کیا عارف علوی نئے آرمی چیف سے پنگا کرنے کا رسک لیں گے؟


وفاقی حکومت کی جانب سے دو سینئر ترین جرنیلوں کو آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف بنانے کی ایڈوائس صدر پاکستان کو بھجوانے کے بعد اب گیند صدر علوی کی کورٹ میں ہے اور انہوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ عزت سے گھر جائیں گے یا عزت لٹوائیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی ایڈوائس پر دستخط ایک رسمی کارروائی ہے اور اگر وہ اس میں کوئی پنگا ڈالتے ہیں اور تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں تو انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی کسی حرکت کا خمیازہ انہیں صدارت سے محرومی کی صورت میں بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو سینئر ترین جرنیلوں کو دو اہم ترین عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے اس لیے عمران خان اور ان کے خاص چماٹ عارف علوی کے پاس پنگا ڈالنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ اگر بحیثیت سپریم کمانڈر افواج پاکستان عارف علوی اپنا آئینی فریضہ ادا کرنے کی بجائے عمران کے ایک ورکر بن کر سیاسی گند ڈالنے کی کوشش کریں گے تو پھر انکا اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا جواز بھی ختم ہو جاتا ہے۔

ایسے میں سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ صدر عارف علوی کسی غیر ضروری تنازعہ میں پڑنے کی بجائے اپنے قائد عمران خان کو یہ مشورہ دیں گے کہ نئی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات مزید خراب کرنے کی بجائے ان میں بہتری لانے کا موقع ضائع نہ کیا جائے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دونوں اہم ترین فوجی عہدوں پر تعیناتی کی ایڈوائس صدر علوی کو جا چکی ہے لیکن دوسری جانب ایسی افواہیں گردش میں ہیں کہ شاید عارف علوی اس ایڈوائس کو واپس بھجوا دیں یا اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے اسے روک کر بیٹھ جائیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے مشورے سے جنرل عاصم منیر کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف اور لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب صدر کی رسمی منظوری کا انتظار ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر صدر علوی کوئی پنگا کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں تو وہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر آج ہی عمل کر دیں گے۔ لیکن اگر انہوں نے ایڈوائس روکی یا واپس بھجوائی تو پھر حکومت کاؤنٹر موو شروع کرے گی، کیونکہ یہ طے ہے کہ جو فیصلے ہو چکے ہیں ان پر ہر صورت عملدرآمد ہوگا۔

اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوائس صدر عارف علوی کے پاس چلی گئی ہے، اب عمران خان کا امتحان ہے وہ دفاع وطن کے ادارے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں یا متنازع۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اس امید کا اظہار کیا کہ صدر عارف علوی اس معاملے پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں کریں گے اور وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی ایڈوائس پر دستخط کرنے میں تاخیر نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ صدر عارف علوی کی بھی آزمائش ہے کہ وہ سیاسی ایڈوائس پہ عمل کریں گے یا آئینی وقانونی ایڈوائس پر، افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے ادارے کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھنا ان کا فرض ہے۔

دوسری جانب عمران خان نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی آرمی چیف کی تعیناتی کے بارے میں سمری پر مجھ سے مشورہ کریں گے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی بارے سوال پر کہا کہ میں صدر سے رابطے میں ہوں اور وہ مجھ سے مشورہ کریں گے کیونکہ یہاں تو آرمی چیف کے بارے میں پوچھنے کے لیے وزیراعظم ایک مفرور کے پاس چلا جاتا ہے، میں تو پھر پارٹی سربراہ ہوں، صدر علوی ہر صورت مجھ سے مشورہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت والے کہتے ہیں کہ میں فیض حمید کو لانے کی کوشش کر رہا تھا مگر میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ستمبر 2021 میں جب سے یہ ڈراما شروع ہوا، میں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ آرمی چیف کون بنے گا۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ نیا آرمی چیف کون ہوگا مگر صدر علوی اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قانون کے اندر رہ کر کھیلیں گے۔

اس سے قبل سینیارٹی لسٹ کے مطابق قیاس کیا جارہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس ، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر میں سے کوئی بھی چیف آف آرمی اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ سبکدوش ہونے والے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ کو دراصل 2019 میں ریٹائر ہونا تھا تاہم ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل وزیر اعظم عمران خان نے اگست 2019 میں ان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی تھی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے قیاس آرائیاں زیر گردش تھیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر ایکسٹینشن لینے جا رہے ہیں لیکن چند ماہ قبل خود آرمی چیف نے ان تمام تر افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس سال ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بعد میں آئی ایس پی آر نے دو مواقعوں پر ان کے ریٹائرمنٹ کے منصوبوں کی تصدیق کی تھی جبکہ گزشتہ چند مہینوں میں خود آرمی چیف نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ان کا ملازمت جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگلے آرمی چیف کی تقرری کو موجودہ سیاسی منظرنامے میں انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے جہاں رواں سال کامیاب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک مسلسل سیاسی بحران اور افواہوں کی زد میں ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کے ریٹائرمنٹ پلان کے بارے میں شکوک و شبہات اتنے زیادہ تھے کہ جب عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ان کے خلاف سیاسی اقدام جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے منسلک ہے اور آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسی وجہ سے عمران خان نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں غیر معینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی تھی۔ جنرل باجوہ نے بالآخر یکم نومبر کو آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کے دورے کے ساتھ فارمیشنز کے اپنے الوداعی دوروں کا آغاز کیا تھا اور اگلے دن مسلح افواج کی اسٹریٹیجک فورسز کمانڈ کا دورہ کیا تھا۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی آرمی چیف کی جائیدادوں کا سکینڈل ان کے اپنے دور میں ہی سامنے آگیا ہے۔

Related Articles

Back to top button