پنکی اور کھوسہ کی آڈیو کال کس نے اور کیوں لیک کی؟

عمران خان کے جیل جانے کے بعد پارٹی کی قیادت پر اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کی مرشد اور اہلیہ بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی اوربہنوں میں اقتدار کی جنگ جاری ہے۔عمران خان کی اہلیہ اور بہنوں میں اختلافات سے متعلق مبینہ آڈیو سامنے آ گئی۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وکیل لطیف کھوسہ کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو کی لیک آڈیو پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔خیال رہے کی بشری بی بی اور وکیل لطیف کھوسہ کے درمیان ٹیلی فونک کال لیک ہوئی ہے، جس میں بشری بی بی اور لطیف کھوسہ کیس سے متعلق آپس میں محو گفتگو ہیں اور دونوں عمران خان کی بہنوں سے اپنے اختلافات کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق لیک ہونے والی فون کال وٹس ایپ کال لگ رہی ہے اور وٹس ایپ کال دونوں میں سے کسی ایک فریق نے لیک کی ہے۔ لطیف کھوسہ نے تو اس پر اپنا ردعمل دے دیا ہے جبکہ دوسرا فریق بشریٰ بی بی ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ اسے بشریٰ بی بی نے لیک کیا ہے۔ بشریٰ بی بی نے اس آڈیو کو لیک کر کےعام ووٹر کو یہ پیغام دیا ہے کہ میں عمران خان کے ساتھ مخلص ہوں جبکہ بہنیں پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ان کے وکیل لطیف کھوسہ کے مابین گفتگو کی مبینہ آڈیو میں دونوں بہنوں سے اختلافات کا کھل کر اظہار کر تے سنائی دے رہے ہیں۔ جمعرات کو لیک ہونے والی مبینہ آڈیو کال میں لطیف کھوسہ اور بشریٰ بی بی کو بات کرتے ہوئے سُنا جا سکتا ہے اور عمران خان کی اہلیہ گفتگو کے دوران وکیل سے اپنے شوہر کی بہنوں سے ہونے والے اختلاف پر بھی بات کرتی ہوئی سنائی دیں۔

آڈیو لگانی ہے دوسری جانب عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے اس گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ جس نے بھی یہ ذاتی آڈیو کال لیک کی اسے شرم آنی چاہیے۔ اس قسم کی گفتگو ایک وکیل اور مؤکل کے درمیان ہوتی ہے۔‘

بشریٰ بی بی کی جانب سے اس آڈیو لیک پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے تاہم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اسے ایک ’تماشا‘ قرار دیا ہے۔اپنے وکیلوں کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے لیک ہونے والی آڈیو کال نہیں سُنی ہے۔انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ابھی بتایا گیا کہ وہ کھوسہ صاحب کی اور بشریٰ بی بی کی بات ہو رہی ہے۔ میری بات سنیں کل آپ کی اور آپ کی بیگم کی ریکارڈنگ ہوجاتی ہے، پھر آپ کہیں گے کہ ہم نے تو ذاتی بات کی ہے۔‘علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک وکیل اور جو مؤکل کے درمیان ہونے والی بات کانفیڈینشل ہوتی ہے، اس کا تماشہ نہیں بنانا چاہیے۔‘

Related Articles

Back to top button