پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کی درخوستیں خارج

پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے حوالے سے دائر درخواستوں کو عدالت اعظمیٰ کی جانب سے خارج کر دیا گیا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی کی معیاد اگر 2018 میں ختم ہو چکی ہے تو پھر یہ معاملہ غیرموثر ہو گیا ہے۔

ظفر علی شاہ اور وحید کمال کی جانب سے 2015 میں دائر کردہ درخواستوں کی سماعت ہوئی، جہاں دلائل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفوں کا معاملہ 2013 کی اسمبلی سے متعلق ہے، 2013کی اسمبلی کی معیاد 2018 میں ختم ہو چکی ہے۔
جس پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ 2013ء کی اسمبلی کی معیاد 2018ء میں ختم ہوچکی تو پھر یہ معاملہ غیر مؤثر ہوگیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کی درخواستیں خارج کردیں، سپریم کورٹ نے استعفوں کی منظوری کی درخواستوں کا معاملہ غیر مؤثر ہونے پر خارج کیں۔

ادھر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور فوادچوہدری نے الیکشن کمیشن کا شوکاز نوٹسز چیلنج کردیا، شوکاز نوٹسز کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کیا گیا، لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس جواد حسن سماعت کریں گے، عمران خان، فواد چوہدری کی جانب سےبابراعوان اورفیصل چوہدری دلائل دیں گے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کوتوہین عدالت کا اختیار حاصل نہیں، آئین کے تحت عدالتی اختیارات انتظامی اداروں کو تفویض نہیں کیے جا سکتے، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹسز آئین و قانون کیخلاف ہیں اور الیکشن ایکٹ2017 کی دفعہ 4 اور 10 آئین سے ماورا ہیں، دونوں رہنماؤں کی جانب سے استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن کے شوکاز نوٹسزکو کالعدم قرار دیا جائے

Related Articles

Back to top button