میرےفوجی قیادت سے اختلافات کی وجہ جنرل فیض حمید بنے


طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والے سابق وزیراعظم عمران خان نے تسلیم کیا ہے کہ فوجی قیادت کے ساتھ ان کے اختلافات کی بنیادی وجہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تبادلہ بنی۔ انکا کہنا ہے کہ میرے دماغ کے کسی بھی کونے میں یہ بات موجود نہیں تھی کہ میں فیض حمید کو اگلا آرمی چیف بناؤں گا لیکن ہمارے دوستوں اور غیروں دونوں نے اسے پہلے افواہ بنایا اور پھر خبر کا رنگ دے دیا جس نے میرے اور فوجی قیادت کے درمیان غلط فہمی کی دیوار کھڑی کردی۔

ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعظم نے سینئر اینکر پرسن جاوید چوہدری کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات میں کیا۔ جاوید چوہدری کے بقول عمران خان کا کہنا تھا کہ ’’نواز شریف‘ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو بھی خوف تھا کہ میں جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنا دوں گا حالانکہ یہ خوف بلا وجہ تھا۔ انکا کہنا تھا کہ نیوٹرلز شہباز شریف کو سپر جینئس سمجھتے تھے، ان کا خیال تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر دودھ کی نہریں بہا دیں گے جبکہ میں انھیں سمجھاتا رہ گیا کہ ملک بڑی مشکل سے ٹریک پر آیا ہے لہٰذا اب اگر آپ ان چوروں کو مسند اقتدار پر بٹھا دیں گے تو معیشت کا جنازہ نکل جائے گا۔ لیکن بھائی لوگ نہیں مانے اور بالآخر میری بات سچ ثابت ہو گئی۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے عمران سے پوچھا کہ 9 اور 10 اپریل کی درمیانی رات وزیراعظم ہاؤس میں کیا ہوا تھا؟‘‘۔ اس پر خان صاحب ہنس کر بولے: ’’کچھ فون آئے تھے، میں نے کابینہ سے خفیہ خط کو ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا آرڈر لیا، ٹی وی اینکرز سے ملا اور وزیراعظم ہاؤس کے اندر آگیا۔ لیکن میں نے کیا دیکھا کہ میرے ساتھیوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، ہمارے اسپیکر اسد قیصر کی کانپیں ٹانگ رہی تھیں، ان کے منہ سے لفظ نہیں نکل رہے تھے، میں نے اسے کہا، ڈٹ کر کھڑے رہو، کچھ نہیں ہوتا، لیکن اس کے اعصاب جواب دے گئے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ آدھی رات کو عدالتیں کھل گئی ہیں، ایمبولینسیں اور جیل کی گاڑیاں آ گئی ہیں اور میں ڈس کوالیفائیڈ ہو جاؤں گا۔ یوں ہمارا اسپیکر ایک کال پر ڈھیر ہو گیا اور میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گئی ورنہ ہم نے قومی اسمبلی کی کارروائی چار دن تک گھسیٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بقول جاوید چوہدری انہوں نے عمران خان سے پوچھا کہ آپ اب کیا دیکھ رہے ہیں؟‘‘۔جواب میں خان صاحب ہنس کر بولے: ’’فوری الیکشن نہ کرائے گے تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا۔ میں نے پوچھا آپ کی نظر میں کوئی وے فارورڈ یعنی کوئی اور راستہ بھی موجود ہے، عمران خان نے ہنس کر جواب دیا ’’صرف ایک آپشن ہے‘ آپ نئے الیکشن کرا دیں کیونکہ فریش مینڈیٹ ہی ملک کو بچا سکتا ہے، اب پاکستان سنبھالنا اس حکومت کے بس کی بات نہیں، یہ حکومت ملک کو ہر گزرتے دن پیچھے سے پیچھے لے جائے گی، آ پ بنگلہ دیش کو دیکھ لیں، وہ کہاں تھا اور کہاں پہنچ گیا؟ بھارت نوے کی دہائی میں کہاں تھا اور آج کہاں آ گیا، جب کہ ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے لیکن ہمیں شرم بھی نہیں آتی۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے عمران سے پوچھا کہ ملک کو ٹریک پر واپس کیسے لایا جا سکتا ہے؟ اس پر خان صاحب نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’صرف ایک چیز سے ملک کو واپس ٹریک پر لایا جا سکتا ہے، اگر ساری کی ساری ناکامیاں اور بدنامیاں وزیراعظم کی جھولی میں آ رہی ہیں تو پھر اختیار بھی اس کے پاس ہونا چاہیے۔ ہم جب تک وزیراعظم کو بے اختیار رکھیں گے اور اسے بدنامیاں جمع کرنے پر لگائے رکھیں گے تب تک ملک نہیں چل سکے گا۔ جاوید کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا ’’آپ اس صورت حال کا ذمے دار کس کو سمجھتے ہیں؟‘‘ جواب میں عمران نے پورے جوش سے جواب دیا ’’صرف ایک شخص کو‘‘ اور ہماری میٹنگ ختم ہو گئی۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں آٹھ سال بعد بنی گالا گیا اور مجھے ایک گھنٹہ عمران خان کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ عمران خان حسب معمول جذبات اور ہائی اسپرٹ میں تھے‘ وہ اسی طرح فل انرجی کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے‘ مجھے محسوس ہوا اقتدار کے پونے چار برسوں نے خان کو میچور بھی کر دیا ہے‘ اب انھیں اپنے الفاظ اور گفتگو کے وزن اور اثرات کا علم ہو چکا ہے‘ فواد چوہدری نے یہ فقرہ داغ کر گفتگو کا میچ شروع کرا دیا ’’مجھے چوہدری صاحب نے پچھلے ہفتے کہا تھا اقتدار سے نکلنے کے بعد پہلا ہفتہ مشکل ہوتا ہے اور آپ لوگوں نے وہ مشکل وقت گزار لیا ہے‘‘ میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’جیل کے پہلے چوبیس گھنٹے اور اقتدار سے بے دخلی کے پہلے سات دن مشکل ہوتے ہیں‘‘۔ عمران خان ہنسے اور کہا ’’جیل کے 24 گھنٹے نہیں پورا ہفتہ مشکل ہوتا ہے‘ میرا ساتواں دن زیادہ مشکل تھا‘‘ خان صاحب نے اس کے بعد اپنے اقتدار کے پونے چار سالوں کے راز کھولنا شروع کر دیے‘ انھوں نے تسلیم کیا ہمارے پہلے دو سال مشکل تھے‘ ہم سے معیشت نہیں سنبھل رہی تھی لیکن ہم نے بہرحال جیسے تیسے معاملات کنٹرول کر لیے‘ ہم ملک کو ٹریک پر لے آئے‘ انھوں نے تسلیم کیا ہم احتساب کرنا چاہتے تھے لیکن ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے‘ چیئرمین نیب کسی اور جگہ سے ہدایات لیتا تھا‘ میں جب بھی آصف علی زرداری‘ بلاول بھٹو اور کراچی کے کرپشن کیسز کی بات کرتا تھا تو مجھے جواب دیا جاتا تھا آپ پنجاب سے عثمان بزدار کو ہٹا دیں‘ میں انھیں کہتا تھا پنجاب اور بزدار ایشو نہیں‘ ایشو کراچی ہے‘ یہ ملک کا فنانشل کیپیٹل ہے‘ ہم نے اسے صاف کرنا ہے۔

بقول جاوید چودھری، عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ہم نے کنسٹرکشن انڈسٹری کو ایمنسٹی دی تو ملک میں کنسٹرکشن کا بوم آ گیا‘ سیمنٹ‘ سریا اور اینٹیں تک مہنگی ہو گئیں‘ ملک میں مزدور اور مستری نہیں ملتے تھے لیکن کراچی میں کسی قسم کی تعمیراتی سرگرمی نہیں تھی‘ میں نے میٹنگ بلائی جس میں سندھ کا چیف سیکریٹری بھی موجود تھا‘ کے ڈی اے کا چیئرمین بھی اور آباد ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان کا سربراہ بھی۔ میں نے کراچی میں کنسٹرکشن نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو آباد کے چیئرمین نے کراچی کے افسر کی طرف اشارہ کر کے کہا ’’ہم جب تک اس شخص کو تین کروڑ روپے نہ دے دیں یہ فائل ہی موو نہیں کرتا‘ ‘میں نے چیف سیکریٹری‘ وزیراعلیٰ اور دوسرے اعلیٰ عہدیداروں سے پوچھا ‘ کسی کے پاس جواب نہیں تھا‘ میں نے یہ ایشو نیوٹرلز کے سامنے بھی اٹھایا لیکن مجھے انکی جانب سے جواب ملا‘ کہ آپ بس بزدار کو ہٹا دیں۔

جاوید کہتے ہیں کہ میں نے عمران خان سے پوچھا ’’آپ سے جب سب لوگ مطالبہ کر رہے تھے تو آپ نے عثمان بزدار کو کیوں نہیں ہٹایا؟‘‘ عمران کا جواب تھا ’’پنجاب میں تین گروپس تھے‘ میں تینوں میں سے کس کو وزیراعلیٰ بناتا؟ میں جس کو بھی وزیراعلیٰ بنانا چاہتا تھا دوسرا گروپ کہتا تھا آپ اسے نہ بنائیں‘ آپ بے شک عثمان بزدار کو رہنے دیں‘ میں جانتا تھا میں نے جس دن عثمان بزدار کو ہٹایا اس دن پنجاب میں وہی صورت حال ہو گی جو اس وقت ہے‘‘۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے خان صاحب سے پوچھا کہ ’’آپ اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ ترین سیاست دان تھے‘ پھر آپکے ان سے اچانک اختلافات کیسے ہو گئے؟‘‘ جواب میں عمران نے کہا کہ میرے دماغ کے کسی بھی کونے میں یہ بات موجود نہیں تھی کہ میں فیض حمید کو اگلا آرمی چیف بنائوں گا لیکن ہمارے دوستوں اور غیروں دونوں نے اسے پہلے افواہ بنایا اور پھر خبر اور اس خبر نے غلط فہمی کی دیوار کھڑی کردی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ “آپ اس صورت حال کا ذمے دار کس شخص کو سمجھتے ہیں؟‘‘ اس پر عمران نے پورے جوش سے جواب دیا ’’صرف ایک شخص کو‘‘ اور ہماری میٹنگ ختم ہو گئی۔

Related Articles

Back to top button