قومی اسمبلی نے 11 بلوں کی منظوری دے دی

نیشنل اسمبلی کے تین گھنٹے سے زائد طویل اجلاس کے دوران 11 بلوں کی منظوری دے دی گئی، 11 بل میں سے 8 بل ایسے تھے جن کو ایوان زیریں نے قواعد کو منسوخ اور متعلقہ کمیٹیوں کے بھیجے بغیر منظورکیا تھا، قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکرزاہد اکرم درانی نے بلوں کو صوتی ووٹوں کے ذریعے متعارف اور منظور قرار دیتے رہے۔
ایسی جلد بازی شاید جمعے کو وفاقی بجٹ المعروف فنانس بل کی منصوبہ بندی کے لیے کی گئی اور جلدی میں تمام بل متعارف کروا کر منظور کیے گئے کیونکہ بجٹ پر عام بحث کے دوران ایوان کوئی اور قانون سازی نہیں کر سکتا، بلوں کو متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے نہ کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ 11 اپریل کو شہباز شریف کے بطور وزیراعظم انتخاب کے بعد سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان کے مشترکہ استعفوں کے سبب قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیاں اس وقت نامکمل ہیں۔
جب قومی اسمبلی میں جب حکومتی بنچوں پر تمام اگلی قطاریں خالی تھیں اور ’فرینڈلی اپوزیشن‘ میں سے کسے نے بھی اس صورتحال پر آواز بلند نہیں کی تو ایوان نے قانون سازی کرنے کا ایجنڈا اٹھایا اور حکومت سپلیمنٹری ایجنڈا لا کر دو بل منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی۔11 بلوں کی منظوری کے علاوہ قومی اسمبلی میں چار بل بھی پیش کیے گئے جنہیں متعلقہ کمیٹیوں میں بھجوایا گیا اور مسلم لیگ (ن) کی شکیلہ لقمان کی جانب سے اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے ڈرگ ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کے بل کو مسترد کر دیا گیا۔
مسلم لیگ(ن) کی رکن قومی اسمبلی کے ڈرگ ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کے بل کو قانون سازوں نے 50-6 ووٹوں کے واضح فرق سے مسترد کر دیا۔اس کے علاوہ ایم این اے شازہ فاطمہ خواجہ کی طرف سے پیش کیے جانے والے بل پر کوڈ آف کرمنل پروسیجر (ترمیمی) ایکٹ، 2022 کو بھی قانون سازوں نے متفقہ طور پر منظور کیا جس نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے حکام کو ان کے عدالتی اختیارات سے محروم کر دیا ہے۔
اس بل کے مطابق صدر کی منظوری کے بعد اب ان (اسلام آباد ضلعی انتظامیہ) کے پاس یہ اختیار نہیں رہے گا کہ وہ کسی کو ریمانڈ یا جیل بھیج سکیں، واضح رہے کہ اس بل کو سینیٹ پہلے ہی منظور کر چکا ہے۔ ایک اور اہم بل فوجداری قوانین (ترمیمی) بل، 2020 تھا جو جماعت اسلامی (جے آئی) کے مولانا عبدالاکبر چترالی کی طرف سے پیش کیا گیا تھا جس میں سوشل میڈیا پر فحاشی پھیلانے کی سزا میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اپنے اتحاد کے چار اراکین کو اسمبلی میں حقیقی اپوزیشن سمجھنے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے غوث بخش مہر نے پاک چائنا گوادر یونیورسٹی لاہور بل 2022 کے نام سے ایک متنازع پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا جس کو وزیر مملکت برائے قانون و انصاف شہادت اعوان کی مخالفت کے باوجود ڈپٹی سپیکر نے قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔
جی ڈی اے کے رکن قومی اسملبی کی طرف سے پیش کیے جانے والے بل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر مملکت نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ تعلیم پہلے سے ہی ایک متنازع موضوع ہے، اس بل کے تحت مجوزہ یونیورسٹی کو ناصرف ملک بلکہ بیرون ملک کسی بھی شہر میں اپنے کیمپس کھولنے کی اجازت ہوگی تاہم ڈپٹی اسپیکر نے وزیر مملکت کے دعوے کو نظر انداز کیا اور یہ کہتے ہوئے بل کو قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا کہ وہاں ہر معاملے پر بات ہو سکتی ہے۔

Related Articles

Back to top button