مجھے بیرونی اوراندرونی مافیازسے جان کا خطرہ ہے

تحریک انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے کہا جاتا ہے اپنی جان کی حفاظت کرنا، آپ کی جان کو بیرونی اوراندرونی مافیازسے خطرہ ہے،اگر الیکشن کی تاریخ نہ دی گئی تواسلام آباد آنیوالا سمندر سب کو بہا لے جائے گا،ملک کی قیادت کون کرے گا اس بات کا فیصلہ کوئی مفرورنہیں بلکہ پاکستان کےعوام کریں گے۔

مردان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہناتھا شانداراستقبال پرمردان کےعوام کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں، مردان کے عوام کے پاس ایک خاص مقصد کے لیے آیا ہوں، پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دینےکے لیے مردان کے لوگوں کے پاس آیا ہوں، آپ سب کو اسلام آباد جانے کے لیے تیارکر رہا ہوں، جب کال دوں تو آپ نے میرے ساتھ اسلام آباد جانا ہے، اسلام آباد سیاست کے لیے نہیں ایک انقلاب کے لیے بلا رہا ہوں، پاکستان کو حقیقی آزادی دلانے کی جدوجہد میں شرکت کرنا ہوگی، الیکشن کا اعلان نہیں کیا گیا، انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تو عوام کا سمندر ان کرپٹ حکمرانوں کو بہا لے جائے گا۔

عمران خان نے کہاملک کی قیادت کون کرے گا اس بات کا فیصلہ کوئی مفرور نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کریں گے، امریکی سازش کے تحت پاکستان کی منتخب حکومت کو ہٹا کر عوام کی توہین کی گئی، پاکستان کی توہین کی گئی،ایک معمولی نوکر پاکستان کے سفیر کو بلا کر دھمکی دی کہ اگرعمران خان کو نہیں ہٹایا گیا تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، میں اس سے پوچھتا ہوں تم ہو کون پاکستان کو معاف کرنے والے؟ کیا ہم امریکیوں کے غلام ہیں، ہم ان کے نوکر ہیں؟ ہم ان کے نوکر یا غلام نہیں، ہم امریکیوں کے غلام نہیں شہبازشریف اور آصف زرداری ان کا غلام ہے, ہمیں امریکا کے غلاموں سے ملک کو آزاد کرانا ہے۔

انکا کہنا تھا نوجوانو یہ پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت ہے، امریکا کے پٹھو،غلاموں سے ملک کو آزاد کرنا ہے، ڈاکوؤں کا ٹولہ، تھری اسٹوجز، زرداری بڑی بیماری سے ملک کو آزاد کرنا ہے، نواز شریف سے زیادہ بزدل شخص میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا جو ہر مشکل وقت میں باہرجا کر بیٹھ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا فضل الرحمٰن کو مولانا کہنا مولانا حضرات کو توہین ہے، فضل الرحمٰن نے حکومت سے وزارت مواصلات حاصل کی جس میں سب سے زیادہ پیسا ہے، فضل الرحمٰن نے 10 سال قبل امریکی سفیر این پٹرسن سے کہا کہ ہمیں موقع دیں، ہم آپ کی خدمت کریں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا ملک کے تمام پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں اور تمام تنخواہ دار سرکاری ملازمین کو کہتا ہوں کہ زرق دینا ،عزت و ذلت دینا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، مخالفین نے میرے کردار کشی کی مہم چلائی، مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی مگر آج آپ لوگ مجھے عزت دے رہےہیں،ہمارے خلاف مہم چلائی گئی اوراس مہم میں کس کس میڈیا ہاؤس کو پیسا دیا گیا اس بارے میں ساری معلومات ہیں، اب میڈیا کے نمائندے عوام سے مہنگائی سے متعلق سوال کیوں نہیں کرتے جیسا کہ وہ ہماری حکومت کے دوران کرتے تھے۔

انہوں نے کہامجھے کہا جاتا ہے کہ عمران خان اپنی جان کی حفاظت کرنا آپ کو جان بڑا خطرہ ہے،آپ کی جان کو بیرونی خطرہ بھی ہے اور اندرونی بھی، یہ سارے مافیاز ان سے خطرہ ہے، میں کہتا ہوں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، جب فیصلہ ہوجاتا ہے تو پھر ایک منٹ آگے، پیچھے نہیں ہوسکتا،قوم کو کہتا ہوں کہ خوف کی زنجیریں توڑ کر میرے ساتھ آنا، کیونکہ سب سے بڑی زنجیر جو انسان کو اوپر پرواز نہیں کرنے دیتی وہ خوف کی زنجیر ہے، کوئی کھلاڑی بڑا کھلاڑی نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے خوف پر قانو نہ پالے، کوئی جرنیل بڑا جرنیل نہیں بن سکتا جب تک وہ موت کا ڈر ختم نہیں کرتا، اسی طرح جب تک کوئی قوم اپنی خوف کی زنجریں نہیں توڑتی وہ قوم عظیم قوم نہیں بن سکتی۔

عمران خان نے کہا میرے لیے وہ وقت سب سے زیادہ شرمندگی کا جب مجھے ملک کے لیے دوسرے ملکوں سے قرض مانگنے پڑے، ہم نے دوست ممالک سے پیسے لے کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ان کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے ملک آج قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہاجب مجھے سازش کا پتا چلا تو میں ان لوگوں کے پاس گیا جو سازش روک سکتے تھے ان کو بتایا کہ اگر یہ سازش کامیاب ہوئی تو پھر ملک کی معیشت تباہ ہوجائے گی مگر افسوس کی بات ہے کہ اس سازش کو روکا نہیں گیا، میں نے ان لوگوں کے پاس شوکت ترین کو بھی بھیجا جو خود کو نیوٹرل کہتے ہیں کہ جائیں اور بتائیں کہ اس وقت معیشت کی کیا صورتحال ہے اور اگر سازش کامیاب ہوئی تو معیشت تباہ ہو جائے گی،مجھے پتا ہے کہ کس کس آدمی نے ہمارے خلاف سازش کی، سازش کرنے والے ایک ایک میر جعفر کی شکل مجھے یاد ہے، ایک ایک میر جعفر کی تصویر میرے دل پر نقش ہوگئی ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس سازش کی کھلی تحقیقات کرائیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا ہم روس سےسستی گندم اورسستا تیل حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ عوام کو سستا پیٹرول اور ڈیزل فراہم کرسکیں،بلاول بھٹو امریکا سے پیسے مانگنے جا رہا ہے، امریکا سے کہے گا کہ ہماری مدد کریں ورنہ عمران خان پھر آجائےگا، امریکا اگر مدد کرےگا تو اس کے بدلے وہ پاکستان کی آزادی لےگا،جب ہم اسلام آباد جائیں گے تو شفاف الیکشن کا مطالبہ کریں گے اور موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ہوتے ہوئے شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے، سارے پاکستان کو پتا ہے کہ لوٹے کون ہیں، سارے پاکستان نے لوٹے دیکھے ہیں مگر الیکشن کمیشن کو لوٹے نظر نہیں آرہے۔

عمران خان نےکہاجب ہم اسلام آباد جائیں گے تو شفاف الیکشن کا مطالبہ کریں گے اورموجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ہوتے ہوئے شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے، سارے پاکستان کو پتا ہے کہ لوٹے کون ہیں، سارے پاکستان نے لوٹے دیکھے ہیں مگر الیکشن کمیشن کو لوٹے نظرنہیں آرہے، لوٹوں کے خلاف فیصلہ نہیں دیا جا رہا، الیکشن کمیشن قانون ڈھونڈ رہا ہے، الیکشن کمشنر یہ قانونی نہیں، اخلاقی مسئلہ ہے،پوری قوم الیکشن کمیشن کی جانب دیکھ رہی ہے، قوم جانتی ہے کہ کس کس نے قوم سے غداری کی، اگرالیکشن کمیشن نے ان لوٹوں کے خلاف فیصلہ نہیں دیا ، ان لوگوں کو بچایا تو یہ قوم ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ماضی میں ایم کیو ایم نے کراچی آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسران کو چن چن کر قتل کیا،ہم نے اپنی ایکسپورٹ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بڑھائی، جب تیل مہنگا تھا ہم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کوبھی کم کیا، ہم نے کسانوں کو بچایا اور ان کو پیداوار کیلئے زیادہ پیسے دیے، آج حالات دیکھیں ڈالر 200 روپے پر پہنچ گیا ہے۔

انہون نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ جو مجھ سے کم عمر ہیں وہ نوجوان ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ گرمی بہت ہے، لوگ اسلام آباد نہیں آئیں گے، جب مجھ جیسے 70 سالہ عمران خان کو گرمی نہیں لگتی تو میرے نوجوانوں کو بھی گرمی نہیں لگے گی۔

Related Articles

Back to top button