عدالتی احکامات کی خلاف وزری، عمران ڈی چوک پہنچ گیا

سپریم کورٹ کے احکامات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے قافلے سمیت ڈی چوک پہنچ گئے۔

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا مرکزی قافلہ پشاور سے چیئرمین عمران خان کی قیادت میں 6 بجے اٹک پل پر حکومت کی جانب سے کھڑی کی گئیں رکاوٹیں ہٹانے کے بعد پنجاب کی حدود میں داخل ہوا۔ جبکہ دوسری طرف اسلام آباد میں موجودتحریک انصاف کو ڈی چوک سے منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی دوبارہ شیلنگ کی، پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

ادھر لاہور کے لبرٹی چوک میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، جسے منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی۔

دریں اثنا وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے سے قبل صوابی انٹرچینج پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ڈی چوک جا رہے ہیں اور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا ہمارا لانگ مارچ پرامن ہے اور تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے ہم اسلام آباد ڈی چوک پہنچیں گے،ہر جگہ ہمارے لوگوں کو روکا جا رہا ہے اور رات گئے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، رات کو ہمارے کارکنان کے گھروں میں چھلانگیں مار کر گھر سے پکڑا اور ان کی عورتوں کو تنگ کیا۔

انہوں نے مولانا فضل رحمٰن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ڈیزل لانگ مارچ کر رہا تھا، جب بلاول اور مریم نواز سڑکوں پر نکلے تھے تو ہم نے کوئی رکاوٹیں نہیں ڈالیں تھیں کیونکہ ہمیں عوام کا ڈر نہیں ہے بلکہ ان کو عوام کا ڈر ہے جو گزشتہ 3 دہائیوں سے ملک کا پیسہ چوری کر رہے ہیں،میں حکومت کو صوابی انٹرچینج سے پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ جو بھی رکاوٹیں ڈالیں گے ہم تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے اسلام آباد ڈی چوک پہنچیں گے،ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، جو ہمیشہ ہوا ہے، ہم نے ہمیشہ قانون کے بیچ رہ کر پرامن احتجاج کیا ہے، اس لیے میں عدالتوں سے بھی پوچھتا ہوں کہ یہ کس قانون کے تحت ہمیں روک رہے ہیں یہ ہمارا آئینی حق ہے۔

عمران خان نے کہاہم اس ملک کو اکٹھا کرکے ایک قوم بنانے جا رہے ہیں، یہ ایک آزاد قوم بنے گی، جو کبھی کسی کی غلامی نہیں کرے گی، جو امریکیوں کے غلاموں اور امپورڈ حکومت کو منظور نہیں کرتی،میں سارے پاکستان کو کہتا ہوں کہ آج آپ نے نکلنا ہے، اور ملک کی حقیقی آزادی کے لیے ہماری خواتین نے، بچوں، نوجوانوں، ہمارے وکلا، ریٹائر فوجیوں نے اس ملک کے لیے نکلنا ہے۔

دریں اثنا عمران خان نے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ سب میرے ساتھ نکلیں گے کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کے لیے فیصلہ کن وقت ہے اور ہم حقیقی آزادی لے کر رہیں گے،میں اس وقت اپنے مارچ کا آغاز پشاور سے کر رہا ہوں اور اب سیدھا ولی انٹرچینج پر پہنچ رہا ہوں، میں خیبر پختون خوا کے سارے لوگوں کو یہ دعوت دیتا ہوں کہ وہ ولی انٹرچینج پر پہنچیں جہاں سے میں حقیقی آزادی کے کاروان کی سربراہی کروں گا اور وہاں سے ہم اسلام آباد کی طرف نکلیں گے۔

اس کے بعد چیئرمین تحریک انصاف بذریعہ ہیلی کاپٹر ولی انٹرچینج پہنچے۔جس کے بعد عمران خان خیبرپختونخوا کے ولی انٹر چینج سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے، اس کے بعد پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پی ٹی آئی کے جھنڈوں سے مزین ٹرک پر کھڑے عمران خان کی حامیوں کی جانب ہاتھ لہراتے ہوئے تصویر ٹوئٹ کی گئی۔

اس دوران میڈیا پر اس قسم کی رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں جن کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہد طے پا گیا ہے جس کے تحت صرف جلسہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے، تاہم وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ بعدازاں چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی سوشل میڈیا پر بیان میں کسی قسم کے معاہدے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلام آباد کی جانب بڑھ رہے ہیں، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

دریں اثنا تحریک انصاف کے کارکنوں نے اسلام آباد کے ڈی چوک کے اطراف اور کراچی میں پولیس وین کو آگ لگادی۔


اسلام آباد کے ڈی چوک کے اطراف میں پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنوں نے آگ لگادی جبکہ کراچی کے علاقے نمائش چورنگی میں مشتعل کارکنوں نے پولیس سے جھڑپ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے بعدپولیس کی قیدیوں کو لیجانے والی وین کو آگ لگا دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل آج صبح لاہور کے بتی چوک پر تصادم کے بعد 10 افراد کو گرفتار کرلیا گیا، دیگر شہروں میں جھڑپوں کی فوٹیجز بھی سامنے آئی ہیں جن میں جھڑپیں اور پولیس اہلکاروں کو مارچ کرنے والوں پر لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان اس وقت جھڑپیں ہوئیں جب کارکنان اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے کے لیے جمع ہو ئے اور شپنگ کنٹینرز کو ہٹانے کی کوشش کی ، ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکاروں نے پی ٹی آئی کے حامیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق مارچ کرنے والوں کو شاہدرہ کے علاقے میں بھی روک دیا گیا۔

اس کے بعد ایک ٹویٹ میں پارٹی نے کہا کہ شاہدرہ میں رکھے گئے شپنگ کنٹینر کو ہٹا دیا گیا ہے، نیازی چوک پر بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے رکاوٹیں ہٹا کر آگے کی جانب مارچ کیا،1:150 بجے کے بعد پولیس نے ایوان عدل کے قریب آنسو گیس اور شیلنگ دوبارہ شروع کی، پولیس نے آزادی مارچ کے شرکا کی بس میں موجود 50 سے زائد وکلا اور کارکنان کو بھی گرفتار کر کے پرزنر وین میں منتقل کر دیا۔

اس دوران پولیس کی جانب سے بسوں پر لاٹھیوں اور پتھر بھی برسائے گئے جبکہ 10 سے 12 کاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، اطلاعات کے مطابق اس دوران پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان بسوں کے اندر موجود تھیں، پولیس نے مؤقف اپنایا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر یہ گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں، ٹکسالی چوک کے قریب پولیس اور کارکنان کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کو سلسلہ جاری ہے۔

لاہورمیں پولیس نے پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم پی ٹی آئی کارکنان حماد اظہر کو گرفتاری سے بچانے میں کامیاب رہے،حماد اظہر نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ ’کالا شاہ کاکو کے قریب ہماری ریلی پر شدید شیلنگ کی گئی لیکن ہم ان شا اللہ اس رکاوٹ کو بھی دور کر لیں گے.

انہوں نے کہا کہ بتی چوک، راوی پل اور شاہدرہ پر رکاوٹیں اور کنٹینرز ہٹا دیے گئے ہیں اور سڑکوں کو عوام نے صاف کر دیا ہے، حماد اظہر کا قافلہ جی ٹی روڈ پر پہنچ گیا تھا اور اسلام آباد کی جانب رواں دواں تھا۔ بعد ازاں، ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں حماد اظہر کا کہنا تھا کہ بجائے ہوا میں آنسو گیس فائر کیے جانے کے بجائے، اہلکار چہروں پر آنس گیس فائر کر رہے ہیں۔
قبل ازیں لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کی خواتین رہنما یاسمین راشد اور عندلیب عباس کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد رہا کردیا ہے، اس سے قبل ایک اور فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کہ لاہور میں ٹمبر مارکیٹ کے قریب پولیس سابق وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کی گاڑی کو روک رہی ہے، پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ان کی گاڑی کی چابی نکالنے کی کوشش کے بعد فریقین کے درمیان الفاظ کا تبادلہ بھی دیکھا گیا۔

اس دوران ڈاکٹر یاسمین راشد کی گاڑی کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی اور ان کے ہاتھوں پر کنکریاں بھی لگیں۔ بعدازاں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ یہ حکومت بوکھلا گئی ہے، میں نے اپنی گاڑی بہت مشکل سے نکالی ہے، میں 80 سال کی ہوں اس حکومت کو مجھ سے کیا خطرہ ہے جو مجھ پر شیلنگ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے ہم اپنا مطالبہ منوا کے آئیں گے، پر امن احتجاج کو روکنا کون سا جمہوری فیصلہ ہے، ہم اسلام آباد پہنچ کے رہیں گے۔
دریں اثنا سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ کہ میں آزادی مارچ میں شرکت کے لیے جارہا تھا اور تمام رکاوٹیں بھی عبور کرلی تھیں لیکن پولیس نے لال حویلی پر قبضہ کرلیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ لال حویلی میں پولیس داخل ہوچکی ہے اور 60 کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جھکنے والے ہیں، میں عدلیہ اور ذمہ داران کو کہتا ہوں کہ یہ دیکھ لیں کہ انارکی کون پھیلا رہا ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ جس طرح انہوں نے لال حوالی پر قبضہ کیا ہے اس کے سبب تاخیر ضرور ہوسکتی ہے لیکن لال حویلی لانگ مارچ کا حصہ ضرور بنے گی، راولپنڈی کے عوام آزادی مارچ میں تاریخی حصہ لیں گے۔
اس کے علاوہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور پنجاب کے دیگر شہروں میں روڈ بلاک ہونے کی اطلاع ملیں، کراچی میں کیپری سینما سے نمائش چورنگی کی جانب مین ایم اے جناح روڈ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ کیپری سگنل اور سوسائٹی سگنل سے نمائش روڈ کی جانب سڑک ٹریفک کیلئے بند ہے، جبکہ پی پی چورنگی سے کوریڈور-3 بھی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے، کیپری سے نمائش کی جانب جانے والی ٹریفک کو ناصرہ اسکول / سولجر بازارکی جانب بھیجا جا رہا ہے، سوسائٹی سگنل سے نمائش جانے والی ٹریفک کو عائشہ عزیز کشمیر روڈ کی جانب بھیجا جارہا ہے، پی پی چورنگی سے تمام ٹریفک کوعائشہ عزیز چورنگی اور سوسائٹی سگنل کی جانب بھیجا جا رہا ہے۔
ایک ٹی وی کے مطابق پولیس نے عمران خان کی رہائش گاہ سے چند کلومیٹر دور بنی گالہ میں نیازی چوک کو بند کر دیا ہے، اسلام آباد پولیس نے نیازی چوک پر ایک چیک پوسٹ قائم کر رکھی ہے جبکہ پنجاب پولیس کے تقریباً 2 ہزار اہلکار تعینات ہیں۔
ادھر کراچی میں پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے جاری شدید احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ رہی جب کہ احتجاج کے دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان تصادم میں پولیس کی جانب سے فائرنگ اور شیلنگ بھی کی گئی اور کارکنان کی جانب سے بھی پتھراؤ کیا گیا، اس دوران ایک کارکن زخمی ہوا، احتجاج اور تصادم کے دوران مشتعل کارکنوں نے قیدیوں کو لے جانے والی ایک پولیس وین کو بھی آگ لگادی،

اس دوران علی زیدی سمیت پی ٹی آئی کے قائدین بھی وہاں موجود ہیں اور انہوں نے نمائش چورنگی پر دھرنا دے دیا ہے، اس سے قبل کراچی ٹریفک پولیس نے بتایا تھا کہ ایم اے جناح روڈ کو کیپری سینما سے نمایش چورنگی کی جانب جانے والی سڑک کو “سیکیورٹی وجوہات” کی بنا پر بلاک کر دیا گیا جب کہ پی پی پی چورنگی سے کوریڈور 3 کو بھی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان آمنے سامنے کی اطلاع ملی جب پولیس نے خانکی ہیڈ ورکس کے قریب رکاوٹیں لگا کر انہیں روکنے کی کوشش کی، تاہم مارچ کرنے والوں نے زبردستی رکاوٹوں کو عبور کیا اور آگے بڑھ گئے، چوہدری احمد چٹھہ کی قیادت میں قافلہ اب اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔ پی ٹی آئی کے گوجرانوالہ کے جنرل سیکرٹری طارق گجر کے مطابق کارواں کے 150 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

دریں اثنا فیصل آباد میں بھی کمال پور انٹر چینج پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے آگئے، ایس پی مدینہ ٹاؤن ڈویژن اور ایس ایچ او چک جھمرہ رائے آفتاب بھی موقع پر موجود تھے، کارکنان نے ایف ڈی اے سٹی کی دیوار توڑ کر گاڑیاں نکال لیں، متعدد گاڑیاں گزر جانے کے بعد پولیس حرکت میں آئی، پولیس کی نفری اور ڈولفن پہنچ گئی، پولیس کی بھاری نفری موٹروے پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کیلئے جدوجہد کرنے لگی، کارکنان کی بڑی تعداد نے پولیس کو پیچھے ہٹا دیا اور رکاوٹیں ہٹا کر موٹروے پر گاڑیاں چڑھانے لگے۔

ادھر ڈسکہ میں پی ٹی آئی کے ضلعی صدر علی اسجد ملہی کے ڈیرے پر پولیس نے چھاپہ مارا، پولیس کی بھاری نفری نے ڈیرے پر موجود کارکنوں کو دفعہ 144 کے تحت گرفتار کرنے کی کوشش کی، گرفتاری کے خوف سے کارکن پولیس کو دیکھ کر منتشر ہو گئے، علی اسجد ملہی کی قیادت میں این اے 75 کے تمام کارکنوں نے بڑے قافلے کی صورت میں اس ڈیرہ سے روانہ ہونا تھا، اب تک کی اطلاعات کے مطابق تا حال ڈسکہ سے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما اور کارکنان ٹولیوں کی شکل میں نکلنے میں کامیاب رہے۔

Related Articles

Back to top button