کیا جنرل فیض حمید کا انجام بھی قریب آ نے والا ہے؟

سابق ملٹی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بننے سے انکار کی پاداش میں عہدے سے برطرفی کی سزا بھگتنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انصاف ملنے کی راہ ہموار ہوتی نظر آتی ہے۔  جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے شوکت عزیز صدیقی کی اپیل کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف نوٹس جاری ہونے کو کئی حلقے قابل ستائش قرار دے رہے ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے نوٹس کے اجراء سے یہ تاثر جائے گا کہ ملک میں کوئی ”مقدس گائے‘‘ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی اپیل کی سماعت کے دوران چار افراد کو نوٹسز جاری کیے ہیں، جس میں سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور خان کاسی، ریٹائرڈ بریگیڈیئر عرفان رامے اور سابق رجسٹرار ارباب محمد عارف شامل ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی زیر صدارت پانچ رکنی بینچ شوکت عزیز صدیقی کی اپنی برخواستگی کے خلاف اپیل کو سن رہی تھی۔ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی ترمیمی اپیل میں سات افراد کے نام دیے تھے۔ تاہم عدالت کی حجت تھی کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور دو سابق بریگیڈیئرز بریگیڈیئر فیصل مروت اور طاہر وفائی کا اس کیس سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ نے صرف پانچ ملزمان کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے 11 اکتوبر دوہزار اٹھارہ کو نوکری سے ہٹایا گیا تھا۔ انہوں نے دوران ملازمت 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار ایسویشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید پر سنگین الزامات لگائے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ عدلیہ پر دباؤ ڈال کر بینچز بنواتے ہیں۔ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کو اپنے دور میں انتہائی طاقتور سمجھا جاتا تھا اور ان کے حوالے سے کچھ عرصے پہلے ایک بزنس مین نے بھی شکایت کی تھی کہ ان کے کہنے پر انہیں اغوا کیا گیا اور ان کی فیملی کو ہراساں کیا گیا۔

وکلا برادری نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو نوٹس جاری ہونے کو بہت مثبت قرار دیا ہے۔ پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے موجودہ رکن اختر حسین ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ بات انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ سپریم کورٹ یہ واضح پیغام بھیج رہی ہے کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔ ”ہمارے خیال میں یہ بہت مثبت پیش رفت ہے کہ عدالت طاقتور لوگوں کو یہ بتا رہی ہے کہ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے اور یہ کہ اگر کسی نے بے پناہ طاقت کے ساتھ اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے تو عدالت اس کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ وہ قانون کی زد میں آ سکتا ہے۔‘‘سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھ رہا ہے، جو یقیناً عام پاکستانی کے لیے ایک اچھی بات ہے۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے معروف وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ عدالت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی کو مقدس گائے تسلیم نہیں کرے گی۔ ”اس طرح طاقتور لوگوں کے خلاف نوٹسز جاری کرنا نہایت جرات مندانہ اقدام ہے اور بات صرف نوٹسز جاری کرنے تک ہی نہیں بلکہ جس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کو سینسر کیا گیا تھا کل پورے پاکستان کو وہ سپریم کورٹ کے ذریعے پہنچی، جس میں شوکت عزیز صدیقی نے کھل کر یہ الزام لگایا تھا کہ کس طرح اس وقت کے چیف جسٹس نے کوئٹہ میں بیٹھ کر بینچز بنوائی تھیں۔‘‘ان نوٹسیز کے اجرا سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ جنرل فیض کو اب ادارے کا تحفظ نہیں رہا۔ ”میڈیا اب اتنا سرگرم ہے کہ عدالتوں کو بھی یہ بات پیش نظر رکھنی پڑتی ہے کہ ان کی ساکھ پر سوال نہ اٹھے۔‘‘

انعام الرحیم کے مطابق اب جنرل فیض اور دوسرے فریقین کے پاس کچھ ہی قانونی اپشنز ہیں۔ ”یا تو انہیں عدالت میں حاضر ہونا چاہیے یا اپنے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرائیں اور یا غیر حاضر ہونے کی کوئی معقول وجہ بتائیں۔‘‘کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق اگر غیر حاضری کا تسلسل برقرار رہا تو قانونی طور پہ عدالت کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے یا مسلسل غیر حاضریوں پر یکطرفہ فیصلہ دیتے ہوئے کیس کو نپٹا بھی دے۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق صرف سپریم کورٹ نہیں بلکہ دوسری عدالتیں بھی جرات کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور وہ بھی طاقتور لوگوں کو طلب کر رہی ہیں۔ ”حال ہی میں میں نے ایک کیس ایک ریٹائرڈ کرنل کا لاہور ہائی کورٹ پنڈی برانچ میں کیا ہے، جس میں کرنل کو ریٹائرمنٹ کے باوجود پینشن نہیں دی جا رہی۔ اس کیس میں متعلقہ عدالت کے جج نے ایک حاضر سروس میجر جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا کہا ہے، تو یہ ساری باتیں حوصلہ افزا ہیں اور اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ملک قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘

پاکستان میں عام خیال کیا جاتا ہے کہ جرنیلوں کا عدالتیں احتساب نہیں کر پاتیں۔ تاہم جنرل مشرف سمیت تاریخ میں کچھ ایسے فوجی افسران گزرے ہیں جن کے خلاف عدالتوں نے فیصلے دیے ہیں۔ پاکستانی صحافت میں جرنیلوں سے تند و تیز سوالات کی شہرت رکھنے والے صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ جرنیلوں کی طلبی ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے لیکن ان کے خیال میں اصل مسئلہ حاضر سروس جرنیلوں کا ہے۔ ” میرے خیال میں عدالتیں عموماً حاضر سروس جرنیلوں کی موجودگی کو یقینی نہیں بنا پاتیں اوران کو عموماً طلب بھی نہیں کیا جاتا۔‘‘

Related Articles

Back to top button