کیا صدرعلوی آرمی چیف کی تقرری کی ایڈوائس روکیں گے؟


اتحادی حکومت کی جانب سے سینئر ترین جنرل کو نیا آرمی چیف بنانے کے اصولی فیصلے کے باوجود حکومتی حلقوں میں ابھی تک ایسے خدشات موجود ہیں کہ صدر عارف علوی اپنے پارٹی چیئرمین عمران خان کے ایما پر آخری لمحے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوئے وزیر اعظم کی جانب سے بھجوائی گئی تقرری کی ایڈوائس 14 دن کے لیے روک سکتے ہیں۔ حکومتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ایسا کرنے کے لئے صدر عارف علوی کوئی بھی جواز ڈھونڈ سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے کئی مرکزی رہنما ابھی سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف نے کسی ایسے جرنیل کا نام بطور آرمی چیف تجویز کیا جسے عمران خان متنازعہ سمجھتے ہیں تو عارف علوی اس پر اعتراض کر سکتے ہیں، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فوجی سربراہ کی تقرری وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے اور صدر تعیناتی کی ایڈوائس کو 14 روز روکنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ 15ویں روز وزیراعظم کی ایڈوائس پر ازخود عمل ہو جائے گا۔ لیکن اگر صدر علوی 14 دن کے لئے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل روک دیں تو ایک آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے چونکہ جنرل باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہو جانا ہے۔

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اگر 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے رکھی ہے تو وہ اس روز کچھ نہ کچھ ایسا ڈرامہ ضرور کر کے دکھائیں گے جس سے ان کے سپورٹرز اور ووٹرز کو امید اور ہمت مل سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کے ایما پر صدر عارف علوی سے ملاقات کرکے نئے چیف کی تقرری بارے اپنے خدشات کے ازالے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں کوئی واضح یقین دہانی نہیں مل پائی۔ لہذا فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بھی عارف علوی کے ساتھ پیغام رسانی کی گئی ہے اور ان پر واضح کیا گیا ہے کہ فوجی سربراہ کی تعیناتی کے معاملے میں گند ڈالنے سے پرہیز کیا جائے اور اس ایشو پر سیاست نہ کی جائے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ عمران خان نے کرنا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر آباد حملے میں زخمی ہونے والے عمران خان خود اس وقت زمان پارک لاہور میں ہیں اور انکے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی ان کی جگہ مارچ کی قیادت کرتے رہے۔ عمران خان نے چند ہی روز قبل یہ فیصلہ کیا کہ اب ان کا یہ مارچ یا دھرنا 26 نومبر کو راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد پر ہوگا۔ یعنی روات میں لانگ مارچ روکنے کے بعد راولپنڈی میں دوبارہ جمع ہونے کے درمیان ایک ہفتے سے بھی زیادہ کا وقفہ دیا گیا۔ اس دوران پی ٹی آئی مری روڈ راولپنڈی میں جلسے اور ’پڑاؤ‘ کی تیاریوں میں مصروف ہے جہاں ٹینٹ سٹی یعنی خیمہ بستی بنائی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان خود راولپنڈی پہنچ کر مارچ کی قیادت کریں گے لیکن عمران ابتدا میں کہتے رہے ہیں کہ ان کے مارچ کی منزل اسلام آباد ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا انھوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے؟ کیا وہ اسلام آباد نہیں جائیں گے اور راولپنڈی ہی میں رُکیں گے؟ اگر ایسا ہی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ بعض سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار یہ بات کرتے رہے ہیں کہ اس کا تعلق نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں عمران ابتدا ہی سے اس وقت مارچ لے کر اسلام آباد یا راولپنڈی پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں ’جب ملک میں اس بڑی تعیناتی کا وقت قریب ہو۔‘ یاد رہے اگلے چند روز میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل مکمل ہونا ہے جبکہ اسی دوران موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہو جائیں گے۔

تجزیہ نگاروں کے خیال میں حالیہ دنوں میں عمران اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنمائوں کی تقاریر میں اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی میں پڑاؤ یا پیش قدمی کی بات زیادہ ہو رہی تھی۔ خیال رہے کہ راولپنڈی ہی میں فوج کا ہیڈکوارٹر یعنی جی ایچ کیو واقع ہے۔ بعض مبصرین سمجھتے ہیں کہ اس طرح لانگ مارچ کے ذریعے عمران تعیناتی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں گے۔ دراصل وہ وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ عوام کی کتنی طاقت ہے۔ اس طرح وہ حکومت سے جلد نئے انتخابات کی تاریخ لینے کے اپنے مطالبے میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ وفاقی وزرا نے بھی یہی دعویٰ کیا ہے تاہم پی ٹی آئی اس تاثر کی تردید اور نفی کرتی رہی ہے۔ اس کی قیادت کا کہنا ہے ان کے مارچ کا آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

عمران خان کے قریبی ساتھی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے یہ فیصلہ عمران خان کے زخموں کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے کیا۔ انکے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت کا متفقہ فیصلہ تھا کہ عمران کی صحت کے حوالے سے ڈاکٹروں کی رائے کے مخالف کوئی کام نہیں کیا جائے گا اور ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کے زخموں کی نوعیت ایسی ہے کہ اتنے وقت سے پہلے ان کے لیے ممکن نہیں ہو گا کہ وہ خود لانگ مارچ کی قیادت کر سکیں۔ لہٰذا ڈاکٹروں کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے عمران اور جماعت کی دیگر قیادت نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کا فیصلہ کیا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عمران خان کی طرف سے 26 نومبر ہی کی تاریخ رکھنا اور اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی کا رُخ کرنا ’یقیناً ان آوازوں کو تقویت دیتا ہے جو کہتے ہیں ان کی اس چال کا تعلق آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے یا نئے آرمی چیف پر دباؤ ڈالنے سے ہو سکتا ہے۔دوسری صورت میں پی ٹی آئی عمران خان کی مکمل صحتیابی تک راولپنڈی سے لانگ مارچ کے دوبارہ آغاز کو مزید مؤخر کر سکتی تھی۔

انکے خیال میں لانگ مارچ کے ذریعے فوج جیسے ادارے کے اندر ہونے والی قیادت کی تبدیلی پر اثر انداز ہونا مشکل ہو گا۔ کسی بھی جماعت کے لیے فوجی سربراہ کی تعیناتی پر اثرانداز ہونا مشکل ہے۔ اس معاملے پر فوج کے اندر کافی انتظام اور اتحاد پایا جاتا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ چند ہزار لوگوں کے ساتھ راولپنڈی میں بیٹھ کر فوج کے ادارے پر دبائو ڈالا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی نئے آرمی چیف کا فیصلہ ہو چکا ہے اور صرف رسمی اعلان باقی ہے۔ ایسے میں اگر صدر علوی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھیجی جانے والی ایڈوائس پر کوئی پھڈا ڈالتے ہیں تو یہ ان کے اور موجودہ سیاسی نظام کے لیے بھی مناسب نہیں ہو گا۔

Related Articles

Back to top button