کیا آصف زرداری بلاول کو وزیر اعظم بنوائیں گے یا شہباز کو؟

اگرچہ وفاق میں الیکشن کے اب تک کے غیر حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے برتری حاصل کی ہے تاہم پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان رابطے شروع ہوچکے ہیں۔

موجودہ صورت حال میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بہتر پوزیشن میں ہے کیونکہ بظاہر مسلم لیگ ن اور آزاد امیدوار جن کی اکثریت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے، پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنانا چاہے تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ 134 کے جادوئی ہندسے کو عبور کر سکتی ہے۔مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جے یو آئی، آئی پی پی، دو آزاد اور دیگر علاقائی جماعتوں کی نشستیں ملا کر 154 کا نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے، جو کہ موجودہ صورت حال میں اس کے لیے ایک آئیڈیل حل نظر آ رہا ہے۔

تاہم مبصرین کھ مطابق اگر لیگی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کو ساتھ ملا کر پی ڈی ایم طرز کی حکومت بناتی ہے تو سب سے پہلے اسے ایک طویل لین دین سے گزرنا پڑے گا جہاں ہر جماعت کے اپنے مطالبات ہوں گے۔ان مطالبات کو پورا کرتے کرتے حکومتی اتحاد ایک طرف تو ملکی معاملات چلانے میں ناکام ہو جاتے ہیں دوسری طرف ہمہ وقت بلیک میلنگ کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے۔ اور دوسری جانب جب بھی کوئی جماعت اتحاد سے الگ ہو جائے تو وزیراعظم اکثریت سے محروم ہو جاتا ہے۔ایسی صورت حال میں جو سب سے بڑی مشکل پیش آتی ہے کہ اگر کوئی کام اچھا ہو جائے تو سبھی جماعتیں اس کا کریڈٹ لینے پر تیار ہو جاتی ہیں لیکن اگر کسی جگہ حکومت ڈیلیور نہ کر سکے تو اس کی ذمہ داری وزیراعظم اور اس کی جماعت پر ڈال دی جاتی ہے جس کا عملی نمونہ انتخابی مہم کے دوران سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اپنے ہی سابق وزیراعظم شہباز شریف سے متعلق بیانات کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ تاہم اس کھ باوجود نون لیگ کی جانب سے وفاق اور پنجاب میں اتحادی حکومت کے قیام کی کوششیں جاری ہیں۔

 سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مسلم لیگ ن حکومت بناتی ہے تو شہباز شریف ہی اگلے وزیراعظم ہوں گے جبکہ پنجاب میں مریم نواز وزیراعلٰی کی امیدوار ہوں گی۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب جبکہ کسی بھی جماعت کے پاس سادہ اکثریت موجود نہیں ہے تو آئندہ بننے والی ممکنہ مخلوط حکومت کا خاکہ کیا ہو گا؟

لاہور میں مقیم صحافی و تجزیہ کار اجمل جامی کے مطابق نواز شریف کی تقریر کے بعد ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم 0۔2 بننے جا رہی ہے، لیکن یہاں اہم سوال یہ ہے کہ کیا پی ڈیم ایم کی پہلی حکومت ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام لا سکتی تھی؟ اس کا جواب ہے نہیں۔‘ان کے مطابق عمران خان کی جماعت کے حمایت یافتہ اراکین اکثریتی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور وہ پی ڈی ایم کی حکومت کو تنگ کرتے رہیں گے۔اجمل جامی کہتے ہیں کہ ’خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہو گی اور دیگر صوبوں کو جو شخصیات مطلوب ہوں گی وہ وہاں شاہی مہمان بن کر رہیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ملک میں دو حکومتیں چل رہی ہوں۔‘ تاہم نئی حکومت بنانے میں سابق صدر آصف علی زرداری کا بڑا کردار ہو گا۔

’ابھی گیند آصف علی زرداری کے کورٹ میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارتِ اعظمیٰ مانگیں گے؟ اجمل جامی کے مطابق اس وقت حکومت سازی کے کئی فارمولے گردش کر رہے ہیں جن میں ایک یہ بھی شامل ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن ڈھائی، ڈھائی برس حکومت کریں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ فارمولا بھی گردش کر رہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنا دیا جائے اور شہباز شریف یا مریم نواز کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا جائے۔

دوسری جانب پنجاب کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ایک اور تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں ملک میں نئی پی ڈی ایم حکومت آنے کے بعد بھی سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔بیرسٹر گوہر نے ریٹرنگ افسران کے دفاتر کے باہر احتجاج کا اعلان کیا ہے اور یہ اُن کی ذاتی نہیں بلکہ پارٹی کی رائے ہے۔”اگر سیاسی استحکام کا یہی عالم رہا تو یہ میرے صحافتی رائے ہے کہ انتخابات پھر جلدی آ جائیں گے۔’

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان بات چیت پر رائے دیتے ہوئے سلمان غنی کا کہنا تھا کہ ‘میری معلومات کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات طے ہو چکے ہیں لیکن شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ نواز شریف سے ان معاملات کی منظوری لیں گے۔’انھوں نے مزید کہا کہ ‘ایسا ہوسکتا ہے کہ شہباز شریف وزیراعظم ہوسکتے ہیں اور آصف زداری صد ہوسکتے ہیں۔”یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نواز شریف صدر ہوں اور وزیراعظم پاکستان پیپلز پارٹی کا ہو۔’وہ سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔

ڈان نیوز سے منسلک صحافی و تجزیہ کار عارفہ نور کہتی ہیں کہ ’شہباز شریف خود کہہ چکے ہیں کہ اگر اتحادی حکومت بنی تو وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوار کا فیصلہ مشاورت سے ہو گا۔‘پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اتحاد پر عارفہ نور کہتی ہیں کہ ’ایسا لگ رہا ہے کہ یہ خود سے نہیں بلکہ کسی کے کہنے پر ساتھ آ رہے ہیں۔‘

Related Articles

Back to top button