پنجاب کابینہ کے 21 اراکین کے نام فائنل

پنجاب کابینہ کے پہلے مرحلے کے لیے 21 اراکین اسمبلی کا انتخاب کر لیا گیا ہے، سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔جمعرات کو علی الصبح اسلام آباد میں ون آن ون ملاقات میں عمران خان کی جانب سے فائنل کیے گئے نام وزیراعلیٰ کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی کے حوالے کیے گئے، کابینہ کے ارکان (کل) ہفتہ کو حلف اٹھائیں گے۔
مونس الٰہی کو پہلے مرحلے کے لیے 21 رکنی کابینہ کی فہرست موصول ہوئی اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو یقین دلایا کہ وہ پہلے ہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ مسلم لیگ (ق) کو دے چکے ہیں اور مزید کچھ نہیں چاہئے۔عمران خان نے انہیں بتایا کہ دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ق) کے پارلیمنٹرینز کو بھی صوبائی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔
مونس الٰہی نے ٹوئٹ کی کہ میں نے آج عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ہمیں پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا چکے ہیں اور مزید کچھ نہیں چاہیے، انہوں نے دل بڑا کرتے ہوئے دوسرے مرحلے میں کابینہ میں مسلم لیگ-ق کے اراکین کو جگہ دینے کی بات کی، معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی نے محسن لغاری کو فنانس پورٹ فولیو کی پیشکش کر دی، محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات کو کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر کے کنٹرول میں دیدیا گیا ہے، خرم ورک کو قانون اور پارلیمانی امور، ڈاکٹر یاسمین راشد کو وزیر صحت، راجا یاسر ہمایوں کو اعلیٰ تعلیم اور آئی ٹی جبکہ مراد راس وزیر کو اسکول ایجوکیشن کا وزیر برقرار رکھا گیا ہے۔
سابق وزیر داخلہ اور قانون راجا بشارت کو کوآپریٹو اور پراسیکیوشن کا قلمدان دیا گیا ہے، آصف نکئی کو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن جبکہ علی ساہی کو کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) کا شعبہ دیا گیا ہے۔
تیمور ملک کو اسپورٹس اینڈ کلچر کا قلمدان، انصار نیازی (لیبر)، منیب چیمہ (ٹرانسپورٹ)، شہاب الدین سحر (لائیو اسٹاک)، نوابزادہ منصور خان (ریونیو)، جہانیاں گردیزی (زراعت)، غضنفر عباس چھینہ (سوشل ویلفیئر)، لطیف نذر(مائنز اینڈ منرلز)، حسنینم دریشک (توانائی اور خوراک)، میاں محمود الرشید (لوکل گورنمنٹ)، میاں اسلم اقبال (ہاؤسنگ اینڈ انڈسٹریز)، علی عباس شاہ (فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف) اور عمر چیمہ کو وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلے مرحلے کی 21 رکنی کابینہ کی فہرست میں سابق وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، سابق وزیر برائے پبلک پراسیکیوشن چوہدری ظہیرالدین اور سابق وزیر خواندگی و نان فارمل بیسک ایجوکیشن راجہ راشد حفیظ اور دیگر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button