کیا باپ وزیراعظم اوربیٹا وزیراعلیٰ ہونا ڈکٹیٹرشپ نہیں؟


سینئر صحافی انصار عباسی نے مرکز میں شہباز شریف کے وزیراعظم بننے اور پنجاب میں انکے بیٹے حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ بننے کو ملکی سیاست میں چند خاندانوں کی ڈکٹیٹرشپ کی زندہ مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستانی سیاست کا وہ المیہ ہے جسے ہم سب تسلیم کر چکے ہیں اور اب اسے برا بھی نہیں جانتے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ باپ وزیر اعظم تو بیٹا وزیر اعلیٰ پنجاب، شہباز شریف بھی خوش، حمزہ بھی خوش اور مسلم لیگ ن کے تمام رہنما بھی خوش۔ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ نواز شریف نے کیا اور ساری جماعت نے سر تسلیم خم کر دیا۔ اگرچہ یہ سب کچھ جمہوریت کے نام پر ہوا لیکن یہ پاکستانی سیاست پر چند خاندانوں کی ڈکٹیٹرشب کی وہ حقیقت ہے جسے بحیثیت قوم ہم تسلیم کر چکے ہیں اور اسی لیے اسے بُرا نہیں جانتے۔ انصارکہتے ہیں کہ ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) ہو یا ق لیگ ، عوامی نیشنل پارٹی یامتعدد دوسری سیاسی جماعتیں، ان کی پارٹی قیادت ہر حال میں ان سیاسی جماعتوں پر مسلط خاندانوں تک ہی محدود رہتی ہے۔ یعنی طے ہے ن لیگ ہے تو قیادت شریف خاندان میں سے ہی ہو گی۔ پیپلز پارٹی ہے تو بھٹو زرداری خاندان ہی رہنما بننے کے قابل ہیں ، جے یو آئی (ف)، ق لیگ اور اے این پی کی اعلیٰ قیادت بھی مولانا فضل الرحمٰن خاندان، گجرات کے چوہدری اور ولی خان خاندان تک ہی محدود ہے۔ اسی لحاظ سے الیکشن جیتنے پر اعلیٰ ترین حکومتی عہدوں پر پہلا حق انہی خاندانوں کے افراد کا رہتا ہے۔ ہاں اگر ان خاندانوں کے علاوہ کسی دوسرے کو کوئی اعلیٰ عہدہ دینا ہے تو پھر ایک تویہ اُس فرد پر ان حکمران خاندانوں کا احسان اور مہربانی تصور ہو گی اور دوسرا ایسا وزیر اعظم ، وزیراعلیٰ یا کسی دوسرے اہم عہدے پر بیٹھا فرد جو کرے گا اپنی پارٹی قیادت یعنی حکمران خاندان کی مرضی اور منشا کے مطابق ہی کرے گا۔ یعنی اصل حکمرانی ان خاندانوں کے پاس ہی رہتی ہے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں ن لیگ کا وزیر اعظم بننا تھا تو شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ جب پنجاب کے چیف منسٹر کا سوال پیدا ہوا تو حمزہ شہباز کو یہ عہدہ دے دیا گیا۔ چلیں شہباز شریف اپنے تجربے اور کارکردگی کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ کے لیے ایک مضبوط امیدوار تھے لیکن وزارتِ اعلیٰ پنجاب کے لیے حمزہ شہباز ہی کیوں؟ نہ صرف یہ کہ حمزہ شہباز کا حکومتی انتظامی امور کا کوئی تجربہ نہیں بلکہ یہ بات ہی بڑی معیوب لگتی ہے وزیر اعظم کے ہی بیٹے کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے۔ کیا ن لیگ میں کوئی دوسرا سیاستدان ایسا نہیں تھا جسے پنجاب کا وزیر اعلیٰ لگایا جاتا۔ باعثِ مجبوری شریف خاندان سے باہر چند افراد کو ماضی میں اعلیٰ عہدے مہربانی کے طور پر ضرور دیے گئے اور یہی کچھ پیپلز پارٹی اور دوسری ایسی جماعتوں میں بھی ہوتا آیاہے لیکن پاکستان کی سیاست پر چند خاندانوں کی ڈکٹیٹرشپ نہ کمزور ہوئی اور ان سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے دوسری سطح کے رہنما چاہے وہ کتنے ہی تجربہ کار ، لائق فائق اور قربانیاں دینے والے کیوں نہ ہوں، سیاسی غلامی کی ہی زندگی گزارنے پر مجبور رہے ہیں۔ اُنہیں معلوم ہے کہ جو کچھ اُنہیں ملنا ہے وہ سیاست پر قابض ڈکٹیٹر خاندانوں کی مہربانی سے ہی ملنا ہے، اس لیے جو ملتا ہے، وہ اسی پر خوش رہتے ہیں اور کسی صورت ان سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری پر نہ سوال اُٹھاتے ہیں اور نہ ہی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے حصول کے بارے میں سوچتے ہیں کیوں کہ اُنہیں معلوم ہے کہ اگر ایسی سوچ کی بھنک بھی پارٹی قیادت تک پہنچ گئی تو پھر اُن کا پارٹی میں کوئی مستقبل نہیں۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بغیر کسی تجربے کے چھوٹی عمر میں ہی بلاول بھٹو پارٹی چیئرمین بنا دیے گئے جبکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے نام بلاول کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہو گئے۔ یہی حال ن لیگ کا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کو چھوڑیں، کسی بڑے سے بڑے ن لیگی رہنما کی حمزہ شہباز، مریم نواز کے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ سب مریم اور حمزہ کے سامنے مودب کھڑے ہوتے ہیں کیوں کہ اُنہیں پتا ہے کہ وہ کچھ بھی کر لیں اُن کا کردار ثانوی ہی رہے گا۔ جماعت اسلامی جیسی کسی ایک آدھ پارٹی کو چھوڑ کر پاکستان میں کسی سیاسی جماعت میں جمہوریت کا کوئی نام ونشان نہیں۔ پی ٹی آئی میں موروثی سیاست تو ابھی نہیں لیکن عمران خان جو کہہ دیں وہی فائنل ہے۔ کسی بڑی سیاسی جماعت میں اعلیٰ پارٹی قیادت چننے کے لیے کبھی کوئی فیئر الیکشن نہیں کروایا جاتا اور عام سیاسی ورکرز اور سیاست دانوں کی صرف دوسرے درجے کی ہی سیاست تک رسائی ہوتی ہے۔ اس دوسرے درجے کی سیاست سے اوپر سوچنا اُن کے لیے ایسا گناہ اور جرم ہے جس کی کم از کم سزا سیاسی جماعت سے بے دخلی ہے۔ بقول انصار عباسی، پہلے شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، اور خواجہ آصف جیسوں نے نواز شہباز زندہ باد کے نعرے لگائے اور اب مریم حمزہ زندہ باد کے نعرے لگائیں گے۔ اسی طرح قائم علی شاہ سے مراد علی شاہ تک، سب نے زرداری اور بلاول کے ہی نعرے لگانے ہیں۔ یہ پاکستان کی سیاست کا وہ المیہ ہے جسے کم سب قبول کر چکے ہیں۔

Related Articles

Back to top button