کیا ترین اور نواز شریف ملکر کپتان کا مقابلہ کریں گے؟

پاکستان میں انتخابات کا موسم تقریبا شروع ہو چکا ہے۔ جہاں ایک طرف پیپلزپارٹی جلسوں کی سیاست کر رہی ہے  وہیں دوسری طرف نون لیگ کا سارا زور ابھی تک جوڑ توڑ کی طرف مرکوز ہے۔ مسلم لیگ ایک طرف نئے انتخابی اتحاد بنا رہی ہے تو دوسری جانب اپنے بیانیے کی تشکیل اور پارٹی ٹکٹوں کے ’درست استعمال‘ پر فوکس کئے ہوئے ہے۔جوڑ توڑ اور انتخابی اتحاد کے حوالے سے آخری بڑی خبر ن لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کی گزشتہ ہفتے پہلی باضابطہ میٹنگ تھی۔ اس اجلاس کے بعد دونوں طرف سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے کمیٹیوں کی تشکیل بھی کی گئی۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹیکےدرمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ جلد حل ہونے کا امکان ہے۔ آئی پی پی نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے 28 نشستوں پر مشتمل فہرست لیگی قیادت کے حوالے کر دی ہے ۔ فہرست میں ان حلقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سے رہنما تحریک استحکام پارٹی الیکشن لڑنے کے خواہاں ہیں، لہذا ان کی خواہش ہے کہ ن لیگ ان تمام حلقوں میں اپنے امیدوار نہ کھڑا کرے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کی جانب سے چند روز میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کو حتمی شکل دے دی جائے گی، جمعہ کو ن لیگ اور آئی پی پی کی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس دوبارہ ہونےکا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین لودھراں جبکہ علیم خان اور عون چوہدری لاہور سے الیکشن لڑیں گے، فرخ حبیب فیصل آباد سے انتخابات میں حصہ لیں گے، فرخ حبیب کو عابد شیر علی والے حلقےکی بجائےکسی دوسرے حلقے سے ایڈجسٹ کیا جائےگا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ اسحاق خاكوانی وہاڑی جبکہ فردوس عاشق اعوان سیالکوٹ سےالیکشن لڑیں گی،گل اصغر اور احسان ٹوانہ خوشاب سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑیں گے جبکہ ذوالفقار چکوال سے، محمد انور اٹک سے اور صمصام بخاری اوکاڑہ سے الیکشن لڑیں گے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوہدری نوریز شکور ساہیوال سے الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں جبکہ ہاشم ڈوگر، طالب نکئی اور آصف نکئی قصور سےالیکشن میں حصہ لیں گے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ مراد راس لاہور اور خالد محمود شیخوپورہ سےالیکشن لڑنا چاہتے ہیں جبکہ ایاز خان نیازی خانیوال اور نعمان لنگڑیال ساہیوال سےالیکشن میں حصہ لیں گے۔ذرائع کے مطابق عمران اسماعیل اور محمود مولوی کراچی سے الیکشن لڑیں گے جبکہ فیاض چوہان راولپنڈی اور اجمل چیمہ فیصل آباد سےالیکشن میں حصہ لیں گے، اس کے علاوہ مامون جعفرحافظ آباد اور رانا نذیر کامونکی سے الیکشن لڑیں گے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت ن لیگ کو تمام پارٹیوں کو ان کی مرضی کے مطابق الیکشن سے پہلے ایڈجسٹ کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’میرے نزدیک تو استحکام پارٹی اور ن لیگ کے درمیان معاملات ٹھیک ہیں۔ میری خبر کے مطابق آئی پی پی نے اپنی فہرستیں تیار کر لی ہیں اور وہ لمبی چوڑی فہرست ہے۔‘انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ’لیکن جتنا میں ن لیگ کی سیاست کو جانتا ہوں یہ سارا دباؤ نواز شریف پر بڑھایا جا رہا ہے لیکن وہ اپنے کارکنوں کی اتنے بڑے پیمانے پر قربانی نہیں دیں گے کہ باقی جماعتوں کو ہی ایڈجسٹ کرتے رہیں۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ استحکام پارٹی توپ کا لائسنس مانگ رہی ہے لیکن انہیں ملے گا صرف پستول کا لائسنس ہی۔ سیاست میں یہ سب تو پھر چلتا ہے۔‘

Related Articles

Back to top button