سپریم کورٹ نے فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کر دی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزارکی رولنگ کیخلاف چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست کو سننے کے لیے حکمران اتحاد کی فل کورٹ بنانے کی درخواستوں کو مسترد کردیا۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ دوبارہ سماعت کر رہا ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وقفہ لیا اور وقفے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فل بینچ بنانے کی تمام درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں اور تین رکنی بینچ کل 11:30 بجے سماعت کرے گا اور مختصر فیصلے کے حوالے سے تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

مختصر فیصلے میں عدالت نے کہا کہ معاملے کی بنیاد قانونی سوال ہے کہ ارکان اسمبلی کو ہدایت پارٹی سربراہ دے سکتا ہے یا نہیں، وکلا نے فل کورٹ بنانے اور میرٹ پر دلائل دیے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا پرویز الہٰی کے وکیل نے کہا رولنگ عدالتی فیصلے اور آئین کے خلاف ہے جبکہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا پارٹی سربراہ ارکان کو ہدایت دے سکتا ہے۔ مزید وقت دینے کی استدعا منظور کی جاتی ہے اور مزید سماعت کل ہوگی اور فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی جاتی ہے۔

قبل ازیں سپریم کورٹ میں فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے دلائل کے بعد فیصلے کے لیے وقفہ لیا گیا اور وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو فریق بننے کی استدعا منظور کرلی۔ عدالت نے کہا کہ کیس میرٹ پر سنیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بینچ تشکیل دینا ہے یا نہیں ابھی اس کے لیےمزید سماعت کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نظرثانی کیس پر ابھی دلائل نہیں ہوئے، 12 کروڑ کا صوبہ ہے اور سنجیدہ معاملہ ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا5ججوں نے وزیراعظم کو گھر بھیجا تھا، جس پر وزیر قانون نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آپ معذرت نہ کریں، آپ نے تو مٹھائیاں بانٹی تھیں،ہم نے آئین کو دیکھنا ہے،اگر آپ چاہتے ہیں کہ کیس میں نہیں پیش ہونا نہ ہوں، اگر موجودہ حکومت سپریم کورٹ کو تسلیم نہیں کر رہی تو یہ بہت سنگین ہے، آرٹیکل 63 اے کا طویل سفر ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھامیں نے استدعا کی ہے کہ فل کورٹ بینچ بنانے سے عدالتی تکریم میں اضافہ ہوگا۔

دریں اثنا عدالت نے سماعت کے آغاز میں سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں بار کے کافی صدور یہاں موجود ہیں،لطیف آفریدی نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی نظرثانی درخواستیں زیرالتوا ہیں، موجودہ سیاسی صورتحال بہت گھمبیر ہے، سپریم کورٹ ایک آئینی عدالت ہے، ہمارے سابق صدور نے میٹنگ کی ہے،سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست بھی زیرالتوا ہے، دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیکر تمام مقدمات کو یکجا کرکے سنا جائے،جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ذرا کیس کو سیٹ اپ تو کر لینے دیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس کا براہ راست تعلق ہمارے فیصلے سے ہے، ہم چاہیں گے فریقین ہماری رہنمائی کریں،تاہم ایڈووکیٹ علی ظفر نے سابق صدور سپریم کورٹ بار کے مطالبے پراعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ ہوا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کے پاس کرسی تو ہے ناں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سر کرسی کی کوئی بات نہیں، کرسی کی پرواہ نہیں کرتا، ہم نے صبح درخواست جمع کروائی تھی اسے بھی سنا جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ جو اسٹیک ہولڈرز ہیں ان سب کو سنا جائے گا۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی نے کہاالیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی زیر التوا ہیں، آئینی بحران سے گریز کیلیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے، بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں، پورا سسٹم داؤ پر لگا ہوا ہے، سسٹم کا حصہ عدلیہ اور پارلیمان بھی ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر نے بھی دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت سے فل بینچ بنانے کی استدعا کی تو عدالت نے استفسار کیا کہ کن نکات پر فل کورٹ سماعت کرے،آئین کی دفعہ 63 اے کے حوالے سے آپ اپنے حکم نامے کا پیرا گراف نمبر 1 اور 2 پڑھ لیں جس سے سب باتیں کلیئر ہوجائیں گی، صدر مملکت نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا ریفرنس بھیجا، آرٹیکل 63 اے کو الگ کر کے نہیں پڑھا جاسکتا، سیاسی جماعت کو ہدایات پارٹی سربراہ دیتا ہے، پارلیمانی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ہے، سیاسی جماعتوں کی کمزوری سے جمہوری نظام خطرے میں آسکتا ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف نظام کے لیے کینسر کے مترادف ہے۔

بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو ارکان اسمبلی میں موجود ہوتے ہیں صرف وہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں، سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہے، کیا ڈیکلریشن اور پارلیمانی پارٹی کو ہدایات ایک ہی شخص دے سکتا ہے؟

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران حمزہ شہباز کے وکیل منصور اعوان نے کہا کہ میں نے اپنا جواب عدالت میں جمع کروا دیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں بتائیں ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ میں ہمارے فیصلے کے کس حصے کا حوالہ دیا، ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے جس پیراگراف پر انحصار کیا وہ کہاں ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئین ڈائریکشن اور ڈیکلریشن پر واضح ہے، پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کا کردار الگ الگ ہے، حمزہ شہباز کے وکیل نے غیر متعلقہ جواب دیا تو ججز نے انہیں پہلے بنیادی سوال کا جواب دینے کی ہدایت کی۔

بینچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے وکیل سے کہا کہ جو نقطہ آپ اٹھانا چاہ رہے ہیں وہ ہم سمجھ چکے ہیں، مناسب ہوگا اب کسی اور وکیل کو موقع دیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہدایت اور ڈیکلریشن دو الگ الگ چیزیں ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے عدالتی فیصلے کے جس نقطے کا حوالہ دیا وہ بتائیں۔

وکیل منصور اعوان نے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ مسترد ہوجائے گا، یہئ نقطہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے؟ فیصلے کے کون سے حصے پر ڈپٹی اسپیکر نےانحصار کیا اس کابتائیں، حمزہ شہباز کے وکیل نے بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر نے فیصلے کے پیراگراف نمبر تین پر انحصار کیا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 14ویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا، آپ کے سیاسی پارٹی کے سربراہ کے بارے میں کیا قانونی دلائل ہیں؟

ایڈووکیٹ ‏منصور اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے 14ویں ترمیم سےآئین میں شامل کیا گیا لیکن 18 ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے کی مزید وضاحت کی گئی، جسٹس شیخ عظمت سعید کے8 رکنی فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلہ کرتا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی پالیسی میں ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق دو الگ اصول ہیں، 18ویں ترمیم سے قبل آرٹیکل 63 اے پارٹی سربراہ کی ہدایات کی بات کرتا تھا، 18ویں ترمیم کے بعد پارٹی لیڈر کو پارلیمانی پارٹی سے بدل دیا گیا،پہلے پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے اختیارات میں ابہام تھا، ترمیم کے بعد آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کو ہدایت کا اختیار ہے، عدالتی فیصلہ خلاف آئین قرار دینے کے نقطے پر رولز موجود ہیں۔
حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر فیصلہ ماضی کی عدالتی نظیروں کے خلاف ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دے، اگر پانچ رکنی بینچ کو لگتا ہے ماضی کا عدالتی فیصلہ غلط تھا تو فل بینچ ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔

بینچ کے سربراہ چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت میں سینیئر پارلیمینٹرینز نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پارٹی سربراہ آمر ہوسکتا ہے، اس کے کردار کو کم کرنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کو کردار بھی دیا گیا، پاکستان میں موروثی پارٹیاں ہیں، ایک سربراہ باہر بیٹھ کر کیسے ہدایات دے سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارلیمانی نمائندوں کو آئین میں اختیارات دیے گئے ہیں، اسمبلی میں کس کو ووٹ دینا ہے اس کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے، صدارتی ریفرنس میں ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی ہیڈ کی ڈکٹیٹر شپ سے بچایا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پارٹی ہیڈ کی ڈکٹیٹر شپ سے متعلق کئی ارکان نے شکایات کیں، پارٹی ہیڈ کو بھی پارلیمانی پارٹی کی رائے سننی ہوگی۔

ایڈووکیٹ منصور اعوان نے کہا کہ 4 سیاسی جماعتوں کے سربراہ پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، جے یو آئی (ف) پارٹی سربراہ کے نام پر ہے لیکن مولانا فضل الرحمٰن پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، عوام میں جواب دہ پارٹی سربراہ ہوتا ہے پارلیمانی پارٹی نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی سربراہ کا کردار بہت اہم ہے، منحرف رکن کے خلاف پارٹی سربراہ ہی ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے، ووٹ کس کو ڈالنا ہے ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی اور ریفرنس سربراہ بھیجے گا، سیاسی جماعت اصل میں وہی ہوتی ہے جو پارلیمانی پارٹی ہو، عوام جسے منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجتی ہے ان ارکان کے پاس ہی مینڈیٹ ہوتا ہے،برطانیہ میں تمام اختیارات پارلیمانی پارٹی کے ہوتے ہیں، برطانیہ میں پارلیمان کے اندر پارٹی سربراہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا، ڈپٹی اسپیکر نے عدالتی فیصلہ درست مانتے ہوئے ہی رولنگ میں اس کا حوالہ دیا تھا، اس پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل نے کہا کہ ووٹ مسترد کرنے کی حد تک فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا۔

بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یعنی ووٹ مسترد ہونے کی حد تک عدالتی فیصلہ تسلیم شدہ ہے، سوال صرف ڈپٹی اسپیکر کی تشریح کا ہے کہ درست کی یا نہیں،ڈپٹی سپیکر نے ہمارے فیصلہ پر انحصار کر کے فیصلے سے آگے بڑھ کر رولنگ دی، سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلہ کہ درست تشریح کی، سوال یہ بھی کیا ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کی غلط تشریح تو نہیں کی۔

دوران سماعت وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کارروائی میں ایک بات پھر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ منصور اعوان نوجوان اور انکے کندھوں پر بہت بوجھ ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ منصور اعوان بہت بہترین دلائل دے رہے ہیں، عدالت نے منصور اعوان کو وزیر قانون سے ہدایات لینے سے روک دیا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ منصور اعوان وزیراعلی پنجاب کے وکیل ہیں، وہ وزیر قانون سے کیسے ہدایات لے سکتے، چیف جسٹس نے کہا کہ سوالات سے پریشان نہ ہوں، دلائل جاری رکھیں۔
ایڈووکیٹ منصور اعوان نے کہا کہ عمران خان کی ہدایات کو الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا، الیکشن کمیشن کا اس معاملہ پر فیصلہ کیا، جس پر جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیسن کے معاملہ سے تعلق کیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی دیا ہے، آپ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی پڑھ لیں۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تمام پارٹی اراکین کو چوہدری شجاعت کا خط اجلاس شروع پونے سے پہلے موصول ہو گیا تھا۔

وکیل منصور اعوان نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کے پہلے انتخابات میں پی ٹی آئی کو ہدایات عمران خان نے دی تھیں، الیکشن کمیشن نے عمران خان کی ہدایات پر ارکان کو منحرف قرار دیا، منصور اعوان نے عمران خان کی ایم پی ایز کو ہدایت بھی عدالت میں پیش کر دی۔

بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب انتخاب کے پہلے اور اب کے کیس فرق ہے، الیکشن کمیشن میں ارکان کا موقف تھا کہ انہیں پارٹی ہدایت نہیں ملی، موجودہ کیس میں ارکان کہتے ہیں پارلیمانی پارٹی نے پرویز الہی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا، انہوں نےریمارکس دیے کہ پارلیمانی پارٹی ہدایت کے نقطے پر کسی فریق نے اعتراض نہیں کیا، منحرف ارکان اور اس کیس کے حقائق مختلف ہے، منحرف ارکان کا موقف تجا ہمیں شوکاز اور ہدایات نہیں ملی،یہاں پر ایشو مختلف ہے،تمام10 ممبران نے ووٹ کاسٹ کیا،کسی رکن نے دوسری طرف ووٹ نہیں ، تمام ارکان نے ایک طرف ووٹ ڈالا،دس ارکان میں میں کسی نے نہیں کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہیں ہوا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے مکالمے میں کہا کہ مقدمہ کے میرٹ پر دلائل نہ دیں، فل کورٹ کی تشکیل پر دلائل دیں، دوسری سائیڈ نے فل۔کورٹ پر دلائل دئیے ہیں،آپ بتائیں فل کورٹ کیوں نہ بنائی جائے، آپ دوسری سائیڈ کی فل کورٹ کی استدعا کو کیسے مسترد کرینگے؟علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے بڑا کلیئر ہے، پارٹی سربراہ کو پارلیمنٹیرین پارٹی کی ہدایات کے مطابق ڈکلئیریشن دینی ہوتی ہے، آرٹیکل 63 اے پر عدالت پہلے ہی مفصل سماعتوں کے بعد رائے دے چکی ہے، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت تسلیم کرنا ہی جمہوریت ہے۔

چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل نے کہا پارٹی اجلاس میں مختلف رائے دینے والا بھی فیصلے کا پابند ہوتا ہے۔

دوران سماعت بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی جماعت کے سربراہ کی آمریت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، آرٹیکل 63 اے اور اسکی عدالتی تشریح بالکل واضح اور غیر مبہم ہے،فل کورٹ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کا ہے، 15 مقدمات میں چیف جسٹس نے فل کورٹ بنانے سے انکار کیا ہے، فل کورٹ سے عدالت کو دوسرا سارا کام روکنا پڑتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا 2015 کا عدالتی فیصلہ غیر آئینی ہے، جس پر علی ظفر نے کہا کہ عدالت پر مکمل اعتماد ہونا چاہیے، فل کورٹ تشکیل دینا چیف جسٹس کی صوابدید ہے، کیا تمام عدالتی کام روک کر فل کورٹ ایک ہی مقدمہ سنے؟ گزشتہ 25 سال میں فل کورٹ صرف 3 یا 4 کیسز میں بنا ہے، گزشتہ سالوں میں فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا 15 مقدمات میں مسترد ہوئیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ نہ بنانے سے دیگر مقدمات پر عدالت کا فوکس رہا، مقدمات پر فوکس ہونے سے ہی زیر التوا کیسز کم ہو رہے ہیں، علی ظفر نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ حمزہ شہباز عبوری وزیراعلی زیادہ سے زیادہ دیر رہیں، عدالت نے تحریک عدم اعتماد کیس چار دن میں ختم کر دیا تھا، دیگر مقدمات اس کیس کیساتھ نتھی کرنے سے صرف وقت ضائع ہوگا، سابق بار صدور کا آنا اور دلائل دینا سمجھ سے بالاتر تھا، منحرف ارکان کی اپیلیں اور نظرثانی اس کیس سے منسلک کرنا ذیادتی ہوگی، بحران ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ جلد فیصلہ کیا جائے، نظر ثانی کی درخواستیں صرف 5 رکنی بینچ ہی سن سکتا ہے، عدالت کے سامنے بڑا سادہ مقدمہ ہے،عدالت پر ہمیں اور پوری قوم کو پورا یقین ہے۔

عدالت عظمیٰ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ، جو آج شام ساڑھے5 بجے سنایا جائے گا۔

دریں اثنا پیپلز پارٹی نے چوہدری پرویز الہٰی کی درخواست میں فریق بننے کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرادی، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان موجود ہیں ان کا موقف سنا جائے۔اسی طرح سپریم کورٹ میں جے یو آئی ف نے بھی فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے ، ایڈووکیٹ سینیٹرکامران مرتضٰی کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ یہ انتہائی اہم نوعیت کا معاملہ ہے اس لیے ہمارا بھی موقف سنا جائے۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے کیس میں حکومتی اتحاد نے فل کورٹ سماعت کے لئے پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ گزشتہ روز کیا ، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے پر پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا ۔

بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) ، پی پی پی ، جے یو آئی (ف) قیادت سپریم کورٹ جائے گی اور اس معاملے پر دائر کی جانے والی پٹیشن میں فل کورٹ بنانے اور سپریم کورٹ بار سمیت متعلقہ درخواستوں کی ساتھ سماعت کی استدعا کی جائے گی ، حکومتی اتحاد میں شامل ایم کیوایم ، اے این پی، بی این پی اور بی اے پی سمیت دیگر اتحادی بھی درخواست گزار بنیں گے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے 5 سابق صدور نے چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال سے مشترکہ مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب اور آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی نظر ثانی درخواست فل کورٹ سنے ، سابق صد ر سپریم کورٹ بار عبدالطیف آفریدی،محمد یاسین آزاد ،فضل حق عباسی،کامران مرتضیٰ اور سید قلب حسن کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب اور آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی نظر ثانی درخواست فل کورٹ سنے، نظر ثانی کی درخواست کو فل کورٹ میں بھجوایا جائے اور اہم ترین آئینی مقدمات کا تمام فریقین کو سن کر یکجا فیصلہ کیا جائے۔

Related Articles

Back to top button