نواز شریف کے الیکشن لڑنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کرےگی؟

سابق وزیرِاعظم نوازشریف کے خلاف ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں باقاعدہ سماعت شروع ہونے کے بعد اب یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں نواز شریف انتخابات میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں؟ قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن کی تاریخ سے 53 دن قبل یعنی 16 دسمبر تک نواز شریف کا تمام کیسز سے بری ہونا ضروری ہے ورنہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایتی وکلا پراُمید ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں الیکشن شیڈول آنے سے پہلے ہی نوازشریف کے خلاف دونوں ریفرنسز کا فیصلہ آ جائے گا اور وہ الیکشن میں حصہ لیں گے۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایتی وکلا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی ہے اور وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔ لہذٰا اگر ان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے تو انہیں چیلنج کیا جائے گا۔تاہم الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسر کا فیصلہ اس بارے میں حتمی ہو گا جو صرف سپریم کورٹ میں ہی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم کی گزشتہ ماہ 21 اکتوبر کی پاکستان واپسی کے بعد سے ہی یہ بحث جاری ہے کہ ایون فیلڈ اور العزیزیہ کیس میں سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے وہ الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟ان کی پاکستان واپسی کے بعد عدالت میں سرینڈر کرنے کے بعد ان کی دونوں ریفرنسز میں اپیلیں دوبارہ کھل چکی ہیں اور  ان پر سماعت کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے خلاف لندن میں فلیٹ کی خریداری کا ریفرنس ہے جس میں نیب کے مطابق اس فلیٹ کی خریداری کے لیے وسائل کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی اور نہ ہی منی ٹریل فراہم کی گئی۔تاہم اس کیس میں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کو بری کیا جا چکا ہے اور اب اسی بنیاد پر نواز شریف کے وکلا عدالت سے بریت حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔نواز شریف کے وکلا نے عدالت سے چار سے چھ گھنٹوں کا وقت مانگا ہے جس میں وہ نوازشریف کی بے گناہی کے حوالے سے دلائل دینا چاہتے ہیں جبکہ نیب کی طرف سے اس کیس میں صرف آدھے گھنٹے کا وقت عدالت سے مانگا گیا ہے۔ لہذا امکان ہے کہ یہ معاملہ دو سے تین سماعتوں میں مکمل ہو سکتا ہے۔ عدالت نے اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر چلانے کا بھی کہا ہے۔العزیزیہ ریفرنس میں اب تک کیس کے میرٹس پر دلائل نہیں ہوئے، لیکن نواز شریف کے قانونی ٹیم کے وکلا پرامید ہیں کہ الیکشن شیڈول کے اعلان سے قبل دونوں ریفرنسز پر فیصلے ان کے حق میں آ جائیں گے جس کے بعد نواز شریف الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔

نواز شریف کے بعض کیسز میں وکیل اور سابق پراسیکیوٹر جنرل جہانگیر جدون کے مطابق نواز شریف کے خلاف دونوں ریفرنسز میں باقاعدہ سماعت کا آغاز ہو گیا ہے اور ہمیں امید ہے الیکشن شیڈول کے اعلان ہونے سے قبل ہی ان دونوں ریفرنسز میں ہمارے حق میں فیصلہ آئے گا۔اس سوال پر کہ نوازشریف کی نااہلی تاحیات نااہلی قرار دی گئی تھی؟ جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ میں ہونے والی ترمیم کے بعد نواز شریف کی نااہلی پانچ سالہ مدت کے لیے تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ نوازشریف الیکشن لڑ سکتے ہیں اور انہیں اس سے روکا نہیں جا سکتا۔

دوسری جانبپاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے وکیل اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سابق صدر نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ نواز شریف کسی صورت انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ نوازشریف کی نااہلی سپریم کورٹ کی طرف سے 62 ون ایف میں کی گئی تھی جس میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے اُنہیں تاحیات نااہل کیا تھا، لہذا نواز شریف آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے انہی مقاصد کے لیے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی تھی اور نااہلی کی مدت پانچ سال کر دی گئی تھی۔ لیکن نواز شریف کا فیصلہ سپریم کورٹ سے آیا تھا اور سپریم کورٹ کی طرف سے ہی ان کی نااہلی ختم کی جا سکتی ہے، لہذا ان پر اس نئے الیکشن ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔اُن کے بقول پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں اپیل کے حوالے سے جو شق تھی اس میں بھی ججز نے 7 اور 8 کے مقابلے سے فیصلہ دیا تھا کہ اپیل دوبارہ دائر نہیں کی جاسکتی۔ لہذا نوازشریف کی سیاست ایک طرح سے ختم ہو چکی ہے اور آئین و قانون کے مطابق وہ نااہلی کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔

دوسری جانب سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور دلشاد کہتے ہیں بریت کی صورت میں جب نواز شریف کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائیں گے تو اس وقت ریٹرننگ آفیسر کے سامنے یہ معاملہ ہو گا کہ نااہلی پانچ برس کے لیے ہے یا تاحیات۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ریٹرننگ افسر کو جو اختیارات دیے گئے ہیں وہ اتنے زیادہ ہیں کہ اس کے فیصلے کو کسی صوبے کی ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا بلکہ وہ صرف اور صرف سپریم کورٹ میں ہی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔کنور دلشاد کے بقول نوازشریف کی نااہلی 62 ون ایف اور 63 ون کے تحت کی گئی تھی۔ اگر ریٹرننگ افسر سمجھے کہ دونوں ریفرنسز میں بریت کے بعد نواز شریف پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا تو وہ کاغذات نامزدگی منظور کر سکتا ہے۔بصورتِ دیگر اگر وہ سمجھیں کہ نوازشریف پر اس کا اطلاق ہوتا ہے تو وہ انہیں مسترد کرسکتا ہے۔ لیکن دونوں صورتوں میں یہ معاملہ سپریم کورٹ جانے کا امکان ہے۔

Related Articles

Back to top button