چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس پاکستان سے مشاورت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہری محمد فہد کی درخواست پر سماعت کی جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین نیب کا تقرر ہوتا ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سیکشن 6 میں ترمیم کر کے چیف جسٹس کی مشاورت کا کہا، 20 سال گزرنے کے باوجود نیب آرڈیننس میں چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق شق میں ترمیم نہیں کی جا سکی۔
لہٰذا وزارت قانون کو چیئرمین نیب کی تعیناتی کے طریقہ کار میں ترمیم کی ہدایت کی جائے اور چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت کے بغیر نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی سے روکا جائے۔
دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور یہ عدالت پارلیمنٹ کوہدایات نہیں دے سکتی، فیصلے میں سپریم کورٹ کی صرف آبزرویشن تھی، عدالت اعظمیٰ کے جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا اس کے بعد کافی فیصلے آ چکے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین نیب کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس پاکستان سے مشاورت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button