پاک فوج کو گالیاں دینے والا عمران بھارت میں ہیرو بن گیا


”ایک گولی چلائے بغیر انڈیا جنگ جیت چکا ہے۔ پاکستان کے عوام پاک فوج کو گالیاں دے رہے ہیں۔ انڈیا کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی یہ مقصد حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ انڈیا کی اس کامیابی کے پیچھے جو شخص ہے، اسکا نام عمران خان ہے۔ وہ ہمارا بہترین دوست ثابت ہوا ہے۔ “یہ الفاظ ہیں انڈیا کے مقبول دفاعی تجزیہ کار، میجر(ر) گوریو آریا کے جن کو معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے اپنی تازہ تحریر میں نقل کیا ہے۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ بھارتی فوج کا ریٹائرڈ افسران اس تاثر کو زائل کررہا ہے کہ عمران خان بھارت مخالف ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کے حامی حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ایک بیان میں وضاحت کردی تھی کہ ایک ماہ پہلے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے پاکستان میں حکومت تبدیل کرنے کی کسی بھی امریکی سازش کے تصور کو مسترد کردیا تھا۔ اب وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے اس تحقیق کی تصدیق کردی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے حامی حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ عمران خان نے بنی گالہ سے وزیر اعظم ہاؤس تک ہیلی کاپٹر میں سفر پر ایک ارب روپوں کے قریب رقم خرچ کر ڈالی۔ دوسری طرف فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے سفر پرایندھن کا خرچ 55 روپے فی کلو میٹر تھا۔ اسی طرح عمران خان سرکاری توشہ خانے سے 200 ملین روپوں کے درجنوں قیمتی تحفے مارکیٹ نرخ کا ایک معمولی سا حصہ ادا کر کے گھر لے گئے اور پھر کروڑوں کے منافع پر باہر بیچ دیئے۔ اس پر تحریک انصاف کے کارکنان کا کہنا ہے، ”تو کیا ہوا؟ وہ ایسا کرنے کے حق دار تھے۔ “عمران نے بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھوں نے ان تحائف میں سے کچھ فروخت بھی کر دئیے تھے کیونکہ ان کے تحفے تھے، لہذا ان کی مرضی۔ لیکن تحریک انصاف کے حامی حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کے اپنے ہاتھ سے چنے ہوئے ساتھیوں کے اربوں روپوں کے غبن کا انکشاف ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے فرد جرم میں سات سال کی تاخیر کے بعد اب بھی تحریک انصاف کے وکلا اسے طول دینے پر مصر ہیں۔ اور تحریک انصاف کے حامی حقیقت کا سامنا کرنے کو تیار نہیں۔
عمران خان کا دور حکومت بدعنوانی، غیر جمہوری اور غیر آئینی کاموں اور فسطائی طرزعمل سے عبارت تھا۔ دھیرے دھیرے ٹھوس حقیقت افسانوی ملمع کاری کا پردہ چاک کرتے ہوئے باہر آرہی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے حامیوں کا اصرار ہے کہ ایسے الزامات صرف شریفوں اور زرداریوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ وہ حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اب جب کہ تحریک انصاف اقتدار سے باہر ہو چکی ہے، عمران خان فوری الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جب حزب اختلاف تین سال تک چیخ چیخ کر عمران خان پر دھاندلی زدہ انتخابات کی بنیاد پر ”سلیکٹڈ” وزیر اعظم ہونے کا الزام لگا کر یہی مطالبہ کررہی تھی تو عمران پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہے تھے۔ تحریک انصاف کے حامی پوچھتے ہیں کہ عمران کو ”جمہوریت اور سویلین بالادستی کے وسیع تر مفاد میں“اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ یہ سوال کرنے والے اس ننگی حقیقت کو صاف بھول جاتے ہیں کہ عمران نے 2008 سے لے کر 2018 کے درمیان کا زیادہ تر عرصہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کو قبل ازوقت گرانے کی خاطر احتجاجی مظاہروں میں ہی گزارا تھا۔ تحریک انصاف کے پروپیگنڈا سازوں نے عمران خان کو سہارا دینے کے لیے ایک طاقتور بیانیہ تیار کیا ہے۔ یہ کسی قدراحتیاط سے تیار کردہ تصورات پر مبنی ہے۔ بیانیہ یہ ہے کہ ”عمران امریکہ مخالف ہے“۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ کیا ہوا اگر دو سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گلے لگ کر واپس آنے کے بعد عمران اتنے ہی پرجوش تھے جتنے پاکستان کے لیے 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ”عمران سامراج مخالف ہے“۔ بقول سیٹھی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خان بیک وقت سرمایہ داری کا حامی بھی بنتا ہے اور سامراج مخالف بھی۔ کہا جاتا ہے کہ ”عمران ایک مقبول عام لیڈر ہے“۔ سیٹھی کہتے ہیں اب کیا کیا جائے کہ عمران کے ایکشنز کا اس اصطلاح سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ ان کی ہر حرکت سے آمریت اور فریب کاری جھلکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ”عمران ایک اسلامی قوم پرست ہے“۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ تو کوئی نئی بات نہیں۔ آمر مطلق جنرل ضیاء الحق بھی ایسا ہی تھا اور تب بھی جب وہ افغانستان میں امریکی مفادات کی تکمیل کر رہا تھا۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں میں اس بیانیے کو بھی تسلیم نہیں کرتا کہ عمران خان بہت مقبول ہے اور اگلا الیکشن جیت جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا تو اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی جنہوں نے ڈی سیٹ ہونے کی یقینی سزا کے باوجود تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیا، وہ ڈٹے رہتے۔ زیادہ تر نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کا ٹکٹ اگلے انتخابات میں یقینی شکست کا باعث بنے گا۔ ان کے حامی پارٹی سے اس قدر بدظن ہوچکے ہیں۔ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کم از کم سب سے بڑے صوبے پنجاب میں، جس کی پارلیمنٹ کی نصف سے زیادہ نشستیں ہیں، مسلم لیگ ن کی انتخابی جیت کے امکانات تحریک انصاف سے بہت بڑھ کر ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہے تو تحریک انصاف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پھر عمران کو اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے دیتے اور انتخابی معرکے میں شکست دیتے۔ بقول نجم سیٹھی، اگر پی ڈی ایم نے عمران کو انتخابات میں شکست دینے کے لیے اگلے سال تک انتظار کرنے کے بجائے اب عمران کو ہٹانے اور تباہ حال اور برباد شدہ معیشت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کا خطرہ مول لیا ہے تو اس کی ایک وجہ ہے۔ اگر خان نومبر 2022 سے آگے چلتے تو وہ اسی شخص کو بطور نیا آرمی چیف چن لیتے جس نے الیکشن 2018 میں دھاندلی کی تھی اور جس کی مدد سے عمران 2023 کا لیکن بھی جیتنا چاہتے تھے۔ یوں دونوں مل کر اپوزیشن کو ختم کر دیتے، ہائبرڈ حکومت کو مضبوط کرتے اور اگلے چھ سالوں میں ایک مرکزی آمرانہ نظام کو مستحکم کردیتے۔ اس لیے پی ڈی ایم کے لیے ”زندگی یا موت“ اور ”اب، یا کبھی نہیں“ والی صورت حال تھی۔
لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ عمران خان اب فوری الیکشن کیوں چاہتے ہیں؟ بقول سیٹھی اُن کا خیال ہے کہ وہ اپنے مقبول عام بیانیے کے ذریعے اپنی حمایتی اساس کو پھر سے زندہ کرچکے ہیں،اور جلدی انتخابات ہوں تو وہ جیت کر نومبر 2022 میں کرسی پر براجمان ہو جائیں۔ ان کا ہدف پاکستانی فوج کی اعلیٰ کمان ہے جس کی غیر جانبداری نے پی ڈی ایم کو موقع دیا کہ وہ اتحادی اکٹھے کر کے عمران کو چلتا کردے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جس اتحاد کی حمایت سے عمران خان کو اقتدار ملا تھا، اس کی اساس کتنی کمزور تھی۔ اب عمران فوج کی صفوں میں رخنہ ڈال کر ہائی کمان پر دباؤ ڈالنے کی امید کررہے ہیں کہ وہ اپنے عہدے پر واپس آنے کا راستہ ہموار کرسکیں۔ گویا یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اب ان کی ساری سیاسی حکمت عملی الیکشن جیتنے کی کوشش کی بجائے ناراض اور لاتعلق ہوجانے والی اسٹیبلشمنٹ سے این او سی حاصل کرنے پر ہے۔ تو جس بات پر ہمارا روایتی دشمن بھارتی میجر (ر) گوریو آریا خوشی سے پھولا نہیں سما رہا، وہی تو عمران خان کررہے ہیں۔
بقول سیٹھی، پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 6 کروڑ ہے۔ لیکن 100 سے بھی کم پی ٹی آئی کارکنوں کے ذریعہ 1000 سے بھی کم باٹز BOTs نے پاکستان میں ضیا دور کے بعد پیدا ہونے بچوں کی خوفناک برین واشنگ کی گئی ہے۔ پاکستان کی تقریباً 22 فیصد یا 50 ملین آبادی 18 سے 30 سال کی عمر کے درمیان ہے اور ہر سال 4 ملین افراد اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ پھیلتی ہوئی نوجوان آبادی کا ایک حصہ تحریک انصاف کے بیانیے سے متاثر ہے۔ شکر ہے کہ ابھی بھی ایک اور پاکستان موجود ہے جس کی اکثریت کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکا۔ اور اگر عمران خان کے لاہور جلسے میں نسبتاً معمولی ہجوم اور ان کی بے جان، بار بار دہرائی جانے والی تقریر کو دیکھا جائے تو یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ موجودہ جذبہ وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائے گا۔ یہاں مریم نواز شریف کو پی ڈی ایم کی طاقت دکھانے کے لیے باہر آنا چاہیے۔ اگر پی ڈی ایم کی حکومت عمران خان کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے انہی سوشل میڈیا ٹولز کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو ان کی عظیم مقبولیت کا غبارہ بہت جلد پھٹ سکتا ہے۔ بالآخر حقیقت ہی فتح یاب ہوگی۔

Related Articles

Back to top button