مہنگے پٹرول پرعوام شہباز اورعمران دونوں کو کوسنے لگے


پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ 200 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہو گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں مہنگائی کی ناقابل برداشت لہر اٹھنے لگی ہے اور متاثرہ عوام نہ صرف وزیر اعظم شہباز شریف بلکہ عمران خان کو بھی کوس رہے ہیں جن کی حکومت نے آئی ایم ایف سے پٹرول مہنگا کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ عوام کا کہنا ہے کہ صرف عام آدمی ہی کیوں سیاسی اور عسکری اشرافیہ کی ناکامی کی قیمت ادا کرے؟ اس مذاق کو ختم ہونا چاہیے۔ اگر عام آدمی کو کمر کسنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تو جرنیلوں، ججوں اور بیورو کریٹس کی مشکیں بھی کسی جانی چاہییں اور انکی تنخواہیں آدھی کر کے ان سے تمام مراعات واپس لے لینی چاہییں۔

2 جون کی رات پاکستانی عوام کو ایک ہی دن میں تب دوسرا جھٹکا لگا جب پہلے نیپرا کی جانب سے جولائی سے بجلی کے نرخوں میں 7.91 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی گئی اور پھر شام میں وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرول اور ڈیزل 30، 30 روپے مہنگے کرنے کا اعلان کر دیا۔ حکومت اور معاشی ماہرین کی جانب سے اس فیصلے کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے اور نشاندہی کی جا رہی ہے کہ اس کی وجہ عمران حکومت کے آخری ایام میں دی گئی سبسڈی ہے لیکن اس کے باوجود شہباز شریف کی نئی حکومت کو بھی خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اکثر صحافی اور تجزیہ کار نہ صرف حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے خرچے کم کرے اور عوام کو یہ دکھائے کہ انھیں بھی اس مشکل وقت میں ان کا احساس ہے بلکہ ایسی اصلاحات بھی کی جائیں جن کے ذریعے بوجھ صرف غریب اور متوسط طبقے پر ہی نہیں بلکہ امیروں پر بھی پڑے۔

سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو ایک طرف لوگ اپنے اپنے شہروں میں پیٹرول پمپس پر لگی لمبی قطاروں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کر رہے ہیں تو دوسری جانب مہنگائی کے ایک متوقع طوفان میں ضرورت مند افراد کا خیال رکھنے اور ان کے بارے میں سوچنے کی بھی تلقین کر رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ایک ہفتے کے دوران دوسرا بڑا اضافہ ہے۔ اس سے قبل، 26 مئی کو بھی پٹرول کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اس وقت پاکستان میں پٹرول 209 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے جو کہ تاریخ میں مہنگا ترین ریٹ ہے۔ شہباز حکومت نے ایک ہفتے کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 60 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے بھی ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’عمران کی جانب سے دی گئی غیر ذمہ دارانہ سبسڈی کے باعث ہمیں یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم 10 فیصد اخراجات کم کردیں تو چار ارب روپے کی بچت ہو گی، یہاں صرف ایک دن میں پٹرولیم مصنوعات پر چار ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی تھی۔‘ مفتاح نے کہا کہ ’اب بھی ہم پیٹرول پر آٹھ روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں اور ڈیزل پر یہ سبسڈی 23 روپے ہے۔‘ انھوں نے عندیہ دیا کہ اس حوالے سے 10 جون کو دیے جانے والے بجٹ میں ’بہت سے معاملات سمٹ جائیں گے۔‘ یعنی اگلے بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

تاہم تجزیہ کار اس اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حکومت توانائی بچانے سے متعلق اقدامات کیوں نہیں لے رہی ہے۔ صارف نادیہ نقی نے ایک ٹویٹ میں ایسے اقدامات کا ذکر کیا جن میں ’کام کرنے کے دنوں میں کمی، مارکیٹوں کو غروبِ آفتاب پر بند کرنے کی ہدایت، حکومتی ملازمین سے پیٹرول مفت کی بجائے خود خریدنے‘ کا مطالبہ شامل ہے۔

یہی سوال جب مفتاح اسماعیل سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’اس بارے میں تجاویز وزیرِ اعظم شہباز شریف کے سامنے رکھی گئی ہیں اور جلد فیصلے لیے جائیں گے۔‘

سوشل میڈیا پر اس وقت جو مطالبہ زور پکڑ رہا ہے وہ غریب کی بجائے امیر پر بوجھ ڈالنے سے متعلق ہے۔ اسکے علاوہ معاشی ماہرین بھی کہتے ہیں کہ اگر حکومت عام آدمی کو ’ریلیف‘ فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے امیر پر ٹیکس لگانا ہو گا۔‘‘ ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کے بارے میں شاہ رخ وانی نے لکھا کہ ’یہ فیصلہ تکلیف دہ ضرور ہے لیکن ناگزیر بھی ہے۔ پاکستان عالمی مارکیٹ سے تیل خریدتا ہے اور اس پر سبسڈی لگانا کسی حکومت کے لیے بھی صحیح نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ وسیع تر معاشی اصلاحات کرنی ہوں گی۔‘ معیشت پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی خرم حسین نے ٹویٹ کیا کہ ’اپنی کمریں کس لیں۔ ابھی بہت کچھ آنا باقی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ توانائی، گیس اور گندم کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ ’شرح سود بھی بڑھانا پڑے گا جس سے بزنس ایکٹویٹی ست پڑ جائے گی اور ممکنہ طور لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جا سکتا ہے۔ مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں۔‘

سینئر صحافی خلیق کیانی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’شہباز شریف سرکاری خرچ پر 6 دن دفاتر کھلے رکھنے پر بضد ہیں اور کسی وزیر کو توفیق نہیں کہ بجلی اور تیل کی بچت کے لیے مشورہ دیں۔‘ عمرانڈو صحافی کامران خان نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شہباز شریف اس بات کو یقینی بنائیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا بوجھ عام پاکستانی کے ساتھ سرکاری لاٹ صاحبان بھی اٹھائیں۔ لہذا شہباز شریف کو چاہیئے کہ بیوروکریٹس، جج، جنرل، وزرا کا فیول الاؤنس آدھا کر دیں۔‘ ایک اور صحافی کامران یوسف نے لکھا کہ ’غلط معاشی پالیسیوں اور اصلاحات کے نام پر سزا صرف عوام کو نہیں ملنی چاہیے۔ اس ملک میں ایلیٹ جس کو کبھی ٹیکس کی مد میں اور کبھی سبسڈی کی مد میں اربوں کی مراعات دی جاتی ہیں وہ سب واپس ہونی چاہیے۔ سرکاری تیل مفت میں جو افسران، وزرا کو دیا جاتا ہے وہ بند ہونا چاہیے، سب قربانی دیں۔‘

سماجی کارکن اور مصنف عمار علی جان نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’اشرافیہ کو دی گئی مجموعی سبسڈیز 2660 ارب روپے ہے جبکہ سماجی تحفظ کے منصوبوں کی مد میں دی گئی اس سے چار گنا کم یعنی 624 ارب روپے۔
انہوں نے کہا کہ عوام اشرافیہ کو سبسڈی فراہم کرتی ہے، اشرافیہ ملک کو مالی طور پر دیوالیہ کرتی ہے، ریاست عوام کی قربانی دے کر اشرافیہ کو بچاتی ہے۔ کوئی بھی جماعت اس چکر کو ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔‘

Related Articles

Back to top button