کیا گھڑی فروشی کا فوجی پلاٹوں سے کوئی موازنہ بنتا ہے؟


سابق وزیراعظم عمران خان کا توشہ خانہ سے ایک قیمتی گھڑی لیکر کروڑوں کے منافع پر باہر بیچنا ایک ناقابلِ دفاع حرکت ہے، لیکن موصوف نے اس عمل کا ڈھٹائی سے دفاع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمارے فوجیوں کو بھی تو سستے پلاٹ ملتے ہیں جو وہ مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں۔ اس بھونڈے موقف پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ خان صاحب، کوئی خدا کا خوف کریں، ریٹائرڈ فوجیوں کو پلاٹ کوئی غیر ملک نہیں بلکہ ہم خود دیتے ہیں، جنہیں بیچنے سے ہمیں عالمی رسوائی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
معروف صحافی اور لکھاری حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیشک عمران خان کے مداحین اپنے کپتان کے ساتھ کھڑے ہوں، یہ ان کا جمہوری حق ہے، مگر توشہ خانے ولی حرکت کا دفاع نہ کیجیے کیوں کہ یہ فقط ایک گھڑی فروشی کا واقعہ نہیں ہے، یہ ایک قومی سانحہ ہے۔ وہ تاریخی حوالے دیتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ زوال ہمہ گیر ہوتا ہے، تہذیبوں کو کوئی قتل نہیں کرتا، وہ خود کُشی کرتی ہیں۔ ہمارا بھی یہی معاملہ ہے، اگر ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے خلاف کون سازش کر رہا ہے تو ہمیں بےنقاب ہو کر آئینہ دیکھنا ہوگا، سازش کا مرکزی کردار پکڑا جائے گا، پوری سازش پکڑی جائے گی۔
پاکستانی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی شخص کی اندھی عقیدت میں مبتلا ہیں تو ذرا غور سے سنیے، بے بصارت وابستگی کا معنی یہ ہے کہ آپ کا ضمیر اچھائی اور بُرائی کا فیصلہ اُس شخص کی جنبشِ ابرو کے تحت کرتا ہے، مانا کہ مذاہب کی اساس تو یہی قابلِ فہم عقیدت و وابستگی ہے، لیکن سیاست میں کسی شخص کو اس مسند پر سرفراز کر دینا اپنے ضمیر کو گروی رکھنا ہے، بازارِ سیاست میں تو ہمیشہ سے آپ اور میرے جیسے لوگ آتے ہیں، یعنی خوبیوں اور خامیوں کا مرقع، اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایک سیاست دان بطور حکمران آپ کی ذاتی اور اجتماعی زندگی پر زیادہ مثبت اثرات ڈال سکتا ہے تو آپ الیکشن میں اسے دوسرے سیاست دانوں پرترجیح دیتے ہیں۔ بس اس سے زیادہ کچھ نہیں، لیکن اب اس معاملے میں اندھی عقیدت، اندھی وابستگی، اندھی تقلید کہاں سے آ گئی؟
اس حوالے سے مثال دیتے ہوئے حماد غزنوی کہتے ہیں کہ نواز شریف کے حامیوں کو پوچھنا چاہئے تھا کہ میاں صاحب آپ کالا کوٹ پہن کر میمو گیٹ سکینڈل میں عدالت کیا لینے گئے تھے؟اسی طرح زرداری صاحب سے جیالوں کو ضرور استفسار کرنا چاہئے تھا کہ آپ نے کس ذہنی حالت میں یہ فرمایا تھا کہ ’معاہدہ کوئی حدیث تو نہیں ہوتی‘۔ اسی طرح باپ کے وزیرِ اعظم اور بیٹے کے وزیرِ اعلیٰ بننے پر بھی لیگی دوستوں کو سوال اٹھانا چاہیے۔ یاد رکھیے کہ سیاست دان پر سب سے بڑا دبائو اس کے مخالفین کی رائے کا نہیں بلکہ اس کے حامیوں کی آرا کا ہوتا ہے، لہٰذا آپ چاہیں تو ان ’خدائوں‘ کو انسان بنا سکتے ہیں۔ آپ اگر سمجھتے ہیں کہ عمران خان جوہری طور پر غلطی کرنے کا اہل ہی نہیں ہے توآپ خود غلطی پر ہیں، اگر آپ توشہ خانہ کے تحائف کے حوالے سے عمران خان کے رویے کا دفاع کر رہے ہیں توآپ غلطی پر ہیں، آپ تحائف کی خرید و فروخت پر عمران خان پہ تنقید کرنے کے باوجود سیاسی طور پر ان کا ساتھ دے سکتے ہیں، ایک آدھ غلطی سے درگزر بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ سیاسی وابستگی کا چنائو بہت سے عوامل دیکھ کر، حریفوں سے موازنے کے بعد کیا جا تا ہے، لیکن اگر آپ بہ ضد ہیں کہ عمران نے غیر ملکی سربراہان سے بطور وزیرِ اعظم پاکستان جو تحائف وصول کئے انہیں بازار میں بیچ کر اور کروڑوں کا منافع کما کر شخصی غیرت اور قومی حمیت کا علم بلند کیا ہے تویقین مانیے آپ کو تھراپی کی ضرورت ہے۔
عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ان پونے چار برسوں میں 112تحائف ملے اور انہوں نے سب کے سب تحفے اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا، ان میں مہنگی گھڑیوں سے لے کر ہیرے کے زیورات تک بہت کچھ شامل تھا، ان اشیاء کی سرکاری قیمت 14 کروڑ سے زیادہ لگائی گئی اور پھر چار کروڑ سے کچھ کم رقم ادا کر کے ان کی ملکیت حاصل کی گئی۔ یہاں تک کے قصے میں اخلاقی سقم تو ڈھونڈے جا سکتے ہیں لیکن شاید کوئی غیر قانونی بات تلاش نہیں کی جا سکتی، حالانکہ نواز شریف اور آصف زرداری پر مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت پر گاڑیاں خریدنے کے الزام پر توشہ خانہ ریفرنس بنایا گیا تھا۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اب خان صاحب کا قصہ آگے سنیے۔ مرد اور خاتونِ اول نے تین سال تک یہ تحائف ٹیکس کے اداروں سے چھپائے، کچھ تحائف جن میں انتہائی مہنگی گاڑیاں اور سونے کی ایک رائفل شامل ہے، آج تک ڈکلیئر نہیں کئے گے۔ چلیے، حُبِ عمران میں ہم یہ سب بھی در گزر کر دیتے ہیں لیکن ااب اس سارے قضیے کے سب سے دل خراش پہلو کی طرف آتے ہیں۔ سابق وزیرِاعظم کو 18ستمبر 2018 کو ایک ساڑھے آٹھ کروڑ کی گھڑی سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے تحفے میں ملی، جو انہوں نے 20 فیصد رقم ادا کر کے رکھ لی، لیکن کسی نشانی یا گھڑیوں کے کلکٹر کے طور پر نہیں، بلکہ ایک کاروباری مقصد کے تحت، منافع کمانے کے لیے۔ پھر خان صاحب نے وہ گھڑی بیچ کر کروڑوں کا منافع کما بھی لیا، لیکن افسوس کہ وہ تحفہ دینے والے کو بھی موصوف کی اس حرکت کا علم ہو گیا۔ حماد غزنوی سابق وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ نے بہت گھاٹے کا سودا کیا، آپ نے اپنی خودداری کو آگ لگا دی، آپ نے قومی غیرت کا جنازہ نکال دیا، آپ نے ہم سب کو ایک عالم میں رسوا کر دیا، آپ صرف پی ٹی آئی کے وزیر اعظم تو نہیں تھے، آپ تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیرِ اعظم تھے، آپ نے 22 کروڑ لوگوں کو شرمندہ کروا دیا۔ سیاست تو چلتی رہتی ہے، سیاست دانوں پر الزام تو لگتے رہتے ہیں، لیکن ایسا الزام تو کبھی ان پر بھی نہیں لگا جنہیں آپ ’چور‘ کہتے ہیں، پاکستان کے 23 وزرائے اعظم میں سے کسی ایک پر بھی ایسی تحفہ فروشی کا الزام نہیں لگا۔ یہ آپ نے بہت بُرا کیا خان صاحب، یہ آپ نے بہت بُرا کیا! یہ ایک ناقابلِ دفاع حرکت ہے، لیکن عمران خان اس حرکت کا بھی جواز پیش کر رہے ہیں، فرماتے ہیں کہ فوجیوں کو بھی تو سستے پلاٹ ملتے ہیں جو وہ مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں۔ اس پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ خان صاحب، کوئی خدا کا خوف کریں، فوجیوں کو پلاٹ کیا کوئی غیر ملک دیتا ہے؟ اور ان کے پلاٹ بیچنے سے کیا ہمیں عالمی رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ حد ہو گئی!

Related Articles

Back to top button