عمران خان اگر مگر چھوڑیں اسمبلیاں تحلیل کردیں

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے اگر مگر چھوڑیں اسمبلیاں تحلیل کریں پنجاب میں بھرپور شکست دیں گے۔

ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان، میں نے آپ کا انتظار کیا لیکن آپ اسلام آباد میں جلسہ کرنے نہیں آئے اور راولپنڈی چلے گئے، میرا چیلنج قبول کریں، اگر مگر چھوڑیں اور اسمبلی تحلیل کریں، اگلے الیکشن کو چھوڑیں اسی میں فیصلہ ہو جائے گا اور آپ کو پنجاب میں بھرپور شکست سے دوچار کریں گے آپ کو چھپنے کے لیے بھی جگہ نہیں ملے گی۔

دریں اثنا  لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی وطن واپسی پر استقبال کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ہم مقابلہ کرنے اور انتخابات کے لیے تیار ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ پارٹی کچھ فیصلے کیے ہیں اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے آج اجلاس ہوگا، پارٹی قائد کی وطن واپسی پنجاب میں انتخابات کے نتائج کا تعین کرے گی اور پیش گوئی کی کہ تحریک انصاف کو شکست ہوگی،ہم جمہوریت پسند ہیں اور اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے حق میں ہیں مگر تحریک انصاف کی دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے  کہا کہ پارٹی نے پنجاب کی 9 ڈویژن کو تین تقسیم کیا ہے جبکہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کرکے دو ہفتوں کے اندر ہر حلقہ میں دو امیدوار نامزد کرے گی، کمیٹی مسلم لیگ (ن) کے سینیئر اراکین پارلیمان پر مشتمل ہوگی جو موجودہ اراکین صوبائی اسمبلی اور انتخابات میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے ملاقات کرے گی اور تمام حلقوں کا دورہ کرکے ہر حلقے سے دو امیدواروں کو نامزد کرے گی۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ نامزدگی کے بعد کمیٹی اپنی تجاویزارسال کرے گی جس کے بعد پارٹی اس پر فیصلہ کرے گی، نواز شریف کی واپسی پر یونین کونسل کی سطح پر بھی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور پارٹی کارکنان اپنی یونین کونسل کے نام سے بینر تلے لاہور میں پارٹی قائد کا استقبال کریں گے، پارٹی قائد کا استقبال انتخابات کی قسمت بھی طے کرے گا اور جب انتخابات کا اعلان ہوگا تو میاں نواز شریف پنجاب کے انتخابات میں پارٹی کی قیادت کرنے کے لیے واپس آئیں گے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ عام انتخابات اکتونر 2023 میں ہوں گے مگر ایک دو اسمبلیاں تحلیل کی جاتی ہیں تو صوبائی انتخابات 90 دن کے اندر ہوں گے، انہیں اطلاعات ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اسمبلی تحلیل کرنے کے حق میں نہیں ہیں، اگر تحریک انصاف کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ ہماری طرف سے رکاوٹوں کی وجہ سے اسمبلیاں تحلیل نہیں کر رہے تو میں یہ واضح کر دوں کہ کوئی رکاوٹ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم اس اقدام کے حق میں نہیں، پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک ہی صف میں ہیں اور ہم اتحادی کے طور پر انتخابات لڑیں گے مگر اہم مقابلہ تحریک انصاف کے ساتھ ہوگا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے خاندان پر سیلاب متاثرین کے لیے بھیجی گئی امداد میں کرپشن کے الزام کے ثبوت پیش کرنے میں ناکامی کے بعد ’ڈیلی میل‘ ادارے نے تسلیم کیا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے ، شریف خاندان پر اللہ نے خاص کرم کیا ہے کہ ان کی بے گناہی کے ثبوت دنیا کی ایسی جگہوں سے میسر ہو رہے ہیں جن کو دنیا بھی تسلیم کرتی ہے اور عمران خان نیازی بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ برطانیہ کے اداروں میں کوئی چھوڑا بڑا نہیں ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ شریف خاندان پر عائد کیے گئے الزامات انتہائی گھناؤنے تھے جس سے نہ صرف خاندان بلکہ ملک و قوم کے لیے بھی شرمناک تھے، وزیراعظم شہباز شریف، ان کی حکومت اور خاندان پر سیلاب متاثرین کے لیے بھیجھی گئی امداد میں کرپشن کا گھناؤنا الزام عائد کیا گیا اور اس الزام کو پانچ بار ثبوت پیش کرنے میں ناکامی کے بعد ’ڈیلی میل‘ نشریاتی ادارے نے تسلیم کیا کہ ان سے غلطی ہوئی، 14 جولائی 2019 کو ڈیلی میل اخبار میں یہ خبر شائع کی گئی تھی جس کے بعد اس وقت کے نمائندے کو پاکستان بلایا گیا تھا

رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے صحافی سے ملاقات کرکے جعلی دستاویزات فراہم کیے تھے جبکہ شہزاد اکبر نے ان کو جیل میں کچھ لوگوں سے ملا کر مکمل ڈرامہ تیار کیا تھا اور صحافی نے واپس جاکر پاکستان کے خلاف اییسی ہتک آمیز خبر شائع کردی، خبر شائع ہونے کے بعد شہباز شریف نے ان کو نوٹس بھیجا تھا اور ثبوت پیش کرنے کے لیے پانچ بار وقت لیا مگر جب ثبوت پیش نہ کر سکے تو اپنی غلطی کو تسلیم کیا، میں عمران خان اور شہزاد اکبر سے مطالبہ کرتا ہوں کہ شریف خاندان سے نہیں بلکہ پاکستان اور پوری قوم سے معافی مانگیں کیونکہ شریف خاندان کو نقصان پہنچانے کے لیے انہوں نے ملک کو بھی نقصان پہنچایا۔

Related Articles

Back to top button