فروغ نسیم اورعمران میں سے زیادہ جھوٹا کون ہے؟


سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ کے سینئر جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنے کا مدعا فروغ نسیم کے سر تھوپنے کے بعد سابق وزیر قانون نے عمران خان کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا سابق وزیراعظم کے اصرار پر کیا۔ دوسری جانب سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی کپتان کا ساتھ دیتے ہوئے فروغ نسیم کو جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ ایسے میں اب یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ سابقہ حکومت کے تین بڑوں میں سے سب سے بڑا جھوٹا کون ہے؟
ماضی میں عمران خان کو ہر طرح کے آئینی اور غیر آئینی جمہوریت دشمن مشورے دینے والے بیرسٹر فروع نسیم نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس وزارت قانون نے عمران خان کے بار بار کے اصرار پر بنایا تھا اور کابینہ سے بھی اس کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔ فروع نسیم کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کا ایسٹ ریکوری یونٹ براہ راست وزیراعظم عمران خان کے ماتحت تھا اور اسی کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کی روشنی میں عمران خان نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔
یاد رہے کہ اس لفظی جنگ کا آغاز تب ہوا جب عمران نے صحافیوں سے گفتگو میں یہ موقف اپنایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنا غلط فیصلہ تھا لیکن انہوں نے ایسا سابق وزیر قانون فروغ نسیم کے کہنے پر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم نے کچھ کاغذات دکھا کر انہیں اس کام پر آمادہ کیا تھا۔ لیکن اپنے ردعمل میں فروغ نسیم نے کہا کہ عمران کا موقف بالکل جھوٹ ہے اور انہوں نے ریفرنس ان ہی کے اصرار پر سپریم کورٹ بھیجا تھا۔ انہوں نے واضح کہ ایسے حساس معاملات پر وزیر اعظم اور صدر کی پیشگی منظوری کے بغیر کارروائی نہیں کی جاتی۔ فروغ نسیم نے مزید کہا کہ ’سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر کے ایسٹ ریکوری یونٹ کے جمع کردہ مواد کی بنیاد پر وزیراعظم نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھیجنے پر اصرار کیا تھا۔
فروغ نسیم نے کہا کہ وہ عام طور پر تحمل سے کام لیتے ہیں لیکن ضرورت پڑی تو وہ ریکارڈ درست کرنے اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران کا بیان اور اس پر سابق وزیر قانون کا ردعمل سامنے آنے کے بعد سابق وزرا فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے عمران خان کے موقف کی تائید کرنا شروع کر دی ہے۔ فروغ نسیم کے بیان کا ایک سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے فواد چوہدری نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’بطور وزیر قانون اس ریفرنس کی ذمہ داری فروغ نسیم کو لینی چاہیے، انہوں نے فروغ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ حقیقت یہ ہے کہ تمام معاملہ آپ نے کھڑا کیا، میں نے کابینہ میں کہا کہ ججز کے خلاف ریفرنس بھیجنا حکومت کا کام نہیں، میرا موقف تھا کہ اگر آپکے پاس الزامات کے ثبوت ہیں تو بار ایسوسی ایشن ریفرنس دائر کر لے لیکن بطور وزیر قانون آپ کے اصرار پر ریفرنس بھیجا گیا۔
سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے جج کے خلاف ریفرنس سے متعلق فواد کا موقف درست قرار دیتے ہوئے ماضی کی صورتحال کی وضاحت بھی کی۔ انہوں نے لکھا کہ فروغ کو ہمت کرنی چاہیے کہ وزیرقانون کے طور پر کابینہ میں کئی افراد کی مخالفت کے باوجود انہوں نے ریفرنس پر اصرار کیا۔ پی ٹی آئی چھوڑ کر پیپلزپارٹی کا حصہ بن جانے والے ندیم افضل چن گفتگو کا حصہ بنے تو انہوں نے فواد چوہدری سے مطالبہ کیا کہ ’سارا سچ قوم کو بتا دیں۔‘ ندیم افضل چن نے جوابی ٹویٹ میں لکھا کہ ’آپ نے کہا تھا ریویو میں جائیں، فیصلہ بھی یہی ہوا تھا پھر ریفرنس کیسے آ گیا۔‘
دوسری طرف عمران خان کی جانب سے جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو غلطی قرار دینے پر فروغ نسیم نے مزید ردعمل دیتے ہوئے شاہزیب خانزادہ کو بتایا کہ موجودہ سیاسی صورتحال انتہائی جذباتی، منتشر اور اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے پیارے وطن کی خاطر کشیدگی کو کم رکھنے کیلئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کے سامنے ذاتی طور پرانٹرویو کیلئے نہ آؤں، تاہم میں ریکارڈ کو درست کرنے پر مجبور ہوں۔ فروغ کا کہنا تھا کہ پہلی بات یونہی کہ ہماری عدلیہ عمران خان کے خلاف نہیں، دوسری بات یہ کہ میں نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف کبھی کوئی ذاتی رنجش نہیں رکھی، جو کچھ ہوا اس کے باوجود میں اب بھی ان کے خلاف کوئی ذاتی رنجش نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس عیسیٰ سے متعلق سمریز بہت حساس تھیں، ایسی سمریاں کبھی بھی آگے نہیں بڑھتیں اور ان پر کوئی کام نہیں کیا جاتا جب تک کہ وزیراعظم اور صدر کی طرف سے انہیں پیشگی کلیئر نہ کر دیا جائے۔ سابق وزیر کا کہنا تھا کہ چوتھی بات یہ کہ وزیر اعظم، ایسٹ ریکوری یونٹ کے پاس دستیاب مواد کی بنیاد پر جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھیجنے پر اصرار کر رہے تھے، ایسٹ ریکوری یونٹ وزیر اعظم نے قائم کیا تھا اور براہ راست ان کے ماتحت کام کرتا تھا، اس معاملے پر میرے مزید تبصرے اور حقوق محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آخری بات یہ کہ وزیر قانون کے طور پر میرے تین ادوار مشکل رہے، سب کو واضح طور پر سمجھنا چاہیے کہ میں عام طور پر تحمل اور صوابدید کا مظاہرہ کرتا ہوں، یہ یقیناً میری شخصیت کا حصہ ہے لیکن یہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہ کریں کہ میرے پاس کسی بھی ابہام کو دور کرنے اور ریکارڈ کو درست کرنے کی پوری صلاحیت ہے، اگر ضرورت ہوئی تو پوری شدت اور درستگی کے ساتھ مربوط طریقے سے ایسا کیا جائے گا۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین اب یہ سوال کر رہے ہیں کہ عمران خان، فروغ نسیم اور فواد چوہدری میں سے زیادہ جھوٹا کون ہے کیونکہ ماضی میں بھی یہ تینوں لوگ باندھ کر جھوٹ بولتے رہے ہیں؟

Related Articles

Back to top button