معزز ججوں پر عمرانڈو ہونے کے الزام میں کتنا وزن ہے؟


عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی اور اسلام آباد میں توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے واقعات پر کوئی ایکشن نہ لینے کے باعث اعلیٰ عدلیہ کے جج سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں اور انہیں عمرانڈو جج قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا ناقدین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے جس طرح حکومت کے انتظامی اختیارات اپنے قبضے میں لے کر عمران کے ناکام لانگ مارچ کو نئی زندگی دی اس سے یوں لگتا ہے کہ جج صاحبان جج نہیں بلکہ یوتھیے ہیں۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے عمران خان کے لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے ملک بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گے تھے اور راستے بند کر دئیے گئے تھے جس وجہ سے کپتان کے قافلے کا اسلام آباد پہنچنا ناممکن ہو گیا تھا۔

تاہم اس موقع پر جسٹس اعجاز الحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بینچ عمران کے ریسکیو کے لئے میدان میں اترا اور وفاقی حکومت کو راستے کھولنے اور عمران کو جلسے کے لیے گراؤنڈ فراہم کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک آئین شکن شخص کی سرزنش کرنے اور اسے اسلام آباد میں تباہی اور بربادی مچانے سے باز رکھنے کی بجائے اس کی کھلم کھلا حوصلہ افزائی کی اور سہولت کاری کے فرائض انجام دیے۔ سونے پر سہاگا یہ کہ جب وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں ہونے والی تباہی اور بربادی کے اگلے روز سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے احکامات کی دھجیاں بکھیرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کیے بغیر ہی کیس نمٹا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے وقت عمران خان شہر میں موجود نہیں تھے، اور ویسے بھی مظاہرین نے جو کچھ کیا وہ پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا ردعمل تھا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے جس طرح عمران خان کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کا دفاع کیا اس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ان کا تعلق تحریک انصاف کی جج ونگ سے ہے۔

سوشل میڈیا پر جسٹس اعجاز الحسن سب سے زیادہ تنقید کی زد میں ہیں اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ عمران کو جلسے کی اجازت دینے اور پھر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر اسکے خلاف کوئی حکومتی درخواست پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت کے رویے سے تاثر ملتا ہے کہ شاید عمران خان ہر قانون اور ضابطے سے بالاتر ہے اور اس کو آئین شکنی کی کھلی اجازت ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے عمران خان کے خلاف لانگ مارچ کے دوران عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے برعکس چلنے پر عدالتی کارروائی شروع کرنے کی درخواست نمٹا دی جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنی درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدالت کے حکم کے باوجود عمران نے اپنے کارکنوں کو سرینگر ہائی وے کی بجائے ڈی چوک پہنچنے کی تاکید کی جس کے بعد اسلام آباد توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کی لپیٹ میں آگیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ تحریک انصاف کو اسلام آباد میں جلسے کے لیے موزوں جگہ فراہم کی جائے، جلسہ گاہ کی سکیورٹی کا بندوبست کیا جائے اور راستے سے تمام رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جلسے کے شرکا ریڈ زون میں داخل نہ ہوں اور سرکاری و نجی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے۔ دوران سماعت ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے کہ عمران خان کو ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے غلط بتایا گیا ہو، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلسل مظاہرین پر شیلنگ کی۔

عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹائے جانے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر اس فیصلے بارے بھرپور بحث جاری ہے جس میں انتظامی امور میں عدلیہ کے فیصلوں پر رائے دی جا رہی ہے۔ سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس چند حلقوں کی جانب سے پیدا کردہ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ عدلیہ کا جھکاؤ ایک جماعت کی طرف تھا تاہم ان کا ماننا ہے کہ میڈیا کی وجہ سے یقیناً سپریم کورٹ زیر اثر ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے آج آبزرویشن دی کہ سیاسی جماعتوں کے رویے سے اعتماد کو دھچکا لگا ہے، اس سے عدالت کی مایوسی کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ عدالت نے ایچ نائن میں جلسہ کی جگہ کا تعین کیا تھا لیکن عمران خان ڈی چوک چلے گئے اور اگر توہین عدالت عائد ہوتی ہے تو حکومت نے بھی عدالت کی واضح ہدایت کے باوجود راہ میں رکاوٹیں ڈالیں اور شیلنگ کی۔

مظہر عباس کے مطابق ’ہر اداراہ پولرائزڈ ہے اور فیصلے کو فیصلے کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ اگر فیصلہ بارہ بجے آتا ہے کسی کو فائدہ دیتا ہے توکہا جاتا ہے کہ فلاں کے خلاف ہے، اگر رات کو 11 بجے فیصلہ آتا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ یہ قانون اور اصول کی جنگ ہے۔ اب جو حتمی تحریری فیصلہ آئے گا اس میں مستقبل کے دھرنوں کے حوالے سے پالیسی واضح ہو گی۔‘ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ ’یہ توقع نہیں تھی کہ حکومت کی توہین عدالت کی درخواست کو یوں نمٹا دیا جائے گا۔ عدالت کی مس کمیونیکیشن سے متعلق آبزرویشن پر بات کرتے ہوئے محسن رانجھا نے کہا ’اگر وزرات داخلہ سے عمران خان کے ساتھ کنٹینر پر موجود افراد کی سی ڈی آر نکلوا لی جاتی تو اس سے یہ علم ہو جاتا کہ ان کی لوکیشن کیا تھی اور ان کیا ان کے موبائل نمبر چل رہے تھے۔ تاکہ یہ یقینی بنایا جاتا کہ پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کے موبائل نبمر چل رہے تھے اور انھیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے متعلق اطلاع کر دی گئی تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس ٹیکنالوجی کے دور میں جب تمام وسائل موجود ہیں تو سپریم کورٹ کا اس فیصلے پر پہنچنا میرے لیے تعجب کا باعث ہے۔‘

محسن شاہ نواز کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی جس طرح سے کی گئی وہ سب کے سامنے موجود ہے۔ جس طرح عدالتی احکامات کی خلاف ورزی میں ڈی چوک پہنچا گیا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، آگ لگا کر دہشت پھیلائی گئی، میرے خیال میں یہ سب سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی تھی۔ لیکن معزز عدالت کا فیصلہ ہے لہذا اس پر مزید تبصرہ نہیں کر سکتا۔ انکے مطابق عوام اس درخواست پر عمران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی توقع کر رہے تھے لیکن اس طرح کے فیصلے شکوک و شبہات کو جنم دے رہے ہیں۔‘

قانونی ماہر اور سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا توہین عدالت کی درخواست نمٹائے جانے پر کہنا تھا کہ ’سب سے پہلی بات یہ ہے کہ امن و امان سے متعلق معاملات حکومت وقت کے حل کرنے کے ہیں، عدالتوں کو اس چیزکا اختیار نہیں ہے کہ وہ ایگزیکٹیو اُمور کو اپنے ذمہ لے لیں۔‘ سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت کا ایسا کوئی کردار نہیں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ عدالتوں کو اس طرح کے تنازعات سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے معاملے پر سپریم کورٹ نے عمران خان کی جس طرح سہولت کاری کی اس سے پاکستانی عدلیہ کی ساکھ مزید مجروح ہوئی ہے۔

Related Articles

Back to top button