معافی مانگنے پرعمران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی موخر

راولپنڈی کی ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پرتحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے سماعت کے دوران عمران خان نے کہا ہےکہ میں خاتون جج کے پاس جا کر معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔

تحریک انصاف کے چیئرمینعمران خان عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے خاتون جج سے معافی کے لیے رضامندی ظاہر کی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ہمارے لیے توہین عدالت کاروائی کرنا مناسب نہیں ہوتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت نے عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روک رہی ہے۔سماعت کے دوران عمران خان نے کہا میرے علاوہ کوئی یہ بات نہیں کرتا، عدالت کو لگتا ہے کہ میں نے اپنی حد پار کی، خاتون جج کو دھمکانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

عدالت نےنے ریمارکس دیے کہ عمران خان ایک ہفتے کے اندر بیان حلفی جمع کرادیں،خاتون جج کے پاس جانا یا نہ جانا آپ کا ذاتی فیصلہ ہوگا، اگر آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور معافی کے لیے تیار ہیں تو یہ کافی ہے۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے توہین عدالت کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی عدالت میں پیشی سے متعلق ضابطہ اخلاق کا سرکلر جاری کیا تھا۔

سرکلرمیں بتایا گیا ہے کہ لارجر بینچ 22 ستمبر (کل) دوپہر ڈھائی بجے کیس کی سماعت کرے گا،کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلہ رجسٹرار آفس کے جاری کردہ پاس سے مشروط ہوگا،عمران خان کی قانونی ٹیم کے 15 وکلا کمرہ عدالت میں موجود رہ سکیں گے،اٹارنی جنرل آفس اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 15 قانونی افسران کو عدالت میں جانے کی اجازت ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ 3 عدالتی معاونین کو بھی جانے کی اجازت ہوگی۔

عدالت عالیہ اسلام آباد کی جانب سے جاری سرکلر میں مزید بتایا گیا ہے کہ 15 کورٹ رپورٹرز کی کمرہ عدالت میں موجودگی کی اجازت ہوگی۔سرکلر کے مطابق ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے 5،5 وکلا کو بھی عدالت میں سماعت کے دوران بیٹھنے کی اجازت ہوگی،کمرہ عدالت میں آنے والوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا رجسٹرار آفس پاس جاری کرے گا۔رجسٹرار کے سرکلر میں بتایا گیا کہ عدالتی ڈیکورم کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس سیکیورٹی انتظامات کرے گی۔

واضح رہے کہ 8 ستمبر 2022 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد متفقہ فیصلہ سنایا تھا۔

عدالت عالیہ نے تحریری حکم نامے میں کہا تھا کہ وکیل صفائی، اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کو سنا اور وکیل نے دوبارہ جمع کرائے گئے جواب سے آگاہ کیا، جو توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونے کا باعث بننے والی تقریر کی وضاحت تھی۔حکم نامے میں نہال ہاشمی اور فردوس عاشق اعوان سمیت مختلف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ جواب کو اطمینان بخش نہیں پایا گیا، ہم اس بات پر قائل نہیں ہیں کہ جواب میں مبینہ طور پر ان کے خلاف توہین سے متعلق جاری شوکاز نوٹس پر صفائی پیش کی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے فیصلے میں کہا تھا کہ ‘فرد جرم عائد کرنے کے لیے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کی جاتی ہے اور سماعت مقررہ تاریخ پر دوپہر 2:30 بجے ہوگی۔

قبل ازیں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ کرمنل توہین عدالت بہت حساس معاملہ ہوتا ہے، اس عدالت کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹ ریڈ لائن ہے، جرم بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے جبکہ دو عدالتی معاونین نے بھی کیس ختم کرنے کی استدعا کی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی جانب سے 20 اگست کو اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر توہین عدالت کے کیس میں 8 ستمبر تک عمران خان کو جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا،31 اگست کو دیے گئے عدالت کے حکم کے مطابق سابق وزیر اعظم نے 7 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوبارہ نیا تحریری جواب جمع کرا دیا تھا۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے 7 ستمبر کو دوبارہ جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ غیر ارادی طور پر بولے گئے الفاظ پر افسوس ہے، بیان کا مقصد خاتون جج کی دل آزاری کرنا نہیں تھا، اگر خاتون جج کی دل آزاری ہوئی تو اس پر افسوس ہے۔

عمران خان نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ اپنے الفاظ پر جج زیبا چوہدری سے پچھتاوے کا اظہار کرنے سے شرمندگی نہیں ہوگی، عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیان کا سوچ بھی نہیں سکتا، تقریر کے دوران لفظ ‘شرمناک’ توہین کے لیے استعمال نہیں کیا، میرے الفاظ سے جج زیبا چوہدری کے جذبات مجروح ہوئے، اس پر گہرا افسوس ہے، غیر ارادی طور پر منہ سے نکلے الفاظ پر گہرا افسوس ہے،انہوں نے اپنے جواب میں عدالت عالیہ سے وضاحت کو منظور کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے31 اگست کو کیس کی سماعت کی تھی،چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل حامد خان سے مکالمہ کیا تھا کہ جو جواب پڑھا مجھے اس کی توقع نہیں تھی، مجھے توقع تھی کہا جائے گا غلطی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ 20 اگست کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جس کا راستہ زیرو پوائنٹ سے ایف 9 پارک تک تھا، اس دوران عمران خان کی تقریر شروع ہوئی جس میں انہوں نے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ ترین افسران اور ایک معزز خاتون ایڈیشنل جج صاحبہ کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کیا۔

عمران خان نے ریلی سے خطاب میں اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ڈی آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کرنی کے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم تم کو چھوڑیں گے نہیں،اس کے بعد انہوں نے عدلیہ کو اپنی جماعت کی طرف متعصب رویہ رکھنے پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ بھی نتائج کے لیے تیار ہو جائیں۔

Related Articles

Back to top button