کالج، یونیورسٹیوں کے طلبا کو الیکٹرک بائیک کیسے ملے گی؟

نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی جانب سے کالج اور یونیورسٹیز کے طلبا کو الیکٹرک بائیکس دینے کے اعلان کے بعد اس کے طریقے کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، صوبائی حکومت نے اس حوالے سے فارمولہ بھی طے کر لیا ہے۔اُردو نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ الیکٹرک بائیکس صرف یونیوسٹریز اور کالجز کے طلبہ کو دی جائیں گی، اور اس حوالے سے بینک آف پنجاب حکومت کی مالی معاونت کرے گا، صوبائی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بلال افضل نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم قابل عمل تجاویز وزیراعلٰی پنجاب کو بھیجیں گے جو اس پر حتمی منظوری کابینہ سے لیں گے، اب اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا کہ طالب علموں کو رعایت کتنی دی جائے گی، تاہم ہم نے اپنے قابل عمل پروپوزل تیار کر لیے ہیں۔پنجاب کے سیکریٹری ٹرانسپورٹ جاوید احمدی قاضی کے مطابق ’ہم نے مارکیٹ میں موجود تمام مینفیکچرز اور ان کی قیمتوں کے حوالے سے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس پروگرام کے تحت سٹوڈنٹس سے آن لائن درخواستیں لی جائیں گی اور پھر ان کی قرعہ اندازی بھی ہوگی۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’کالجز اور یونیورسٹیز کو بھی آن بورڈ لیا جائے کہ جن بچوں کے نام قرعہ اندازی میں نکلیں گے ان کی گارنٹی متعلقہ ادارے بھی دیں گے تاکہ شفافیت کا عمل زیادہ سے زیادہ ممکن ہو سکے۔‘نئی الیکٹرک بائیک سکیم انتہائی کم شرح سود پر ہوگی، جبکہ طلبا کو یہ سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ اپنی تعلیم ختم ہونے کے بعد بائیکس واپس کر کے اس وقت کی قیمت کے مطابق اپنی رقم واپس بھی لے سکتے ہیں۔صوبائی وزیر بلال افضل کا کہنا ہے کہ ’اس پروگرام کا اصل مقصد ماحول کو بچانے کا اقدام کرنا ہے۔ جتنے زیادہ لوگ الیکٹرک بائیکس پر کالجز اور یونیورسٹیز میں آئیں گے اسی تناسب سے دیگر ٹراسپورٹ ذرائع کم ہوں گے۔ ہم اس بات کا خیال رکھ رہے ہیں کہ طالب علموں پر معاشی بوجھ نہ پڑے۔ بلکہ ان کے لیے سہولت ہو۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سکیم کی حتمی منظوری کابینہ تک کب ممکن ہو سکے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ اگلے مہینے یعنی جنوری میں یہ سکیم منظور ہو جائے گی۔پنجاب حکومت الیکٹرک موٹر بائیکس کو گرین فنانسنگ کے تحت جلد ہی لانچ کرنے جار ہی ہے جبکہ بینک آف پنجاب اس سکیم کو سافٹ لون کی کیٹیگری میں لا رہا ہے جس کی شرح سود زیادہ سے زیادہ چھ فیصد ہوگی۔پاکستان کی مارکیٹ میں الیکٹرک موٹر بائیکس کے استعمال میں پچھلے کچھ برسوں سے اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ مارکیٹ میں 90 ہزار روپے سے چار لاکھ روپے تک مختلف صلاحیتوں کی حامل الیکٹرک موٹر بائیکس دستیاب ہیں۔

Related Articles

Back to top button