے زر مبادلہ حاصل ہوگا،نئے محصولات کے ساتھ ساتھ حاصل ہونے والے محصولات کے انتظام و انصرام کو بہتر بنایا جائے گا، کفایت شعاری حکومت کی ترجیح ہے، حکومتی اخراجات میں کمی اس بجٹ کا حصہ ہے، گاڑیوں، فرنیچر پر پابندی ہوگی، کابینہ اور سرکاری اہلکاروں کی پیٹرول کی حد کو 40 فیصد کم کیا جائےگا، لازمی دوروں کے علاوہ دوروں پر پابندی ہوگی،بجٹ میں پینشن کی مد میں اگلے مالی سال میں 530 ارب روپے کا تخمینہ ہے، ملک کی معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے نظام وضع کیا ہے جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بغیر معاشی ترقی حاصل کرنا چیلنج ہے، اگلے سال توازن کو خراب کیے بغیر کم از کم 5 فیصد گروتھ حاصل کی جائے گی، اس طرح جی ڈٰی پی کو 67 کھرب روپے سے بڑھا کر اگلے مالی سال کے دوران 78 عشاریہ 3 کھرب روپے تک پہنچایا جائے گا، اس وقت افراط زر 11.7 فیصد ہے جو کہ گزشتہ دس برسوں کے مقابلے میں سب سے بلند سطح پر ہے، فسکل پالیسی اور مالیاتی پالیسی کو بہتر بناتے ہوئے مہنگائی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگلے مالی سال میں افراط زر میں کمی کرکے گیارہ عشاریہ پانچ فیصد پر لایا جائےگا۔

انہوں نے بتایا کہ ایمرجنگ مارکیٹ ممالک میں ٹیکس کی شرح جی ڈی پی کا تقریباً 16 فیصد ہےمگر پاکستان میں یہ شرح 8 عشاریہ 6 فیصد ہے، اگلے مالی سال کے دوران یہ شرح 9عشاریہ 2 فیصد تک لے جانے کی تجویز ہے، 2017،18 میں یہ 11 عشاریہ ایک فیصد پر چھوڑ کر گئے تھے،اس سال جی ڈی پی کا مجموعی خسارہ 8 عشاریہ 6 فیصد ہے، اس میں بتدریج کمی کی جائے گی، اگلے سال میں کمی لا کر 4 عشاریہ 9فیصد تک کیا جائےگا، اسی طرح مجموعی پرائمری بیلنس جو جی ڈی پی کا منفی 2 عشاریہ 4 فیصد ہے اس میں بہتری لا کر اگلے مالی سال میں اس کو مثبت صفر عشاریہ انیس فیصد پر لایا جائے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، درآمدات اس وقت 76 ارب ڈالر کی متوقع ہیں، اگلے سال ان میں کمی 70 ارب ڈالر کی سطح پر لائی جائیں گی، برآمدات اس وقت 31 عشاریہ 3 ارب ڈالر ہیں، اگلے مالی سال ان کو 35 ارب ڈالر تک بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں گے، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کو جی ڈٰی پی کے منفی 4 عشاریہ ایک فیصد سے گھٹا کر الگے مالی سال میں جی ڈی پی کے منفی 2۔2 فیصد پر لایا جائےگا، رواں سال ترسیلات زر 31 عشاریہ ایک ارب ڈالر ریکارڈ ہوں گی،اگلے مالی سال میں ترسیلات زر 33 عشاریہ 2فیصد ارب ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے، اس سال سود کی ادائیگی میں کل 3، 144 ارب روپے ہوں گے جس میں مقامی سود کی ادائیگی 2،770 ارب روپے بیرونی سود کی ادائیگی 373 ارب روپے ہونے کا تخمینہ ہے جب کہ اگلے سال اس مد میں کل ادائیگی 3 ہزار 950 ارب روپے ہونے کا تخمینہ ہے جس میں سے 3ہزار 439 ارب اندرونی اور 511 ارب روپے غیر ملکی قرضوں پر خرچ ہوں گے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا عوامی قرض جو کہ 18-2017 میں 25ہزار ارب روپے تھا، مارچ 2022 میں 44 ہزار 365 ارب روپے تک پہنچ گیا جو جی ڈی پی کا 72 عشاریہ 5فیصد ہے، ہم نے مالی سال کے آخری دو ماہ میں اخراجات میں کمی کے ذریعے قرض میں اضافے کی رفتار کو کم کیا ہے، قانون کے مطابق حکومت کے قرض لینے کی حد جی ڈی پی کا 60 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ بجٹ کا تخمینہ بتانے سے پہلے آمدنی اور اخراجات کا جائزہ پیش کرتا ہوں،رواں مالی سال ایف بی آر ریونیو 6 ہزار ارب، صوبوں کا حصہ 3ہزار 512 ارب جبکہ وفاق کی خالص آمدنی 3 ہزار 803 ارب روپے رہی،وفاقی حکومت کی نان ٹیکس آمدنی ایک ہزار 315 ارب جبکہ کُل اخراجات 9 ہزار 118 ارب ہوں گے،پبلک سروس ڈیولپمنٹ پرگرام پر اخراجات 5 سو 50 ارب ہوں گے،ڈیٹ سروسنگ کی مد میں 3 ہزار 144 ارب خرچ ہونگے،دفاع پر 1 ہزار 450 ارب اخراجات آئیں گے،وفاقی حکومت کے اخراجات 5 سو 30 ارب ہوں گے،پنشن پر 5 سو 25 ارب کے اخراجات ہوں گے،سبسڈیز کی مد میں 1 ہزار 515 ارب جبکہ گرانٹ کی مد میں 1 ہزار 90 ارب خرچ ہوئے۔

مفتاح اسماعیل نےبجٹ 23-2022 کے اہداف کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کا تخمینہ 7 ہزار 4 ارب لگایا گیا ہے، صوبوں کا حصہ 4 ہزار 100 ارب ہو گا،وفاق کی خالص آمدنی 4 ہزار 904 ارب روپے ہوگی جس میں 2 ہزار ارب کی نان ٹیکس آمدنی بھی شامل ہے،وفاقی بجٹ کے کُل حجم کا تخمینہ 9 ہزار 502 ارب روپے ہے،ڈیٹ سروسنگ پر 3 ہزار 950 ارب کے اخراجات ہوں گے،پبلک سروس ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 800ارب کی رقم مختص کی گئی ہے،دفاع کے لیے 1 ہزار 523 روپے مختص کیے گیے ہیں،سول انتظامیہ کے اخرجات کے لیے 550ارب رکھے گئے ہیں،پنشن کے لیے 530 ارب مختص کیے گئے ہیں،ٹارگیٹد سبسڈیز کے لیے 699 ارب روپے مختص،گرانٹ کے لیے ایک ہزار 242 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، بیت المال اور دیگر محکموں کی گرانٹس شامل ہیں،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ( بی آئی ایس پی) کے لیے 23-2022 میں بڑھا کر 364 ارب روپے مختص، جو 22-2021 میں 250 ارب روپے تھی،بی آئی ایس پی کے تحت 90 لاکھ خاندانوں کو بے نظیر کیش ٹرانسفر کے تحت 2 سو 66 ارب مختص کیے گئے ہیں،بے نظیر تعلیمی وظائف پروگرام ایک کروڑ بچوں تک بڑھانے کے لیے 35 ارب روپے رکھے گئے ہیں،10 ہزار طلبہ کو بے نظیر انڈر گریجویٹ اسکالرشپ کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن پر سبسڈی کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ رمضان پیکیج کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ صنعت و تجارت کی توانائی کے لیے 570 ارب روپے رکھے گئے ہیں،پیٹرولیم کے شعبے کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 71 ارب روپے مہیا کئے ہیں،ہائر ایجوکیشن کیشن ( ایچ ای سی ) کے لیے 65 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے،ایچ ای سی کے ترقیاتی اسکمیوں کے لیے 44 ارب روپے علیحدہ رکھے گئے ہیں،ایچ ای سی کے بجٹ میں بلوچستان اور ضم شدہ اضلاع کے 5 ہزار وظائف شامل ہیں،طلبہ کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ آسان اقساط پر فراہم کریں گے،فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے 21 ارب روپے مختص کئے ہیں،یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی’ کے تحت 20 لاکھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقعوں تک رسائی یقینی بنائی جائے گی،کاروبار کے فروغ کے لیے نوجوانوں کو 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے دیے جائیں گے،کاروبار کے فروغ کے لیے نوجوانوں کو ڈھائی کروڑ تک آسان شرائط پر قرضے دیے جانے کی اسکیم کا اجرا کریں گے،قرضہ اسکیم میں 25 فیصد خواتین کا کوٹہ مختص،خواتین کو ہائی ٹیک اور دیگر اسکلز کے ساتھ یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں گے،250 منی سپورٹس اسٹیڈیم بنائے جائیں گے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جناب سپیکر صنعت کسی بھی ملک کے لیے نہایت ضروری ہے اور لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنتی ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے صنعتی پالیسی پر کام شروع کر دیا ہے، برآمدکنندگان کو ڈی ایل ٹی ایل کے تمام کلیم فوری ادا کیے جائیں گے، مرکزی بینک آف پاکستان کے تصدیق شدہ 40.5 ارب روپے واجب الادا ہیں جبکہ صنعت کاروں کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کے لیے لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دیا جائے گا،چائنا پاکستان اقتصادی راہدری پر 9 خصوصی اکنامک زون بنائے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ چین اور دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کو کارخانے لگانے کی سہولت فراہم کی جائے گی، گزشتہ حکومت نے اس کام کی رفتار میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور اب تک ایک بھی خصوصی اکنامک زون فعال نہیں ہوسکا۔

فلم انڈسٹی کےحوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2018 میں کی تاریخ میں پہلی ‘فلم اور کلچر پالیسی’ ہمارے دور میں کابینہ نے منظور کی تھی، بدقسمتی سے چار سال سے اس پر عمل نہیں ہوسکا، فلم کو صنعت کا درجہ دے دیا گیا ہے اور ایک ارب کی سالانہ لاگت سے ‘بائڈنگ فلم فنانس فنڈ قائم’ کر دیا گیا ہے اور فنکاروں کے لیے میدیکل انشورنس پالیسی شروع کی جائے گی، پانچ سال کا ٹیکس ہالیڈے، نئے سینما گھروں، پروڈکشن ہاؤسز، فلم میوزیمز کے قیام پر پانچ سال کا انکم ٹیکس اور دس سال کے لیے فلم اور ڈرامہ کی برآمد پر ٹیکس ری بیٹ دی جائے گی،سینما اور پروڈیوشرز کی آمدن کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا جارہاہے،ایک ارب روپے کی لاگت سے ‘نیشنل فلم انسٹی ٹیوٹ’ اور ‘پوسٹ فلم پروڈکشن سہولت’ کے علاوہ نیشنل فلم اسٹوڈیو کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، غیر ملکی فلم سازوں کو مقامی سطح پر فلم اور ڈرامے کے مشترکہ منصوبوں پر ری بیٹ دے رہے ہیں تاہم 70 فیصد مواد کی پاکستان میں شوٹنگ کرنا ہوگی،ڈسٹری بیوٹرز اور پروڈیوسرز پر عائد 8 فیصد ‘وودہولڈنگ ٹیکس’ ختم کیا جارہا ہے، فلم، ڈراموں کے لیے مشینری، آلات اور سازو سامان کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی سے 5 سال کا استثنیٰ دیا جارہا ہے جبکہ سیلز ٹیکس صفر اور انٹرنیٹمنٹ ڈیوٹی ختم کررہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے بارے میں بتایا کہ اگلے مالی سال کے لیے 8 سو ارب روپے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام ( پی ایس ڈی پی) کے لیے رکھے گئے ہیں، ہم نے 2017-18 میں وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار روب روپے چھوڑا تھا جو موجودہ حکومت نے تقریباً آدھا کردیا، ہم جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر توجہ دیں گے تاکہ ان پر لگائی گئی رقمیں ضائع نہ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی پر زیادہ رقم خرچ کی جائے گی تاکہ بلوچستان ملک کے باقی حصوں کے برابر لایا جاسکے،صوبوں خصوصی علاقہ جات (آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان) کے لیے پی ایس ڈی پی میں ایک سو 36 ارب روپے کر دی گئی ہے،ڈیم اور دیا میر بھاشا ڈیم کو وقت سے قبل مکمل کرنے کے لیے اضافی رقوم مختص کی گئی ہیں،چین کی سرحد سے دونوں بندرگاہوں کو ملانے والی شاہروں کو مکمل کیا جائے گا، سی پیک کے تحت انفرااسکٹرچر اور اقتصادی زونز کے منصوبوں میں تیزی لا کر ترقی کی رفتار بڑھانے اور برآمدات میں اضافہ کرنے پر توجہ دی گئی ہے، 3 سو 95 ارب روپے انفراسٹرکچر کے لیے رکھے گئے ہیں،توانائی / بجلی کی ترسیل اور تقیسم کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیح ہے، بجلی کے شعبے کے لیے 73 ارب روپے کی رقم مہیا کی جائے گی جس میں سے 12 ارب روپے مہمند ڈیم کی جلد تکیمل کے لیے خرچ کئے جائیں گے،آبی وسائل کے لیے بڑے ڈئیموں، دیامر بھاشا، مہمند، داوس، نئی گاج ڈیم اور کمانڈ ایریا پروجیکٹس کے کے لیے بجٹ میں سو ارب روپے رکھے گئے ہیں،چھوٹے ڈیموںِ نکاسی آب کی اسکمیوں، توانائی اور آبی وسائل کے منصوبوں کے لیے ایک سو 83 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر بجٹ تقریز میں کہا کہ شاہراہوں اور بندرگاہوں کے لیے 2 سو 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ حکومتی سرمایہ کاری کے علاوہ اہم شاہراہوں کی تعمیر کے لیے غیر سرکاری سرمایہ بھی استعمال کررہے ہیں، نجی شعبے کے اشتراک سے شاہراہیں تعمیر کرنے کو مزید فروغ دیا جائے گا، ایس ڈی جیز کے اہداف اور عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے 70 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، اس کے علاوہ دیگر اسکیموں کے لیے 40 ارب رکھے گئے ہیں، جاری منصوبوں کے تکمیہل اور اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں کے لیے 51 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، عوام کو صحت کی بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے 24 ارب روپے رکھے گئے ہیں، مشکل وقت میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس میں شجرکاری اور قدرتی ماحول بہتر بنانے کے منصوبے شامل ہیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے میں تربیت دینے، لیپ ٹاپ فراہم کرنے، آئی ٹی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے 17 ارب روپے رکھے گئے ہیں، زارعت اور تحفظِ خوراک کے لیے زرعی شعبے میں جدید مشینوں کا استعمال بڑھانے، لیزر سے زمین ہموار کرنے، آبپاشی میں جدت لانے، معیاری بیجوں کی فراہمی اور زرعی پیداوار کی برآمدات کے لیے 11 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،خصوصی اکنامک زونز میں انفرااسٹرکچر، برآمدات، مؤثر مارکیٹنگ، معدنیات کے شعبے اور انڈسٹری کے دیگر شعبہ جات کے لیے سرمایہ کاری کے لیے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس سال ٹیکس پالیسی کے بنیادی اصول یہ ہیں،1۔براہ راست ٹیکس یعنی انکم ٹیکس اور کیپٹل ویلیو ٹیکس پر زیادہ انحصار کرنا،2۔غیر پیدواری اثاثہ جات پر ٹیکس کا نفاذ،3۔پروگریسو ٹیکس کا فروغ،4۔پیداواری اثاثہ جات کی حفاظت،5۔صاحب ثروت افراد پر ٹیکس۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار نہیں، ٹیکس کا موجودہ نظام آجروں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، جبکہ ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو ناخوشگوار پہلو اور معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈالتا ہے، رئیل اسٹیٹ کی قیمت میں منصوبی اضافے کا باعث بنتا ہے جس سے متوسط طبقے سے رہائشی سہولت دور ہو جاتی ہے، ہم رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہیے لیکن ہم اس شعبے کو ایسی سمت میں لے جانا چاہتے ہیں جہاںیہ شہروں کی ترقی کا انجن بن سکے۔

انکا کہنا تھا اس لیے ہم عمودی تعمیرات کے کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں جو کہ پوری دنیا میں رائج ہے جس سے غیر تعمیر شدہ پلاٹوں پر سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوسکے،حکومت کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، بدقسمتی سے انکم ٹیکس کی وصولی کا بڑا حصہ ‘وود ہولڈنگ’ پر مبنی ہوتا ہے، جو ٹیکس کے ڈھانچے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے اور کاروبار کرنے میں مشکلات کا سبب بنتا ہے، ہم اس بگاڑ کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہماری ترجیحات میں وودہولڈنگ ٹیکس کی تعداد کو کم کرنا ، فائنل ٹیکس کو کم از کم ٹیکس میں تبدیل کرنا اور کم از کم ٹیکس کو ایڈجسٹبل ٹیکس میں بدلنا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کی معاشی پریشانی کے ازالے کے لیےٹیکس چھوٹ کی موجودہ حد لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے،کاروباری افراد اور اے او پیز کے لیے چھوٹ کی بنیادی حد 4 لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ کرنے کی تجویزہے،بہبود سیونگ سرٹیفیکیٹس، پینشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویزہے،چھوٹے ریٹیلرز کے لیے فکسڈ انکم اینڈ سیلز ٹیکس کا نظام تجویز کیا گیا جس میں 3 ہزار سے 10 ہزار روپے تک ٹیکس کی وصولی بجلی کے بلوں کے ساتھ کی جائے گی، اس ٹیکس کی ادائیگی کے بعد ایف بی آر کوئی سوال پوچھنے کا مجاز نہیں ہوگا،صنعتی اداروں اور دیگر کاروباروں کو پہلے سال میں اِنیشل ڈیپریسئیشن کی مد میں 100 فیصد ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دینے کی تجویزہے،درآمد کے وقت صنعتی اداروں سے حاصل ہونے والے تمام ٹیکسوں کو ایڈجسٹ ایبل قرارر دینے کی تجویزہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا وہ تمام افراد جن کی ایک سے زائد غیر منقولہ جائیداد پاکستان میں موجود ہے اور اس کی مالیت 25 ملین روپے سے زائد ہو اس پر فیئر مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے برابر فرضی آمدن/کرایہ تصور کیا جائے گا جس کے نتیجے میں پراپرٹی کی فیئر مارکیٹ ویلیو کے ایک فیصد کی شرح مؤثر ہوگی، تاہم ہر کسی کا ایک عدد ذاتی رہائشی گھر اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگا،پاکستان میں موجود غیرمنقولہ جائیداد کے کیپٹل گین پر ایک سال ہولڈنگ پیریڈ کی صورت میں 15 فیصد ٹیکس (جو کہ ہر سال ڈھائی فیصد کی کمی کے ساتھ 6 سال کے ہولڈنگ پیریڈ کی صورت میں صفر ہوجائے گا) لاگو کرنے کی تجویزہے،فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح موجودہ ایک فیصد شرح سے بڑھا کر 2 فیصد کرنے کی تجویزہے،نان فائلرز کی حوصلہ شکنی کے لیے پراپرٹی کے خریداروں کے لیے ایڈوانس ٹیکس کی شرح بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی تجویزہے،تمام افراد بشمول کمپنیز اور اے او پیز جن کی سالانہ آمدن 300 ملین یا اس سے زائد ہو ان پر 2 فیصد ٹیکس ادا کرنے کی تجویزہے،1600 سی سی سے زائد کے موٹر گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس بڑھانے کی تجویزہے،الیکٹرک انجن کی صورت میں قیمت کے 2 فیصد کی شرح سے ایڈوانس ٹیکس بھی وصول کیا جائے گا،نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح کو موجودہ 100 فیصد سے بڑھا کر 200 فیصد کیا جائے گا،بینکنگ کمپنیوں پر ٹیکس (جس میں سپر ٹیکس بھی شامل ہے) کی موجودہ شرح 39 فیصد سے بڑھا کر 42 فیصد کرنے کی تجویزہے،پاکستان کا کوئی بھی شخص جو کسی دوسرے ملک کا ٹیکس ریذیڈنٹ نہیں ہے اسے پاکستان کا ٹیکس ریذیڈنٹ سمجھے جانے کی تجویزہے،کریڈٹ، ڈیبیٹ اور پری پیڈ کارڈز کے ذریعے پاکستان سے باہر رقم بھیجنے والے فائلرز کے لیے ایک فیصد اور نان فائلرز افراد کے لیے 2 فیصد کی شرح سے ایڈوانس ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جائے گا، تاہم یہ ٹیکس واجب الادا ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ ایبل ہوگا۔

مفتاح اسماعیل نے آئندہ مالی سال کے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز کے اقدامات کے حوالے سے کہا کہ اِن ڈائریکٹ ٹیکس کی وصولی میں ان لینڈ ریونیو کا ایف بی آر کے مجموعی ٹیکس محصولات میں صحت مند اضافہ،سولر پینلز کی درآمد اور مقامی سپلائی کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے،200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سولر پینل کی خریداری پر بینکوں سے آسان اقساط پر قرضے دلائے جائیں گے،ٹریکٹرز، زرعی آلات، گندم، مکئی، کینولا، سورج مکھی اور چاول سمیت مختلف اجناس کے بیجوں کی سپلائی پر ٹیکس واپس لینے کی تجویزہے،خیراتی ہسپتال کو درآمد/عطیات اور 50 یا اس سے زائد بستروں والے خیراتی/غیر منافع بخش ہسپتالوں کو بجلی سمیت مقامی سپلائیز پر مکمل چھوٹ دینے کی تجویزہے۔

وفاقی وزیر نے کہا نئے میکانزم کے تحت ٹیکس دہندگان اے ڈی آر سی میں اپنا نمائندہ اپنی مرضی سے نامزد کرسکتے ہیں، دوسرا نمائندہ ایف بی آر کا افسر اور تیسرا نمائندہ ٹیکس پیئر اور ایف بی آر کی باہمی رضامندی سے ہوگا، اس میکانزم کی بدولت 3 میں سے 2 ممبران ٹیکس دہندگان کی مرضی سے نامزد ہوں گے،زرعی مشینری پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے جس میں آبپاشی، نکاسی آب، کاشتکاری، فصلوں کی کٹائی اور اس کی پراسیسنگ، گرین ہاؤس فارمنگ اور پودوں کو محفوظ بنانے کے آلات شامل ہیں،دیگر زرعی صنعتوں کے ساز وسامان، مشینری اور زرعی شعبے پر قائم صنعتوں کے لیے بھی کسٹم ڈیوٹی کتم کی جارہی ہے،مختلف مینوفیکچرنگ سیکٹرز سے متعلق تقریباً 400 ٹیرف ہیڈنگز پر کسٹمز ڈیوٹی، اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیرٹی ڈیوٹی کو ریشنلائز کیا گیا ہے،مصنوعی دھاگے پر ٹیرف کا ڈھانچہ ریشنلائز کیا گیا ہے،30 سے زائد ایکٹو فارما سیوٹیکل انگیریڈینٹس کو کسٹم ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ دے دیا گیا،فرسٹ ایڈ بینڈیجز بنانے والی صنعت کے خام مال کو بھی کسٹم ڈیوٹی سے مزید استثنیٰ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا دیرینہ مطالبہ منظور کرلیا گیا۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ تقریر کے بعد نے ایوان میں فنانس بل 2022 پیش کیا،فنانس بل پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے ایوان کی کارروائی 13 جون بروز پیر سہ پہر 4 بجے تک ملتوی کردی۔

Related Articles

Back to top button