پی ٹی آئی کا پنجاب اسمبلی کے اختیارات محدود کرنے پر گورنر کو نوٹس

پاکستان تحریک انصاف نے گورنر پنجاب بلیغ الر حمن کو پنجاب اسمبلی کے احتیارات محدود کرنے کیلئے آرڈیننس جاری کرنے پر نوٹس بھجوا دیا ۔

تحریک انصاف کی ایم پی اے زینب عمیر کی جانب سے اپنے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی کا 40 واں سیشن ختم کرتے ہی 41 واں سیشن فوری بلا لیا جو کہ پنجاب اسمبلی کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔

ایم پی اے زینب عمر کے نوٹس میں سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی جگہ سیکریٹری قانون کو اختیارات دینے پر اعتراض اٹھایا گیا اور اسے اختیارات سے تجاوز قرار دیا ہے،گورنر نے ایوان اقبال میں بجٹ اجلاس غیر قانونی طور پر بلایا، گورنر پنجاب کی انتظامی اختیارات اور امور میں مداخلت بھی غیرقانونی ہیں، گورنر پنجاب فوری طور غیر قانونی آرڈیننس واپس لیں،مذکورہ نوٹس کی کاپی صدر مملکت کو بھی بھجوا دی گئی ہے جس میں صدرپاکستان سےگزارش کی گئی کہ گورنرپنجاب کو عہدے سے ہٹایا جائے۔

واضح رہے کہ پنجاب میں ہر گزرتے دن کے ساتھ گمبھیر ہوتے سیاسی بحران کے دوران گورنر بلیغ الرحمٰن نے ایک نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی آزادانہ حیثیت کو ختم کردیا تھا، یہ پیشرفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی تھی جب مقررہ دن سے 2 روز بعد بھی پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش نہیں کیا جا سکا تھا۔

یاد رہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن کے دستخط سے جاری ہونے والے آرڈیننس میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی گئی۔

آرڈیننس کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا جس کے تحت جب بھی گورنر، اسپیکر یا حکومت پنجاب کے سیکریٹری اجلاس طلب کریں گے تو محکمہ قانون و پارلیمانی امور اسمبلی میں اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کریں گے، پنجاب سیکریٹریٹ سروس ایکٹ 2019 کے نویں حصے کے ساتھ ساتھ دو مزید ایکٹ بھی ختم کردیے گئے۔

آرڈینس ہونیوالی ان تبدیلیوں کے بعد پنجاب اسمبلی کی خودمختار حیثیت ختم کردی گئی اور اب اسمبلی، وزارت قانون کے ایک ادارے کے طور پر کام کرے گی جبکہ سیکریٹری پنجاب اسمبلی کو وزارت قانون کے ماتحت کردیا گیا۔
خیال رہے کہ ایسا ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ صوبائی اسمبلی کے بیک وقت 2 بجٹ اجلاس ہو ئے۔

Related Articles

Back to top button