لاہور ہائی کورٹ عمران اور بلے کا نشان کیسے بچا سکتی ہے؟

الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کی 14 درخواستوں کو قابل سماعت قرار دے کر ان پر کاروائی شروع کر دی گئی ھے جس کے بعد تحریک انصاف کا بلے کا نشان ایک بار پھر خطرے میں پڑ گیا ھے ۔ تاھم لاھور ہائی کورٹ کا ایک حکم امتناع پی ٹی آئی کو بہت زیادہ عزیز اس کا یہ انتخابی نشان محفوظ رکھ سکتا ھے ۔ نیوز ویب سائٹ وی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف انتخابات سے قبل اپنے انتخابی نشان کو بچانے کے لیے قانونی جنگ لڑ رہی ہے۔ بلے کے نشان کو بچانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے انٹرا پارٹی الیکشن لڑنے سے بھی انکار کردیا تھا اور اپنی جگہ بیرسٹر گوہر علی خان کو چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا تھا۔
یہ فیصلہ پارٹی نے الیکشن کمیشن کے 22 نومبر کو جاری کیے گئے فیصلے کی روشنی میں کیا جس میں کمیشن نے پی ٹی آئی کے پہلے انٹرا پارٹی الیکشن ماننے سے انکار کرتے ہوئے دوبارہ پارٹی انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔ خیال رہے کہ قانون کے مطابق پارٹی انتخابی نشان جاری کرنے سے پہلے انٹرا پارٹی کے نتائج الیکشن کمیشن میں جمع کروانے لازمی ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ برس جون میں کرائے گئے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیا گیا تھا جس کے بعد صرف اور صرف الیکشن کمیشن کے اعتراض کو دور کرنے کے لیے عمران خان کے بجائے بیرسٹر گوہر کو چئیرمین منتخب کردیا گیا لیکن پی ٹی آئی کے سامنے رکاوٹ اس وقت آئی جب سابقہ رکن اکبر ایس بابر سمیت متعدد افراد نے نے انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتراضات دائر کردیے۔ اکبر ایس بابر نے موقف اپنایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن قانون کے مطابق نہیں ہوئے اور انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے نہ کاغذات نامزدگی دیے گئے نہ ہی شیڈول جاری کیا گیا۔
اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن سے یہ استدعا کی کہ الیکشن کمیشن پارٹی کو دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کی ہدایت کرے، الیکشن کمیشن نے ان کی یہ استدعا تو مسترد کر دی تاہم ان سمیت چودہ درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے 12 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی۔
الیکشن کمیشن نے موقف اپنایا کہ آئین کے مطابق بار بار انتخابات کروانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اگر خلاف ورزی ہوئی تو اس کے نتائج ہوں گے۔ بظاہر اکبر ایس بابر وغیرہ کی درخواستیں منظور ہونے کے بعد تحریک انصاف کے لیے بلے کا نشان بچانا ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ لیکن تحریک انصاف کے پاس اس وقت الیکشن کمیشن میں اپنا موقف درست ثابت کرنے کے علاوہ دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ برس جون میں کرائے گئے انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اس درخواست پر ان چیمبر سماعت بھی ہوئی جس کے بعد معاملہ پانچ رکنی لارجر بنچ کے سامنے بھیج دیا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اگر الیکشن کمیشن کے 22 نومبر کو دیے گئے فیصلے پر حکم امتناع جاری ہوجاتا ہے تو جون 2022 کے انٹرا پارٹی الیکشن بحال ہوجائیں گے اور عمران خان بھی بطور چیئرمین بحالی کے ساتھ ساتھ بلے کا نشان بھی جاری ہونے میں رکاوٹ دور ہو جائے گی تاہم لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اگر حکم امتناع جاری نہ کیا گیا تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔
دوسری جانب تحریک انصاف اکبر ایس بابر کی درخواست کے خلاف بھی عدالت جانے کا آپشن رکھتی ہے۔
واضح رہے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق انتخابات کا انعقاد 8 فروری کو ہونا ہے لیکن ان 2 ماہ کے دوران پاکستان تحریک انصاف انتخابات سے قبل اپنا انتخابی نشان بچانے کے لیے جنگ لڑ رہی ہے۔

Related Articles

Back to top button