عمران پر حملے کی تحقیقات کرنیوالی JITنے کام روک دیا

لاہورپولیس  کےچیف غلام محمود ڈوگر کی معطلی کا حکم بحال ہونے کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین  عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے  کام روک دیا۔

باوثوق  ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے دوران کنٹینر پر موجود سابق وزیراعظم پرفائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن (جے آئی ٹی) ایک بار پھر متنازع ہوگئی ہے اور اس نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی معطلی کا نوٹیفکیشن بحال ہونے کے بعد اپنا کام روک دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی اراکین کو ہدایات ملنا عارضی طور پر بند ہو گئی ہیں جب کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم چند روز میں ملزم نوید سے محض پوچھ گچھ کے سوا مزید کچھ نہیں کر سکی۔

واضح رہے کہ وفاقی سروس ٹربیونل نے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن بحال کردیا ہے۔ اس سلسلے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ غلام محمود ڈوگر معطل افسر ہیں، جو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ نہیں رہ سکتے۔

سی سی پی او لاہور کو وفاقی حکومت نے 5 نومبر کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے بحال ہوتے ہی غلام محمود ڈوگر اب 5 نومبر ہی سے معطل تصور ہوں گے جب کہ پنجاب حکومت نے غلام محمود ڈوگر کو عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کر رکھا ہے۔

Related Articles

Back to top button