میں نے اپنے قاتلوں کے نام ویڈیو میں ریکارڈ کروا دئیے ہیں

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے جان سے مار دینے کی سازش تیار کی جارہی ہے اس لیے میں نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کرا کے محفوظ جگہ پر رکھ دی ہے اور اگر مجھے کچھ ہوا تو ویڈیو عوام کے سامنے آئے گی جس میں سازش کرنے والے تمام افراد کے نام ہوں گے۔

سیالکوٹ میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنے قتل کی سازش تیار ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس ملک کے طاقت ور عہدوں پر بیٹھے عہدیدار کرپشن کو کچھ نہیں سمھجتے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ آج نواز شریف کی ن لیگ نے جو حرکت کی ہے، نواز شریف جتنے بڑے بزدل تم اتنی تمہاری پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک دفعہ بھی ان کے جلسے یا ان کی لانگ مارچ روکنے کی کوشش نہیں کی، ہر 3 مہینے کے بعد یہ حکومت گرانے آتے تھے اور تمہارے ساتھ ملک کی بڑی بیماری زرداری بھی تھا اور اس کے علاوہ ڈیزل کے پرمٹ بیچنے والا بھی تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہاں پہنچنے کے لیے ایک گھنٹہ لگا کیونکہ سارے راستے بند ہیں، اس طرف قافلے آرہے اس طرف لیکن پہنچ نہیں سکتے کیونکہ انہوں نے سازش کے تحت بڑے گراؤنڈ میں جلسہ کرنے سے روکا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج تک دنیا کی تاریخ میں کبھی کوئی انقلاب کو نہیں روک سکا، یہ سیاست نہیں ہو رہی ہے، یہ انقلاب آرہا ہے، قوم تحریک آزادی کے بعد دوسری آزادی کے لیے تیار ہے اور اپنی حقیقی آزادی کی کوشش کر رہی ہے۔
حکومت کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ اس کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی ہے، ہم نے ہمیشہ پرامن احتجاج کیا اور اسلام آباد پہنچ کر پرامن رہیں گے لیکن جو حرکت آج کی ہے وہ اگر یہی حرکت کروگے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کروگے تو تمہیں پاکستان میں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بند کمروں کے اندر ملک سے باہر اور ملک کے اندر ایک سازش ہو رہی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کی جان لے لی جائے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سازش کا مجھے پہلے پتہ تھا اور چند دن پہلے مجھے پورا علم ہوچکا ہے، میں نے ایک ویڈیو کروائی ہے، ویڈیو محفوظ جگہ پر رکھ دی ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو یہ ویڈیو سامنے آئے گی اور اس ویڈیو میں پچھلی گرمیوں سے میرےخلاف جو سازش ہوئی اور جو اس سازش میں ملوث ہیں، اس میں ایک،ایک کا نام لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے، سازش ہے اور سازش یہ ہے کہ انہوں نے سمجھا ہے کہ یہ عمران خان ہمارے راستے میں رکاوٹ ہے اور اس کو ہٹانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مجھے مارنے کی سازش ہے اور اس لیے میں نے یہ ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے کیونکہ میں اس کو سیاست نہیں بلکہ جہاد سمجھتا ہوں اور اپنے اللہ کے لیے لڑتا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو سارے پاکستانیوں کو چاہتا ہوں کہ آپ کو پتہ چلے کہ کون کون اس سازش میں ملوث تھا، باہر بیٹھ کر کون اس سازش کا کردار تھا اور میرے ملک میں بیٹھ کر کس کس نے سازش کی ہے، سب کے نام لیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان سب کے نام لیے ہیں، جنہوں نے یہ منصوبہ بندی کی، ایک،ایک کا نام میرے دل پر لکھا ہوا ہے کہ انہوں نے کیسے پوری منصوبہ بندی کرکے بیرون ملک سازش، جس میں اس ملک کا کرپٹ ٹولا مل کر اور کون کون مزید ان کے ساتھ تھے، انہوں نے جو میری حکومت گرائی ہے اور یہ آگے جو کرنے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کی تاریخ ہے کہ کبھی طاقت ور کو قانون کے نیچے نہیں لایا جاتا، کبھی طاقت ور کا احتساب نہیں ہوتا، ہمیشہ طاقت ور بچ جاتا ہے اور جو بھی قتل ہوتا ہے، کسی اور کے نام لگ جاتا ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اس لیے محفوظ رکھی ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس باری، اس ملک کا انصاف کا نظام، اس ملک کی تاریخ ہے کہ کبھی انہوں نے طاقت ور مجرم کو نہیں پکڑا، اس لیے لیاقت علی خان کے زمانے سے اب تک کوئی طاقت ور مجرم نہیں پکڑا گیا، اس لیے چاہتا ہوں قوم کے سامنے سب کی شکلیں آئیں کہ کون کون غداری کر رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں نے ساڑھے تین سال میں پوری کوشش کی کہ جو30 سال سے ملک کو لوٹ رہے تھے ان کو سزائیں ہو ،ان کے خلاف کارروائی ہو لیکن جو جو اس ملک کے طاقت ور عہدوں پر بیٹھے تھے جنہوں نے انصاف کرنا تھا وہ کرپشن کو برا نہیں سمجھتے تھے، وہ طاقت ور کی کرپشن کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔

کسی کا نام لیے بغیر طاقت ور عہدوں پر بیٹھے افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کر بیٹھے ہیں اس ملک میں طاقت ور لوگ چوری کریں گے اور کوئی پکڑے گا نہیں۔جلسے کے شرکا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو اسلام آباد جلسے کے لیے جو بلایا ہے اس کی ایک وجہ ہے کہ اگر آپ ان ڈاکووں کے خلاف نہیں نکلیں گے جو سازش کے تحت آج ملک کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، تو یہ ملک تباہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ان کے خلاف جہاد نہ کی تو آپ اور آپ کے بچوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے، جب میں 20 کے بعد کال دوں گا سب کو اسلام آباد پہنچنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گرمی کی فکر نہیں کرنی ہے، جب پاکستان آزاد ہوا تھا تو بھارت سے ہجرت کرجو لوگ آئے تھے، ان کی کہانیاں اپنے بڑوں سے سنیں، جو بھی وہاں سے آئے تھے، مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا تھا، اس ملک کو بنانے کے لیے عورتوں، بچوں کی اور لاکھوں لوگ قربان ہوئے تھے اور آج اپنی قوم سے وہی قربانی مانگ رہا ہوں، اپنے آپ کو ان چوروں اور امریکی غلاموں سے حقیقی آزادی کے لیے۔

عمران خان نے کہا کہ آپ نے نہ گرمی دیکھنی ہے اور نہ یہ دیکھنا ہے راستے میں رکاوٹیں اور کنیٹینر کو نہیں دیکھنا ہے، نوجوانو! آپ کا جنون ان سارےکنٹینرز اور جو بھی رکاوٹیں ہیں وہ بہا کر لے جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اپنے نوجوانوں سے خاص طور پر کہہ رہا ہوں تیاری کریں، انہوں نے دو دن پہلے ٹرانپسورٹ بند کردینی ہے، پیٹرول، انٹرنینٹ بند کردینا ہے، اس لیے اس سے پہلے تیاری کریں اور یہ دیکھیں گے۔وزیراعظم اور دیگر وزرا سے کہا کہ سب تیار ہوجاؤ، اسلام آباد عوام کا سمندر آنے والا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ آج اپنی عدلیہ سے بڑی عاجزی سے ایک سوال پوچھ رہا ہوں، بڑا اچھا کیا اتوار کو آپ نے از خود نوٹس لے لیا، آپ کو عمران خان سے کوئی بڑا خطرہ ہوگا، 12 بجے عدالتیں کھول دیں چلیں ٹھیک ہے، میں بہت خطرناک اور ملک سے کوئی بڑی غداری کرنے جا رہا تھا کہ رات کے 12 بجے عدالتیں کھول دیں۔انہوں نے کہا کہ اپنی عدلیہ سے بڑی عاجزی سے پوچھتا ہوں کہ بڑا معصومانہ سا سوال ہے کہ شہباز شریف اور اس کا بیٹا حمزہ شہباز اور مفرور بیٹا سلمان شہباز پر ایف آئی اے کے 24 ارب روپے کے کیسز ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میرا ڈاکٹر رضوان کو سلام پیش کرتا ہوں، جو ایف آئی اے کا ایک زبردست افسر، جس میں دلیری تھی، جس نے شریف مافیا کے خلاف کارروائی کرکے، مقصود چپراسی اور نوکروں کے بینک اکاؤنٹ پر 16 ارب روپے پکڑے۔ان کا کہنا تھا کہ پھر کیا ہوا، ڈاکٹر رضوان کے اوپر دباؤ ڈالا گیا، حمزہ شریف نے اس کو دھمکیاں دیں اور وہ ڈاکٹر رضوان شدید دباؤ میں تھا، اس کو دل کا دورہ پڑا اور مرگیا۔انہوں نے کہا کہ دوسرا افسر جو شہباز شریف کے ایف آئی اے کے کیس کی تفتیش کر رہا تھا، اس کا نام ندیم اختر تھا، اس کو کل دل کا دورہ پڑا، یہ کیسے ہے جو مافیا کی تفتیش کرتا ہے، ان کے اوپر کس طرح کا دباؤ ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کدھر ہیں میری عدالتیں، ان کی حفاظت کرنا آپ کا کام ہے، کون آگے سے اس ملک کے کون سے سرکاری نوکر، کون سی ایف آئی اے، کون سی ایف بی آر، کون سے پولیس افسر کبھی بھی آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے ادارے کیسے طاقت ور مجرموں کے سامنے کھڑے ہوں گے، اپنی عدلیہ سے سوال پوچھتا ہوں کون اس ملک کے اداروں کی حفاظت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ میں بڑی عاجزی سے اپنی عدالتوں سے پوچھتا ہوں کہ یہ آپ کے سامنے ہمارے ملک کی تباہی ہو رہی ہے، جب ادارے ختم ہوتے ہیں تو ملک تباہ ہوجاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں اگلا سوال پوچھتا ہوں کہ یہ جو ہمارے جیلوں میں چھوٹے چور بھرے ہوئے ہیں، کیا ان کا یہ قصور ہے کہ وہ چھوٹے چور ہیں، کیا یہ سبق مل رہا کہ ملک میں ڈاکا مارو تو بڑا ڈاکا مارو نہیں تو جیل چلے جاؤگے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے ان کو نہیں پکڑنا تو میں کہتا ہوں کہ پاکستان کے جیل کھول دیں، ان غریبوں کو باہر نکالیں، ان غریب چوروں کی پوری چوری ملا کر وہ ایک مقصود چپراسی کے بینک میں جو 4 ارب آئے تھے وہ کم ہے۔

Related Articles

Back to top button