وزیراعلیٰ کے انتخاب کیخلاف درخواست پر ڈپٹی سپیکر سپریم کورٹ‌طلب

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کو متنازع قرار دیتے ہوئے عدالت اعظمیٰ سے رجوع کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سماعت کے دوران ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کو طلب کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران ڈپٹی سپکر رونگ اور مسلم لیگ(ق) کے 10 ووٹ مسترد کیے جانے کے خلاف مسل لیگ(ق) کے رہنما پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی، تین رکنی بنچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔
پرویز الہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوا، حمزہ شہباز نے 179 جبکہ پرویز الٰہی نے 186ووٹ حاصل کیے لیکن ڈپٹی سپیکر نے مسلم لیگ(ق) کے دس ووٹ مسترد کر دیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے چوہدری شجاعت حسین کے مبینہ خط کو بنیاد بنا کر مسم لیگ(ق) کے ووٹ مسترد کیے، سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کو دو بجے طلب کر لیا، چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ڈپٹی اسپیکر الیکشن کا مکمل ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کریں اور آ کر بتائیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پر رولنگ دی۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی نوٹس جاری کر دیے اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب بھی معاونت کے لیے سپریم کورٹ طلب کر لیا۔ پرویز الٰہی کے وکیل نے کہا کہ حمزہ شہباز نے حلف لے لیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑنا، ہم نے آئین اور قانون کی بات کرنی ہے، آپ لوگ بھی ذرا صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں۔ عدالت نے حمزہ شہباز اور چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں 22 جولائی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے انتخاب ہوا، جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز دوبارہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے تھے۔
وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو 179 ووٹ جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ (ق) کے امیدوار پرویز الٰہی کو 186 ووٹ ملے تھے تاہم صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت پرویز الہٰی کو ملنے والے ووٹوں میں سے (ق) لیگ کے تمام 10 ووٹ مسترد کردیے تھے جس کے بعد حمزہ شہباز 3 ووٹوں کی برتری سے وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے تھے۔
پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی جانب سے مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد کیے جانے کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کے خط کی روشنی میں ان کی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو آخری وقت پر حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی ہدایات کیا قانونی طور پر درست تھیں؟ خاص طور پر جب سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کر دی ہے۔
سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا۔

Related Articles

Back to top button