وزارت عظمیٰ کیلئے شہبازشریف اورشاہ محمود کے کاغذات نامزگی جمع

وزارت عظمیٰ کیلئے شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی جمع کراد یئے گئے۔متحدہ اپوزایشن کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رہنما شہبا ز شریف اور تحریک انصاف کی طرف سے شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی جمع کر ائے گئے ہیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے آج اتوار کے روزملیکہ بخاری نے وزیر اعظم کے عہدے کیلئے کاغذات نامزدگی وصول کیے ہیں۔ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کور کمیٹی میں مشاورت کے بعد کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا فیصلہ کریں گے۔
پی ٹٰی آئی کے ایم این اے زین قریشی نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر کہا کہ میدان خالی چھوڑنا نہیں چاہیے،یہ پارٹی کا فیصلہ ہے اور پارٹی ہی فیصلہ کرے گی کہ قائد ایوان کے انتخاب کے لیے کس کو نامزد کرنا ہے،جس کے بعدپی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے بطور وزیر اعظم کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے گئے،شاہ محمود قریشی کے 4 فارمز قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائے ہیں جس میں عامر ڈوگر، علی محمد خان بالترتیب تائید کنندہ اور تصدیق کنندہ ہیں۔
دوسری جانبپیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ وزیراعظم کے لیے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا رہے ہیں،متحدہ اپوزیشن نے وزیر اعظم کی نامزدگی کے کاغذات جمع کروا دیے، میاں محمد شہباز شریف نے خود کاغذات نامزدگی جمع کروائے،شہباز شریف کے 13 کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے ہیں جس میں خواجہ آصف اور رانا تنویر ان کے تائید کنندہ اور تصدیق کنندہ ہیں۔
ادھرقائد ایوان کے انتخاب کی نامزدگی اور جانچ پڑتال کے اوقات میں تحریک انصاف کی درخواست پر ایک بار پھر تبدیلی کی گئی ہے،قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور جانچ پڑتال پہلے سے جاری ٹائم پر ہی ہو گی،قائد ایوان کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا وقت دوپہر 2 بجے ہی ہے اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال سہ پہر 3 بجے کی جائے گی۔اپوزیشن کے وفد نے سیکریٹری قومی اسمبلی سے ملاقات کی اور کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں تبدیلی واپس لینے کا مطالبہ کیا،اپوزیشن کے رہنماؤں میں نوید قمر، عطا تارڑ اور شزا فاطمہ شامل تھے۔
دوسری جانب ادھر قومی اسمبلی کا 11اپریل 2022 بروز پیر کو منعقد ہونے والے اجلاس کا ٹائم تبدیل کردیا گیا ہے اور اب اجلاس دن 11 بجے کے بجائے دوپہر 2 بجے منعقد ہو گا۔
یاد رہے کہ رات گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہو گئی تھی جس کے بعد وہ وزیراعظم عمران خان کے عہدے سے ہٹ گئے تھے۔

Related Articles

Back to top button