وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دعوؤں کے باوجود بلوچستان میں بلوچ قوم پرست نوجوانوں کے اغوا اور قتل کا لامتناہی سلسلہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ صوبہ بلوچستان میں ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت جبری گمشدگیوں کے کیسز زیادہ ریکارڈ کیے جاتے ہیں، اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ چھ سال قبل ڈیرہ بگٹی سے لاپتہ ہونے والے غلام یاسین بگٹی کی تشدد زدہ لاش ملنے کا ہے۔ یاسین کی لاش چمن کے قریب سے برآمد ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یاسین کا نام ان لا پتہ ہونے والے افراد کی لسٹ میں تھا جنکی گمشدگی کا الزام سکیورٹی اداروں پر عائد کیا جاتا ہے۔ ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے غلام رسول بگٹی نے بتایا کہ ہمیں امید تھی کہ ہمارے بھائی کو اسی طرح چھوڑ دیا جائے گا جس طرح 2012 میں انھیں لاپتہ کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا، مگر ایسا نہیں ہو سکا اور ہمیں ان کی تشدد زدہ لاش ملی ہے۔

ملک ریاض نے عمران کو کتنے ارب کی زمین رشوت دی؟

بتایا جاتا ہے کہ غلام یٰسین اپنے آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی میں سرکاری ملازم تھے جنہیں ان کے بھائی کے مطابق، دو مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، غلام رسول بگٹی نے بتایا کہ دوسری مرتبہ گمشدگی کے بعد نہ صرف کوئٹہ میں ایف آئی آر درج کرائی گئی بلکہ ان کا کیس جبری گمشدگیوں سے متعلق حکومتی کمیشن میں بھی زیر سماعت تھا۔ غلام یٰسین کی عمر چالیس سال کے قریب تھی، مرحوم نے ایف ایس سی تک تعلیم حاصل کی تھی جس کے بعد ڈیرہ بگٹی میں ہی محکمہ صحت میں بطور ڈسپینسر ملازمت اختیار کر لی تھی، وہ شادی شدہ تھے اور ان کے چار بیٹے ہیں، سب سے بڑے بیٹے کی عمر اب 12سال ہے، کوئٹہ میں گھر ہونے کے باعث ان کی رہائش کوئٹہ میں ہی تھی۔ کوئٹہ کے رہائشی غلام یٰسین بگٹی کی برآمدگی کے لیے اُن کے چاروں بیٹے ہڑتالی کیمپ پر بیٹھتے رہے لیکن اب اِن بچوں کو باپ کی تشدد زدہ لاش ملی ہے، غلام رسول بگٹی نے بتایا کہ غلام یٰسین کو دو مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، پہلے 2012 میں ان کو لاپتہ کیا گیا لیکن 20 دن بعد رہا کر دیا گیا۔ تب ان کے خلاف تین مقدمات قائم کیے گئے تھے، ایک کیس دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کاتھا جس میں انہیں انسداد دہشت گردی کوئٹہ کی عدالت نے بری کر دیا تھا جبکہ دو دیگر کیسز سیشن کورٹ میں زیر سماعت تھے، مگر انہیں جنوری 2016 میں دوبارہ جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا اور اغوا کا الزام سکیورٹی اداروں پر عائد کیا گیا تھا۔

دوسری مرتبہ جبری گمشدگی کی ایف آئی آر بھی سریاب تھانے میں درج کی گئی، ایف آئی آر کے مطابق غلام یٰسین بگٹی کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار اٹھا کر لے گئے تھے، غلام رسول بگٹی نے بتایا کہ دوسری مرتبہ اٹھائے جانے کے بعد ہم نے ان کا پتہ لگانے کی ہرممکن کوشش کی لیکن ان کا سراغ لگانے میں کامیابی نہیں ہوئی۔

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے وفاقی حکومت کو جن لاپتہ افراد کی فہرستیں پیش کی گئیں، ان میں غلام یٰسین بگٹی کا نام بھی شامل تھا۔

غلام رسول نے بتایا کہ بھائی کی جیب میں ان کا سروس کارڈ تھا جس پر درج پتے کی مدد سے لیویز فورس چمن کے اہلکاروں نے ڈیرہ بگٹی میں لیویز فورس کواطلاع دی، پھر ڈیرہ بگٹی سے ہمیں اس بارے میں بتایا گیا، بھائی کے جسم پر تشدد کے نشانات تو تھے لیکن کسی گولی کا کوئی زخم ان کے جسم پر نہیں تھا۔ ڈپٹی کمشنر چمن یاسر خان بازئی کے مطابق بائی پاس سے لاش کی برآمدگی کے بعد انتظامیہ نے اپنے طور پر اس حوالے سے مقدمہ بھی درج کر لیا ہے، سکیورٹی فورسز کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ بنیادی طور پرایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کے تحت دشمن پاکستان کو بدنام کرنے اور عوام کو حکومتی اداروں کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button