لاہور سے بلاول کی جیت دیکھ کر مسلم لیگ ن کی سازشیں شروع

لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پوزیشن روز بروز مستحکم ہو رہی ہے ایسے میں لاھور کو اپنا گھر قرار دینے والی مسلم لیگ نون کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں اور اس کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کے خلاف سازشیں شروع ہوگئی ہیں ۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے بلاول بھٹو کے خلاف مسلم لیگ نون نے ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر پنجاب کارڈ کا استعمال شروع کر دیا ھے ۔ روزنامہ جنگ کے کالم نگار محمد خان ابڑو اپنے کالم میں بتاتے ہیں کہ این اے 127 کے حلقے میں اس وقت بہت دلچسپ صورتحال ہے جہاں ن لیگ ۔۔۔ مسیحی برادری اور دیگر برادریوں کو بار بار یہ باور کروارہی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری سندھی ہے اور لاہور سے جیت بھی گیا تو آپ کے مسائل حل نہیں کرسکتا کیوں کہ وہ جیت کر واپس سندھ چلا جائے گا، اس پر لوگ ن لیگ سے سوال کرتے ہیں کہ سندھ تو پاکستان کا حصہ ہے مگر ن لیگ کا رہنما تو مشکل وقت میں جدہ اور لندن چلا جاتا ہے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کا نہ صرف لاہور میں گھر ہے بلکہ رشتے داری بھی ہے ۔ اس خاندان کی تیسری نسل لاہور کو اپنا گھر مانتی ہے اور لاہوری عوام کے دلوں کی دھڑکن رہی ہے۔ وطن واپسی پر فقید المثال استقبال کی جو سعادت 1986 میں شہید بینظیر بھٹو کو لاہور میں نصیب ہوئی وہ آنے والی نسل کے کسی رہنما کے نصیب میں آنا مشکل ہے۔ عمرانی آمریت میں لاہور کے اسی حلقے این اے 127 پیپلز پارٹی کے امیدوار نے ضمنی الیکشن میں کم و بیش 34ہزار ووٹ حاصل کیے جس کا مطلب یہ ہے کہ لاہور میں پی پی پی کا ایک بڑا ووٹ بینک موجود ہے اور اگر ایک غریب کارکن 34ہزار ووٹ اس حلقے سے لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کامیابی یقینی نظر آتی ہے۔ اس حلقے میں رہنے والے مختلف مسلک اور اقلیتیں پہلے ہی بلاول بھٹو کی حمایت کا اعلان کر چکی ہیں جبکہ دوسری طرف اس حلقے میں صوبائی نشست پر پی پی پی ٹکٹ پر انتخابات لڑنے والے فیاض بھٹی کو پی پی پی کا نشان تیر الاٹ نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ چند قوتوں کا اندازہ ہوگیا کہ یہ حلقہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جیتنے کی پوزیشن میں ہیں، ویسے بھی روایتی طور پر اس حلقے میں پی پی پی کے اثر ورسوخ کی چھاپ بہت گہری ہے۔ اس بار انتخابی مہم میں لاہور کے ایسے جیالے بھی متحرک ہیں جو اس سے پہلے ضیاءالحق کی آمریت کے خلاف مزاحمت کرتےہوئے تاریخ کے اہم کردار بن کر ابھرے اور پھر گوشہ نشین ہوگئے لیکن شہید بینظیر بھٹو کے بیٹے کے ساتھ لاہور کے یہ جیالے اور جیالیاں آج صبح سے شام اس حلقے میں انتخابی مہم چلاتے نظر آرہے ہیں یہاں مسیحی برادری اس بار پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حق میں کھل کر سامنے آچکی ہے وہ گرجا گھروں میں بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم کے پروگرام منعقد کررہی ہے اور اس حلقے میں اس برادری کا ووٹ بینک فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف طاہر القادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک بھی اس حلقے میں ہزاروں کی تعداد میں اپنا ووٹ بینک رکھتی ہے اور اس جماعت نے بھی بلاول بھٹو زرداری کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ ساتھ ساتھ ہسندھ کے سابق صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کا خاندان بھی لاہور کی مزاحمتی سیاست میں اہم مقام رکھتا ہے اور ناصر حسین شاہ کے صاحبزادے لاہور میں متحرک نظر آتے ہیں ۔

Related Articles

Back to top button