لاپتہ افراد کمیشن بوجھ بن چکا، وجود کا جواز پیش کرنے میں ناکام

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ افراد سے متعلق ایک کیس میں آبروزیشن دی ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم لاپتا افراد کمیشن ایک بوجھ بن گیا ہے اور اپنے وجود کا جواز پیش کرنے میں ناکام ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتا افراد کے کیس میں ایک حکم جاری کیا کہ جب یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہوں کہ بادی النظر میں یہ ‘جبری گمشدگی’ کا مقدمہ ہے تو یہ ریاست اور اس کے تمام اداروں کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ لاپتا شہری کا سراغ لگائیں، یہ ذمہ داری اس وقت تک رہے گی جب تک کہ متاثرہ شخص کا سراغ نہیں لگا لیا جاتا یا اس کے بارے میں مؤثر تحقیقات کے ذریعے معتبر معلومات اکٹھی نہیں کر لی جاتیں۔

عدالت عالیہ کاکہنا تھایہ ریاست کے ہر ادارے کی آئینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان عوامی اداروں کو جوابدہ ٹھہرائیں جو ذمہ دار ہیں اور جو لاپتا ہونے والے شہری کی حفاظت اور ان کا سراغ لگانے میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر ایسی کوئی چیز پیش نہیں کی گئی کہ کمیشن نے دور بیٹھے ہی سرکاری عہدیداروں کو پروڈکشن آرڈرز کی تعمیل میں ناکامی پر جوابدہ ٹھہرانے کی کوشش کی ہو،عدالت رپورٹ دیکھنے کے بعد بادی النظر میں یہ رائے دیتی ہے کہ کمیشن اپنی ذمہ داری میں ناکام رہا اور ان حالات میں اپنے وجود کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آبزرویشن دی کہ کمیشن تقریباً ایک دہائی قبل تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ ’جبری گمشدگیوں‘ پر سزا سے استثنیٰ کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کرنا تھا،یہ اب تک واضح ہو گیا ہے کہ کمیشن اپنے مقصد کو مؤثر طریقے سے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، یہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہے اور اسے اپنے جاری رکھے جانے کا جواز فراہم کرنا چاہیے۔

عدالت عالیہ نے کمیشن کو یہ بتانے کی ہدایت کی کہ کیوں کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور وفاقی حکومت کو سفارشات پیش نہیں کی گئیں تاکہ پروڈکشن آرڈر کی تعمیل میں ناکام رہنے والے افسران اور سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کی جاتی، یہ بات مسلسل نوٹ کی جاتی رہی ہے کہ کمیشن کے سامنے ہونے والی کارروائی مخالفانہ نوعیت کی نہیں ہے، کمیشن کو درخواست گزاروں اور لاپتا شہریوں کے دیگر تمام پیاروں کے تئیں انتہائی ہمدردی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کمیشن کا فرض ہے کہ وہ ان تک پہنچے اور اپنے طرز عمل سے انہیں یقین دلائے کہ کارروائی محض رسمی نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے امید ظاہر کی کہ کمیشن عدالت کو آگاہ کرے گا کہ بامعنی اور موثر کارروائیاں کیوں نہیں کی گئیں اور نہ ہی وفاقی حکومت کو پروڈکشن آرڈرز کی تعمیل کرنے میں ناکام رہنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارشات کی گئیں۔

واضح رہے کہ جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن 2011 میں قائم کیا گیا تھا جس کی سربراہی اس وقت سے جسٹس (ر) جاوید اقبال کر رہے ہیں،یہ کمیشن لاپتا افراد کا سراغ لگانے اور اس کے ذمہ دار افراد یا اداروں کا تعین کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2011 سے اب تک لاپتا افراد میں سے صرف ایک تہائی گھر واپس آئے ہیں۔

Related Articles

Back to top button