چند روز تک پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے رمضان تک نئی حکومت کے قیام کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان چند روز میں خیبرپختونخوا اور پنجاب کی اسمبلی تحلیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، عمران خان نے کہا ہے کہ آئین اور جمہوری راستے اپناتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی اور مواقع دیے، اپوزیشن سے بات کی، ان کو مختلف انداز میں پیغامات دیے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے صدر عارف علوی نے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی کہ فاصلے کم ہوسکیں اور ہم کسی مثبت راستے پر آگے بڑھ سکیں لیکن پیش رفت نہ ہوسکی اور معاملہ جوں کا توں رہا، عمران خان نے بحیثیت چیئرمین پی ٹی آئی یہ فیصلہ کیا کہ جو ان کے اختیار میں ہے وہ قدم اٹھائیں اور مشاورت کے ساتھ بہت جلد خیبرپختونخوا اور پنجاب کی اسمبلیاں تحلیل کردوں گا تاکہ نئے انتخابات کی فضا ہموار کی جاسکے، ہمارے اراکین پہلے ہی قومی اسمبلی سے باہر آچکے ہیں، حکومت یا پارلیمان کا عملی طور پر حصہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے لاہور میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اراکین کے ساتھ دو اہم اجلاس منعقد کیے اور ڈویژن کی سطح پر اراکین سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں، آج کے اجلاس میں انہوں نے ہم سب کو اعتماد میں لیا اور کہا کہ میں نے جتنی مشاورت اور ملاقاتیں کی ہیں، اس کے مطابق میں مزید قائل ہوگیا ہوں کہ واحد حل نئے انتخابات ہیں اور نئے انتخابات کی طرف بڑھنے کے لیے ہماری سنجیدگی کا مظاہرہ اسمبلیوں کی تحلیل ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے عمران خان کو اختیار دیا ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل اگلے چند روز میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ سارا عمل آگے بڑھایا جاسکے، اگر وفاقی حکومت اپنی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دینا چاہتی ہے اور عام انتخابات کی طرف نہیں بڑھتے اور ملک کو مزید ڈبونا چاہتے ہیں تو یہ ان کا فیصلہ ہے، ہماری خواہش ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں رمضان سے پہلے انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہوں اور حکومتیں معرض وجود میں آچکی ہوں،،عمران خان کی خواہش ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل میں تاخیر نہیں کی جائے اور آج پارٹی کی سینئر قیادت کو اس بات کا اظہار کر دیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک کی معاشی صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے، ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے، جس سطح پر ہم معیشت چھوڑ کر گئے تھے وہ تیزی سے تنزلی کی طرف جارہی ہے، ہر اشاریہ یہی کہہ رہا ہے کہ معیشت بگڑتی جا رہی ہے، مفتاح اسمٰعیل اور اسحٰق ڈار کا مذاکرہ کھلے عام سب کے سامنے آچکا ہے، پارٹی نے سراہا ہے کہ لوگوں کی درخواستوں کی شکل میں مطالبہ تھا کہ چیف جسٹس ارشد شریف کے قتل کا نوٹس لیں اور ان کے خاندان کو انصاف مہیا کیا جائے تو پارٹی نے خراج تحسین پیش کیا ہے کہ چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا اور ایک 5 رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے اور اس کے سامنے ایک رپورٹ بھی آچکی ہے اور اس کی تفصیلات اور ارشد شریف کی والدہ کا مؤقف سب کے سامنے آگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ انصاف ہونا چاہیے، انسانی حقوق کی پامالی جس انداز میں ہوتی رہی ہے وہ کسی مہذب معاشرے میں بالکل نہیں ٹھہرتا اور ان کو انصاف ملنا چاہیے، ہم ہرگز ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیں گے جس سے ملک کو نقصان ہو یا ملک کے کسی ادارے کا نقصان ہو یا ادارے کی تضحیک ہو، پچھلے 7، 8 ماہ میں اگر کوئی خلیج پیدا ہوئی ہے اور بدگمانیوں نے جنم لیا ہے تو ہم آنے والے دنوں میں اس قسم کا اعتماد بحال کریں کہ وہ خلیج کم ہوسکے اور اضافہ نہ ہو اور ملک اس ہیجانی کیفیت سے باہر آسکے۔

Related Articles

Back to top button