کیا پاکستانی سیکیورٹی ادارے نیوٹرل ہو چکے ہیں؟


پاکستان میں سیکیورٹی ادارے ریاست کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے سب اچھا ہے کی منظر کشی کرنے کو آزاد اور ذمہ دارانہ صحافت قرار دیتے ہیں اور جب صحافی تصویر کا اصل رخ عوام کے سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر خفیہ ایجنسیوں کے نام پر صحافیوں کو گھروں سے اٹھانے، تشدد کا نشانہ بنانے اور جبری گمشدگیوں جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ صحافتی آزادی پر نظر رکھنے والی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے خلاف عدم برداشت میں پچھلے چند برسوں میں شدت آئی ہے۔ ’’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘‘ کی پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق پاکستان کا درجہ 2018 میں 180 ممالک میں 139 سے تنزلی کے بعد 2021 میں 145 پر آ گیا تھا۔ ادارے کے مطابق جولائی 2018 میں عمران خان کے حکومت میں آنے کے بعد سے کھلی سنسرشپ کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں فوج نے دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں۔نادارے کی رپورٹ کے مطابق پچھلی ایک دہائی کے دوران صحافیوں پر تشدد کے کسی بھی واقعے میں ملوث ملزمان کو سزا نہیں ملی، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق 1992 سے اب تک پاکستان میں 62 صحافی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہلاک ہو چکے ہیں۔

معروف صحافی اور اینکر حامد میر اپریل 2014 میں کراچی میں قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے تھے جس کے بعد وہ عمران خان دور میں 9 مہینے جیو ٹی وی سے آف ائیر بھی رہے۔ حامد میر کے مطابق درحقیقت پاکستان ایک سیکیورٹی اسٹیٹ ہے جہاں بظاہر جمہوریت ہے لیکن در حقیقت ایک ’ہائیبرڈ رجیم‘ ہے جس میں’ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار بہت زیادہ ہے اور ہماری سیاسی اشرافیہ اقتدار کی سیاست کے لیے انہی سے معاملہ کرتی ہے، جب صحافی سیاسی اشرافیہ کی طرح ساتھ نہیں دیتا تو اسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں برداشت کی کمی ہے، وہ قومی مفاد کے نام پر توقع کرتی ہے کہ میڈیا جھوٹ بولے اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو کہتے ہیں کہ آپ غدار ہیں۔

مسلم لیگ کے سینئر رہنما پرویز رشید تسلیم کرتے ہیں کہ ن لیگ کی سابقہ حکومت کے دوران بھی صحافیوں کے خلاف پرتشدد واقعات ہوئے لیکن حکومت نے اس طرح کے واقعات کو سیاسی اونر شپ نہیں دی تھی، جبکہ ان کی مذمت کی گئی تھی، انکاکہنا ہے کہ جب حامد میر صاحب پر حملہ ہوا تو اس دن ہم لوگ سفر میں تھے، لینڈ کرنے کے بعد میں کراچی چلا گیا، خود وزیراعظم نواز شریف انکی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ سب جانتے ہیں۔

سینئر صحافی نجم سیٹھی کے خیال میں آج پاکستان میں میڈیا عمومی طور پر آزاد ہے، اس کی وجوہات بتاتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ جو باتیں ٹی وی سکرین پر نہیں کہی جا سکتی تھیں، وہ یوٹیوب پر شروع ہو گئیں، سوشل میڈیا پر پھیل گئیں، سیکیورٹی اداروں نے کریک ڈاؤن کی کوشش کی مگر اس سے زیادہ شور مچا اور ’’لوگ باز نہیں آئے‘‘۔ پرویز رشید بھی نجم سیٹھی کے موقف سے متفق نظر آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام جو نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے بنا ہے اس کی وجہ سے انہیں امید ہے کہ اب اس آزادی کو غصب کرنا ممکن نہیں رہا، خیر آنے والے وقت میں بلوچستان کے حالات، لاپتہ افراد کا معاملہ، میڈیا فریڈم اور اگلے الیکشن بتائیں گے کہ کیا سیکیورٹی ادارے نیوٹریل ہو چکے ہیں یا نہیں۔

Related Articles

Back to top button