لاہور میں پارٹی ٹکٹس کی تقسیم، نون لیگ کیلئے گلے کی ہڈی کیوں؟

پاکستان میں آئندہ انتخابات کیلئے امیدواروں کی سکروٹنی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم ابھی تک مسلم لیگ ن یہ طے نہیں کر پائی ہے کہ لاہور میں اس کے امیدوار کون ہوں گے۔مسلم لیگ ن کے 35 رکنی پارلیمانی بورڈ نے ملک بھر سے امیدواروں کے انٹرویو کیے ہیں جبکہ لاہور کے امیدواروں کے انٹرویوز کو سب سے آخر میں رکھا گیا ہے۔اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ دو مرتبہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ٹکٹ کے خواہشمندوں کے انٹرویوز کو وقت اور تاریخ دے کر موخر کیا گیا ہے۔
گذشتہ ہفتے جب لاہور کے امیدواروں کی باری آئی تو پارلیمانی اجلاس شروع ہونے سے پہلے ایجنڈا تبدیل کر دیا گیا۔ 28 دسمبر کو دوبارہ لاہور کے امیدواروں کو طلب کیا گیا لیکن دوحلقوں سے متعلق امیدواروں کے انٹرویوز کر کے اجلاس کو ایک بار پھر موخر کر دیا گیا۔اس اجلاس میں حلقہ 121 کے امیدوار زیر بحث آئے۔ اس حلقے سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور شیخ روحیل اصغر دونوں امیدوار ہیں۔نئی حلقہ بندیوں کے سبب سردار ایاز صادق کا 58 فیصد حلقہ اس نئے حلقے میں جا چکا ہے، اور دونوں امیدوار بضد ہیں کہ اس حلقے سے انہیں ٹکٹ دیا جائے۔
شیخ روحیل اصغر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارٹی ان کو ٹکٹ دے یا نہ دے وہ ہر صورت میں الیکشن لڑیں گے۔ جبکہ ان کے فرزند خرم روحیل اصغر بھی آزاد امیدوار ہوں گے۔ لیگی اجلاس میں پیدا ہونے والی تلخی کے بعد ایک مرتبہ پھر لاہور کے حلقوں کے امیدواروں کے انٹرویوز کو موخر کر دیا گیا۔
دوسرا حلقہ جو لیگی اجلاس میں زیر بحث آیا وہ شاہدرہ کا حلقہ این اے 117 ہے جہاں سے علیم خان نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔ یہاں سے مسلم لیگ کے دیرینہ امیدوار ملک ریاض ہیں۔
پارلیمانی بورڈ میں شریک ایک لیگی رہنما نےنام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سردار ایاز صادق اور روحیل اصغر والا معاملہ سنجیدہ ہے۔ کسی ایک کو بھی ٹکٹ ملا تو دوسرا ناراض ہو جائے گا۔ اس لیے پارٹی میں یہ ڈسکس ہو رہا ہے کہ کسی ایک کو سینیٹ کی چئیرمین شپ آفر کی جائے۔ جبکہ حلقہ این اے 117 میں امکان ہے کہ مسلم لیگ ن علیم خان کی حمایت میں اپنا امیدوار نہیں لائے گی۔ لیکن ابھی لاہور کے حلقوں کے حوالے اجلاس دوبارہ ہو گا تو صورت حال واضح ہو گی۔‘

مسلم لیگ ن کی لاہور میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے مشکلات میں سے ایک استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ والے معاملات بھی ہیں۔ کیونکہ علیم خان اور عون چوہدری سمیت کئی رہنماؤں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔
سردار ایاز صادق کے مطابق ’ابھی تک پارٹی نے لاہور سے ٹکٹوں کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا۔ جو بات شیخ روحیل اصغر نے کی ہے میں وہ نہیں کر سکتا۔ پارٹی نے جو بھی فیصلہ کیا مجھے ہر صورت قبول ہو گا۔ لیکن اس ساری کہانی میں اصل مصیبت خرم روحیل اصغر کو ہے۔ کیونکہ ایک طرف ان کے والد ہیں اور ایک طرف میں ان کا چچا ہوں۔ یہ الیکشن پاکستان کے لیے بڑے اہم ہیں اس لیے ہمیں چھوٹی باتوں سے نکل کر ملک کا سوچنا ہو گا۔‘
سیاسی مبصرین کے خیال میں مسلم لیگ ن نے لاہور میں امیدواروں کے انٹرویوز میں تاخیر اسی وجہ سے کی کہ یہاں صورت حال پیچیدہ ہے۔سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’نواز شریف کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ لاہور میں ٹکٹوں کی تقسیم کیسے ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس دفعہ دباؤ ضرورت سے زیادہ ہے اور اس سے پہلے پارلیمانی بورڈ کے سامنے انٹریوز کا تصور بھی نہیں تھا۔ بورڈ تو صرف فائلوں کو دیکھ کر ٹکٹوں کا فیصلہ کرتا تھا۔ انٹرویو رکھے ہی اس لیے گئے ہیں کہ صورت حال زیادہ پیچیدہ ہے۔ لیکن جہاں تک میرا خیال ہے انٹرویوز سے معاملات بہتر نہیں ہوئے بلکہ اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ آخری اور حتمی فیصلہ نواز شریف کا ہی ہوگا۔‘

Related Articles

Back to top button