حکومت نے عمران خان کی تقاریر پر پیمرا کی پابندی ختم کر دی

پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی تقاریر اور پریس کانفرنس نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی تاہم وفاقی حکومت نے پابندی ختم کرنے کی ہدایت کر دی۔
وفاقی حکومت نے پیمرا قانون کے سیکشن فائیو کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے عمران خان کی تقریر نشر کرنے پابندی کے پیمرا کے حکم نامے کو منسوخ کردیا۔
واضح رہے کہ پیمرا قانون کا سیکشن فائیو وفاقی حکومت کو مخصوص حالات میں اتھارٹی کے اختیارات معطل کرنے کا اختیار دیتا ہے. وفاقی حکومت اختیارات کا استعمال کرکے اتھارٹی کا حکم معطل کر سکتی ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پیمرا کے سیکشن 5 کے تحت پابندی اٹھانے کی ہدایت کی گئی، وزیراعظم نے عمران خان کے دور کی تلخ روایات ختم کرکے نئی روایت قائم کی ہے، نوازشریف، مریم نواز، سیاسی قائدین اور راہنماؤں کے ساتھ عمران خان نے چار سال اپنے دور اقتدار میں جو کیا، ہم اس پر یقین نہیں رکھتے۔اُن کا کہنا تھا کہ جمہوری اصولوں، اظہار رائے کی دستوری آزادیوں پر یقین رکھتے ہیں، سیاسی مخالفین، رہنماؤں، کارکنوں اور میڈیا پر پابندی عمران خان کی منفی سوچا ور رویہ رہا ہے، سیاسی مخالفین کے خلاف عمران خان جو بولنا چاہتا ہے، کھل کر بولے، ہمارے خلاف عمران خان کی تقریر عوام تک پہنچے تاکہ انہیں اس فتنے کی حقیقت واضح ہوتی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے حامیوں کو فتنے، فساد اور جھوٹ کی حقیقت سمجھنا ہوگی، ہم جمہوری سوچ رکھتے ہیں، فاشسٹ عمران خان نہیں ہیں۔
قبل ازیں پیمرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں بتایا گیا کہ عمران خان نے لانگ مارچ کے دوران تقاریر اور گزشتہ روز (4 نومبر) کو پریس کانفرنس میں قومی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے، ان کی تقاریر بغیر ایڈیٹوریل نگرانی کے نشر کی گئیں۔مزید کہا گیا کہ اس قسم کا مواد نشر ہونے سے عوام میں نفرت پھیلنے کا خدشہ ہے اور اس سے امن و امان خراب ہوسکتا ہے، اور یہ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 19 اور پیمرا آرڈیننس 2002 کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پیمرا کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی تقاریر کا جائزہ لیا گیا اور اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ ٹی وی چینلز عدالتوں کے احکامات اور متعلقہ قوانین کے مطابق مؤثر تاخیری نظام اور مؤثر ایڈیٹوریل نگرانی یقینی نہیں بنا سکے۔

نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا کہ چیئرمین نے پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 (اے) کے تحت عمران خان کی تقاریر، پریس کانفرنسز نشر کرنے یا دوبارہ نشر کرنے پر تمام ٹی وی چینلز پر فوری طور پر پابندی عائد کردی۔مزید کہا گیا کہ اگر اس کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو بغیر کوئی شوکاز نوٹس جاری کیے عوام کے مفاد اور قوانین کے مطابق پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 30 (3) کے تحت لائسنس کو معطل کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ 3 نومبر کو پیمرا نے نیوز چینلز کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان پر حملے کے حوالے سے اسد عمر کا ویڈیو بیان نشر کرنے سے روک دیا تھا۔پیمرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘اس طرح کا بیان نشر کرنا عوام میں افراتفری پھیلانے یا امن و امان میں خلل ڈالنے اور قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے’۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ایسا کرنا آئین کے آرٹیکل 19 اور پیمرا آرڈیننس 2002 کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کے سیکشن 27 کی سنگین خلاف ورزی ہے’۔

Related Articles

Back to top button