نومبر میں جنرل باجوہ کی جگہ نیا آرمی چیف کون بنے گا؟


فوجی ترجمان کی جانب سے اس واضح اعلان کے بعد کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ عہدے میں توسیع نہیں لیں گے اور نومبر میں ریٹائر ہو جائیں گے، اب یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ ملک کا اگلا آرمی چیف کون ہوگا۔
یاد رہے کہ نئے فوجی سربراہ کے بارے میں قیاس آرائیاں جنرل فیض حمید کے تبادلے اور نئے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ندیم احمد انجم کی تعیناتی کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اب لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے نیا آرمی چیف بننے کا امکان مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے کیونکہ مرکز میں شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں۔ یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو نومبر 2019 میں تین سال کی توسیع دی گئی تھی جس کے بعد اب آئندہ برس 29 نومبر 2022 کو ان کے عہدے کی مدت مکمل ہو جائے گی۔ جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی اس وقت وجہ ’علاقائی سکیورٹی حالات‘ بتائے گئے تھے۔ تب بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا اور امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اہم علاقائی تبدیلیاں تھیں جن کو وجہ بنا کر یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔
اسوقت نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سینیارٹی لسٹ میں مختلف نام ہیں۔
نئے آرمی چیف کے لیے نام بھجوانے کا طریقہ کار یہ ہے کہ موجودہ آرمی چیف سینیارٹی فہرست میں سے پہلے تین یا پہلے پانچ نام جرنیلوں کی اہلیت کی جانچ کے بعد وزارت دفاع کے ذریعے وزیراعظم کو بھجواتے ہیں۔ ہر نام کے ساتھ ان کی اہلیت کی تفصیل لکھی ہوتی ہے جس کے بعد وزیراعظم ان تین یا پانچ ناموں سے ایک نام چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جبکہ ایک نام آرمی چیف کے عہدے کے لیے منتخب کر لیتے ہیں۔ اگر سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کسی کی سفارش کرنا چاہیں تو اس کا اضافی نوٹ بھی شامل ہو سکتا ہے لیکن حتمی اختیار اور منظوری وزیراعظم کی ہو گی۔ تاہم ماضی میں دو سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کی تعیناتی کے مواقع پر تب کے وزرائے اعظم نے اپنی مرضی سے نئے آرمی چیف کا انتخاب کیا اور جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ کو مد نظر نہیں رکھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف دونوں نے اپنے فیصلے بھگتے اور دونوں سنیارٹی لسٹ سے ہٹ کر لائے گئے جرنیلوں کے ہاتھوں بغاوت کا شکار ہوئے۔ عمومی طور پر نومبر کے پہلے ہفتے میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے جرنیلوں کے نام وزیر اعظم آفس بھیجے جاتے ہیں جس کے بعد متوقع طور پر 25 یا 26 نومبر تک نئے فوجی سربراہ کا تقرر کر دیا جاتا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق سینیارٹی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر احمد ہیں لیکن وہ 27 نومبر 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے لہذا ان کی تعیناتی کا امکان کم ہے۔ سنیارٹی میں دوسرے پر کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد ہیں۔
تیسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس جو اس وقت چیف آف جنرل سٹاف تعینات ہیں۔ چوتھے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود ہیں جو پہلے کور کمانڈر پشاور تعینات تھے اور حال ہی میں ان کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں صدر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ پانچویں نمبر پر کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ہیں جن کے بارے میں اطلاع ہے کہ اپنے اقتدار کی آخری رات 9 اپریل کو عمران خان نے انہیں نیا آرمی چیف بنانے کی کوشش کی تھی جو وزارت دفاع نے ناکام بنا دی۔ چھٹے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر ہیں جو اس وقت کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات ہیں۔
نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا انتخاب انہی 6 سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز میں سے کیا جائے گا۔ نومبر 2022 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا سب سے سینئر پوزیشن پر آ جائیں گے او دونوں اہم عہدوں یعنی آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کیلئے دوڑ میں شامل ہو جائیں گے۔ سینیارٹی کے لحاظ سے دیگر جن پانچ آرمی افسروں کا نام ٹاپ پوزیشن پر آ جائے گاان میں لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر، لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر اور لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر بلوچ شامل ہیں۔انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم شیخ اس فہرست میں ساتویں نمبر پر ہوں گے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اگر نئے وزیراعظم شہباز شریف نے فوج میں سینیارٹی کے پرنسپل کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کیا تو لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا جنرل قمر باجوہ کی جگہ سنبھالیں گے۔ اس سے قبل وہ فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں چیف آف جنرل اسٹاف تعینات تھے۔ ٹو سٹار جنرل کے طور پر انہوں نے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل، جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ کے ساتھ ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان میں 40 انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کی۔ یہ ڈویژن اب اوکاڑہ منتقل ہو گیا ہے۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع چکوال سے ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اس وقت چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اپنی موجودہ پوسٹنگ سے قبل انہوں نے راولپنڈی کور کی کمانڈ کی اور ڈی جی جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹر زتھے۔ وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے۔ وہ مری میں 12 انفنٹری ڈویژن کے کمانڈنگ جنرل آفیسر کے طور پر مزید خدمات انجام دے چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے آخری پانچ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اس سے قبل جنرل اسٹاف کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر ہیں۔ اس سے قبل وہ کور کمانڈر پشاور اور انسپکٹر جنرل کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی کے عہدوں پر فائز رہے۔ بطور میجر جنرل وہ آئی ایس آئی میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بطور ڈی جی analysis اور میران شاہ میں انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل نعمان راجہ کا تعلق راولپنڈی کے علاقے ادھوال سے ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود راجہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید تینوں کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔
پاکستانی تاریخ کے متنازعہ ترین آئی ایس آئی سربراہ سمجھے جانے والے فیض حمید اس وقت کور کمانڈر پشاور کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے۔ فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی اور ایڈجوٹینٹ جنرل کے اہم عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔ میجر جنرل کے طور پر، فیض نے پنو عاقل انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کی اور آئی ایس آئی میں بطور ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جنس اور انٹرنل سکیورٹی بھی تعینات رہے۔ بطور بریگیڈیئر انہوں نے تب کے لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ راولپنڈی کور کے چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا تعلق ضلع چکوال سے ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پشاور کے صرف تین سابقہ کور کمانڈرز کو بعد میں فور سٹار جرنیلوں کے عہدے پر فائز کیا گیا، یعنی جنرل سوار خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل احسان الحق۔ کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل عامر کا تعلق آرٹلری سے ہے۔ اس سے قبل وہ ایڈجوٹینٹ جنرل کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ بطور میجر جنرل وہ 10 انفنٹری ڈویژن لاہور کے جی او سی اور COAS سیکرٹریٹ میں ڈائریکٹر جنرل سٹاف کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر بلوچ ایک پنجابی بلوچ ہیں اور ان کا تعلق ساہیوال سے ہے۔ اس سے قبل وہ جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز کے ڈی جی، ڈی جی ملٹری ٹریننگ اور جی او سی انفنٹری ڈویژن جہلم کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
حاضر سروس ڈی جی آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم شیخ اس سے قبل کور کمانڈر کراچی، کمانڈنٹ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ، انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان اور بریگیڈ کمانڈر وزیرستان اور کرم ایجنسی رہ چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان راجہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض کو اپریل 2019 میں تھری سٹار رینک پر ترقی دی گئی تھی۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عامر، لیفٹیننٹ جنرل چراغ بلوچ اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم شیخ کو ستمبر 2019 میں اس عہدے پر ترقی دی گئی۔ یہ بھی خیال رہے کہ اب آرمی چیف جنرل باجوہ جن میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی دیں گے وہ نومبر 2025 میں آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہوں گے۔

Related Articles

Back to top button