میثاق معیشت پر تمام سٹیک ہولڈرز مل کر فیصلہ کریں

وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ میثاق معیشت وقت کی اہم ضرورت ہے، سیاسی استحکام کے بغیرمعاشی استحکام نہیں آسکتا،معاشی اور سیاسی استحکام آپس میں جڑا ہوا ہے۔ آئیں میثاق معیشت پر دستخط کریں اوراسے قیامت تک کیلئے لاگو کردیں۔

اسلام آباد میں برنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام سٹیک ہولڈرز کو میثاق معیشت پر مل کر بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہاجس طرح 75 سال ضائع کردیئے، 500 سال مزید ضائع ہوجائیں گے،موجودہ حکومت میں لانگ ٹرم کام نہیں ہو سکتے، ،میثاق معیشت کے تحت ایسے اہداف طے کیے جائیں جنہیں تبدیل نہ کیا جا سکے، ہمارے پاس ایک سال 3 ماہ ہیں،ہم لانگ ٹرم پالیسی نہیں بنا سکتے ،شارٹ ٹرم اورمیڈیم ٹرم منصوبوں پر کام کریں گے،اس حکومت کی جتنی مدت ہے دن رات کام کریں ۔

انہوں نےکہاتاجروں اور ماہرین کی خدمات قابل ستائش ہیں، حکومت دی گئی اچھی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنائے گی، کانفرنس میں دی جانے والی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں،ماضی میں بھارت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کی،5 سالہ منصوبوں کے اہداف کیلئے پروفیشنلز ٹیمیں کام کرتی تھیں، پاکستان بھارت سے ٹیکسٹائل میں آگے تھا، 90کی دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر بھارتی کرنسی سے بہتر تھی، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے۔

انکا کہنا تھاریاست کو صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ بنانا ہوگا، ملکی ترقی کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملکی ترقی کے لیے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہوگی، پاکستان ساڑھے 4 ارب ڈالر کا پام آئل برآمد کر رہا ہے، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے۔ گوادر کے شہروں کو پانی نہیں ملتا، وہاں بجلی نہیں ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا ہرقدم پر حکومت کو تاجروں کی تجاویز اور آراء کی ضرورت ہوگی،حکومت دی گئی اچھی تجاویز پر عمل کرے گی، آج کی میٹنگ کی روشنی میں ایک ٹاسک فورس بنائیں گے۔

انہوں نےکہا تین ملین ٹن گندم اس سال ہم ایکسپورٹ کر رہے ہیں، آج ہمارے پاس تیل اور گیس کیلئے پیسے نہیں ہیں، پاکستان ساڑھے 4 ارب ڈالر کا پام آئل درآمد کر رہا ہے، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، بطور قوم باتوں کے بجائے ہمیں عملی طور پر کام کرنا ہوگا، افسر شاہی کا رونا جائز ہے، جنہوں نے کام کیا انہیں نیب کے ذریعے پکڑ کر بند کر دیا، ملک کو دیوالیہ کر دیا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button