حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پاگیا

بالآخر جمود ٹوٹا خدا خدا کر کے، پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2022.23 میں پاکستانی حکام کی جانب سے 436 ارب روپے کے مزید ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی میں بتدریج 50 روپے فی لیٹر تک اضافےکے وعدے کے بعد اہم پیش رفت کے نتیجے میں معاشی مشکلات میں گھرے ملک کے لیے بین الاقوامی قرض دہندہ کے توسیعی فنڈ پروگرام (ای ایف ایف) کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ مفاہمت اور پیش رفت وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کی سربراہی میں قائم پاکستانی معاشی ٹیم کی آئی ایم ایف اسٹاف مشن کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس کے دوران سامنے آئی ہے، آئی ایم ایف مشن آئندہ چند روز میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ مالیاتی اہداف کو حتمی شکل دے گا جبکہ اسی دوران معاشی اور مالیاتی پالیسی (ایف ای ایف پی) کی مفاہمتی یاد داشت کا ڈرافٹ بھی پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا۔
ایف ای ایف پی میں کچھ ایسے اقدامات بھی شامل ہوں گے جن پر پیشگی عمل کرنا آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے منظوری کے لیے پاکستان کے کیس پر غور کرنے اور اس کے نتیجے میں آئندہ ماہ تقریباً 1 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے سے قبل عمل درآمد کرنا ضروری ہوگا، وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کے بعد بجٹ کو لاک کر دیا ہے جبکہ عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ بجٹ سے متعلق تمام معاملات طے پا گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کی جانب سےمالیاتی فریم ورک پر دونوں اطراف کے درمیان ہونے والی متفقہ پیش رفت کی تصدیق سے متعلق بیان جاری کیے جانے کی بھی توقع ہے۔اعلیٰ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکت کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان نے تمام پی او ایل مصنوعات پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی وصولی شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، طے شدہ معاہدے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی چارجز 5 روپے ماہانہ بڑھا کر 50 روپے تک لے جایا جائے گا۔
ایک اور مشکل فیصلہ کرتے ہوئے حکومت نے 15 کروڑ روپے کمانے والی کمپنمیوں پر ایک فیصد،20 کروڑ روپے والی کمپنمیوں پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے کمانے والی کمپنیوں پر 3فیصد اور 30 کروڑ روپے سے زیادہ کمانے والی کمپنمیوں پر 4 فیصد غربت ٹیکس لگانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔اس سے قبل اصل بجٹ میں حکومت نے صرف 30 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کمانے والی کمپنمیوں پر 2 فیصد غربت ٹیکس لگایا تھا۔
حکومت نے اضافی تنخواہوں اور پنشن کے فیصلے کو ختم کرنے پر بھی اتفاق کرلیا ہے جس کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، اس کے بجائے ہنگامی حالات کے لیے الگ سے مختص کیے گئے فنڈز کی اجازت دی گئی ہے لیکن یہ بجٹ صرف انتہائی ہنگامی حالات جیسے سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات کے دوران خرچ کرنے کے لیے ہوگا ورنہ یہ رقم خرچ نہیں کی جائے گی۔
پاکستان نے آئی ایف ایف کے ساتھ 152 ارب روپے کا بنیادی بجٹ سرپلس فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ سود کی ادائیگیوں کے علاوہ ٹیکس وصولیوں سے ہی تمام اخراجات کو پورا کیا جائے گا جب کہ اس کے بعد بھی 152 ارب روپے کا سرپلس قومی خزانے میں باقی رکھا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اب صرف زر مبادلہ کےذخائر اور ملکی اثاثوں کی مالیت سے متعلق اہداف کو حتمی شکل دے گی، تاہم معاہدے سے متعلق تمام معاملات طے پا چکے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم جمعے کے روز ایم ای ایف پی کا اپنا ڈرافٹ حکومت پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گی۔اتحادی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیکنیکل ٹیم کی ناراضی سے بچنے اور اس کو حمایت پر راضی کرنے کے لیے اضافی ٹیکس اقدامات کرتے ہوئے سال 2022.23 کے لیے سالانہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو تقریباً 422 ارب روپے تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔وزارت خزانہ میں موجود معتبر ذرائع نےبتایا کہ ہم نے غریبوں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھائے بغیر اضافی ٹیکس وصولی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔
اضافی ٹیکس وصولی کے لیے کیے گئے اقدامات کا اعلان وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل حتمی بجٹ تقریر میں کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اضافی ٹیکس وصولی کے اقدامات سے صرف امیر طبقے کو ہی نقصان پہنچے گا اگرچہ مخلوط حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں سیاسی ردعمل کے خوف سے غیر مقبول ٹیکس اقدامات سے بچنے کی کوشش کی اور متوقع مہنگائی اور معاشی شرح نمو سے زیادہ سے زیادہ محصولات حاصل کرنے کی امیدیں رکھیں لیکن کم محصولات کی وصولی کے ہدف کو آئی ایم ایف نے منظور نہیں کیا اور اسلام آباد کو کہا کہ وہ محصولات کی وصولی کے ہدف کو مزید حقیقت پسندانہ بنانے کے لیے اضافی اقدامات کرے۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنے ابتدائی تجزیے میں اضافی اقدامات کی ضرورت سے متعلق بجٹ کے اعلان کے فوری بعد وزارت خزانہ کو آگاہ کر دیا گیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی جانب سے سال 2022.23 کے لیے 7 ہزار 4 ارب روپے سے 7 ہزار 426 ارب روپے کرنے کے فیصلے کے بعد باضابطہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس اہداف میں اضافے نے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق کیے گئے بڑے فیصلوں میں سے ایک فیصلہ زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ کرنا بھی شامل ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ 12 لاکھ روپے تک تنخواہ وصول کرنے والوں پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔

Related Articles

Back to top button