جوڈیشل کمیشن کےممبراخترحسین نے بھی کمیشن کو خط لکھ دیا

جوڈیشل کمیشن کے ایک اور رکن اختر حسین نےکمیشن کو خط لکھ دیا ہے۔

رکن ڈیشل کمیشن اخترحسین کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کو اٹارنی جنرل نے بھی خط لکھا اور سپریم کورٹ کی پریس ریلیزجاری ہوئی، کمیشن کی آڈیو جاری کرنے، خطوط لکھنے اور پریس ریلیز جاری کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

خط میں اختر حسین نے کہا کہ جسٹس سجاد علی شاہ کا سندھ ہائیکورٹ کے ججز کے حوالے سے مؤقف سنا، اجلاس کے آخر میں میٹنگ منٹس میں فارمل ووٹ اور حتمی فیصلہ لکھوادیا جاتا، بہتر ہوتا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس کی آڈیو پبلک کرتے ہوئے تمام ممبران سے مشورہ کر لیا جاتا۔

واضح رہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کو اب تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس سجاد علی شاہ خط لکھ چکے ہیں جب کہ تین معزز جج صاحبان کے بعد اب کمیشن کے رکن اختر حسین نے بھی کمیشن کو خط لکھا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال، چیئرمین جوڈیشل کمیشن اور ارکان کوخط لکھاتھا جس میں ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سپریم کورٹ کا جج تعینات نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاوہ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس سجاد علی شاہ خط لکھ چکے ہیں۔

Related Articles

Back to top button