کیا خیبرپختونخوا میں اگلی حکومت بھی PTI بنائے گی

آئندہ الیکشن میں جہاں ایک طرف مولانا فضل الرحمن تحریک انصاف مخالف اتحاد بنانے کیلئے متحرک ہیں اور جے یو آئی ف، مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور اے این پی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے حکمت عملی مرتب کر لی ہے وہیں دوسری طرف بعض عمرانڈو تجزیہ کاروں کے مابق پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور سیاسی سرگرمیوں سے روکے جانے کے باوجود پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں مقبولیت برقرار ہے۔ تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کے باوجود اب بھی صوبے میں مخلوط حکومت بنا سکتی ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے پی کے میں سیٹیں ضرور جیتے گی لیکن وہ اس پوزیشن میں نہیں ہو گی کہ حکومت بنا سکے کیونکہ زمینی حقائق کے مطابق اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی جماعت تحریک انصاف کی 9 مئی کی شرپسندی کا بوجھ اٹھانے کی متحمل ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی حلقوں کا دعوی ہے کہ اگر انتخابات میں کوئی مداخلت نہ کی گئی تو پھر پی ٹی آئی صوبے میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی مضبوط ہے ہیں اور پی ٹی آئی کے لیے چیلنجز ہیں، تاہم خیبرپختونخوا میں اب بھی پی ٹی آئی کو اس طرح کا کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ الیکشن میں رائے دہندگان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اور ان نوجوانوں کی اکثریت اب بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سابق وزرائے اعلٰی پرویز خٹک اور محمود خان کی سربراہی میں پی ٹی آئی پارلیمینٹرینز تو قائم کر دی گئی ہے، لیکن اس جماعت کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی۔اُن کے بقول دونوں سابق وزرائے اعلی نہ صرف عمران خان کی متبادل قیادت فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں بلکہ دونوں کو اپنے حلقوں اور قریبی رشتہ داروں میں بھی پذیرائی نہیں ملی۔

دوسری جانب صوابی سے سابق رُکن صوبائی اسمبلی اور قوم پرست سیاسی رہنما محمد سلیم خان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، مگر خیبرپختونخوا میں صورتِ حال اس کے برعکس ہے اور عدالتوں سے بھی اُنہیں ریلیف مل رہا ہے۔بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے متعدد درج مقدمات کے باوجود پی ٹی آئی رہنماؤں اور سابق حکومتی عہدے داروں کو گرفتار نہیں کیا جا رہا۔

خیال رہے کہ جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے خیبر پختونخوا کے وسطی اضلاع پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور صوابی میں عرصۂ دراز سے قوم پرست سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی یعنی اے این پی کو نشستیں ملتی رہی ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک اور کرک میں جمعیت علمائے اسلام (ف) مضبوط ہے جبکہ شمالی ہزارہ ڈویژن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نشستیں حاصل کرتی رہی ہے۔لیکن بعض ماہرین کہتے ہیں کہ ان اضلاع سے کسی بھی جماعت کو اس مرتبہ فری ہینڈ ملنے کے امکانات کم ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی قریب کی طرح اب بھی سابقہ قبائلی اضلاع کے بیشتر حلقوں پر بھاری سرمایہ کاری کرنے والوں کی اسمبلیوں میں پہنچنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کے اُمیدواروں کے مقابلے میں مختلف سیاسی جماعتیں اس مرتبہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کو ترجیح دے رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی 2013 میں صوبے میں اقتدار میں آئی تھی اور اس نے جماعتِ اسلامی کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کی تھی۔ لیکن 2018 کے انتخابات میں پارٹی کو صوبے میں دو تہائی اکثریت ملی تھی۔

Related Articles

Back to top button