منی لانڈرنگ، شہبازشریف، حمزہ شہباز کی ضمانتیں منظور

سپیشل سینٹرل کورٹ لاہور نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی ضمانتیں منظور کرلیں، اور 10 -10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے، کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت نے شہباز شریف، حمزہ شہباز سمیت دیگر کی حاضری لگانے کا حکم دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ میرے وکیل نے میری ضمانت کے حوالے سے تمام دلائل دے دیے ہیں، میرا حق ہے کہ میں اپنی ضمانت کے حوالے سے اپنی صفائی دوں، میرے خلاف کرپشن کا کوئی کیس ثابت نہیں ہوا ہے، مجھ پر سنگین الزامات لگائے گئے، میں نے درجنوں پیشیاں بھگتی ہیں۔
شہباز شریف نے موقف اپنایا کہ ایف آئی اے نے میری گرفتاری کا کوئی راستہ نکالنے کیلئے چالان میں تاخیر کی، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ شوگر مل کا ڈائریکٹر ہوں نہ مالک نہ شیئر ہولڈر، میں نے منی لانڈرنگ، کرپشن کرنی ہوتی تو میں جو فائدہ لیگلی لے سکتا تھا وہ لے لیتا۔
وزیراعظم نے عدالت میں کہا کہ میں نے منی لانڈرنگ کر کے منہ کالا کرانا ہوتا تو خاندان کی شوگر ملز کو نقصان کیوں پہنچاتا، شوگر ملز کو سبسڈی نہیں دی تاکہ قومی خزانے پر بوجھ نہ پڑے، میں نے یتیموں اور بیواؤں کے خزانے کو اُن ہی پر استعمال کیا۔
شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں ایف آئی اے نے جتنے بھی فیکٹس بتائے جھوٹے ہیں، میں نے 2011-12 میں بے روزگار غریب بچے بچیوں کو بولان گاڑیاں دیں، 2015 میں ہم نے 50 ہزار گاڑیوں کا منصوبہ شروع کیا، یہ 99 اعشاریہ 99 فیصد وہی الزمات ہیں جو نیب نے لگائے۔بعدازاں عدالت نے دونوں رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Related Articles

Back to top button