عمران کے توشہ خانہ معاملے کو انجام تک پہنچائیں گے

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے کسی بڑے عہدے پر فائزشخص کا پیغام آیا ہے، کیا ملنے والے تحائف کو ایسے بیچا جاتا ہے، آج ہماری حکومت میں وزیراعظم آفس کے کورویڈر میں ملنے والے تحائف گھڑی کی ٹرانزیکشن سے پاکستان کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچا، عمران جواب دیں کہ پیسے کس طرح ٹرانسفر اور کتنی اماؤنٹ تھی، جس طرح ہم نے مقدمات کا سامنا کیا اسی طرح عمران بھی سامنا کریں، ہم قانون اورقائدے کے تحت اس معاملے کوانجام تک پہنچائیں گے، عمران خان توشہ خانہ میں سامنے آنے والی کرپشن پر چاہتے ہیں یہ معاملہ دب جائے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں سارے شورمیں کرپشن دب جائے، سائفر پر بیرونی سازش کا الزام لگایا اب اس الزام سے پیچھے ہٹ گئے، ملک کے معاشی حالات اتنے اچھے نہیں ہیں، ایسے بیانات سے بیرونی حالات بھی متاثر ہوتے ہیں، اس شخص نے پوری کوشش کی کہ پاکستان دیوالیہ ہوجائے، عمران خان نے فوج کے اعلیٰ افسران کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی، تاحیات ایکسٹنشن کی بات بھی کرتا رہا، صدر مملکت کے ساتھ ملاقات میں ان کے آگے ہاتھ جوڑتا رہا اورمختلف آفربھی کرتا رہا۔

انکا کہناتھا عمران خان نے دبئی میں گھڑی بیچی، ان کی کرپشن، بے ضابطگیوں کا سلسلہ نیا نہیں، عمران خان کے دور میں ریکارڈ کرپشن کی گئی، عمران خان عدالت میں جا کر مقدمہ کریں، بڑی اچھی بات ہے، عدالت میں ان کی بدیانتی ثابت ہو جائے گی، انہوں نے اپنے کیسز ختم کرائے، نوازشریف کو تاحیات نااہلی کی سزا دی گئی، انہوں نے اپنے فائدے کے لیے توشہ خانہ کے قانون کوتبدیل کیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ چاہتے ہیں جو پیمانہ نوازشریف کیلئے ہو وہی عمران خان کے لیے بھی استعمال ہونا چاہیے، ان پرقاتلانہ حملہ پنجاب میں ہوا، صوبے میں مقدمہ درج ہونا چاہیے، اگران کی مرضی کی ایف آئی آردرج نہیں ہورہی تو پرویزالہیٰ کا گریبان پکڑیں، عمران خان کے خلاف آئین و قانون اور قائدے کے تحت کارروائی ہوگی، الیکشن کمیشن کا عمران خان کے خلاف فیصلہ منی لانڈرنگ کا واضح ثبوت ہے، سارے سوالات کا جواب عمران خان کودینا پڑے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا عمران خان صاحب بڑھکیں مارنے سے بات ختم نہیں ہو گی، ہماری حکومت میں ایک شخص کو بھی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا گیا، گزشتہ دورمیں مخالفین کونشانہ بنایا گیا، ان کے دورمیں دہشت گردی کا ماحول بنادیا گیا تھا، سعودی عرب سے کسی بڑے عہدے پر فائزشخص کا پیغام آیا ہے، کیا ملنے والے تحائف کو ایسے بیچا جاتا ہے، آج ہماری حکومت میں وزیراعظم آفس کے کورویڈر میں ملنے والے تحائف گھڑی کی ٹرانزیکشن سے پاکستان کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچا، جواب دے پیسے کس طرح ٹرانسفر اور کتنی اماؤنٹ تھی، جس طرح ہم نے مقدمات کا سامنا کیا اسی طرح عمران بھی سامنا کریں، ہم قانون اورقائدے کے تحت اس معاملے کوانجام تک پہنچائیں گے۔

Related Articles

Back to top button