وفاقی کابینہ سے بجٹ منظور،تنخواہوں میں15 فیصد اضافہ ہوگا

وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج بروز جمعہ 10 جون کو اسلام آباد میں ہوا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس کے آغاز میں اراکین نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کیلئے دعائے مغفرت کی.

اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فنانس بل 2022،23 بھی منظوری کیلئے پیش کیا گیا۔ آج ہونے والے اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی، جب کہ الاؤنسز کو بھی بنیادی تنخواہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وفاقی کابینہ کو وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل کی جانب سےبجٹ کے نکات پر بریفنگ دی گئی.

نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہوفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 5 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے خزانے پر 71 ارب 59 کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔

یاد رہے کہ سرکاری ملازمین کی پینشن میں اپریل میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں9500 ارب روپے کے حجم پر مشتمل وفاقی بجٹ آج منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، دفاعی اخراجات کیلیے 1586ارب، سبسڈیز کی مد میں 578 اور پینشن ادائیگیوں کیلئے 530 ارب کی تجویز دی گئی ہے، اضافے کا تخمینہ 11.5 فیصد جبکہ ٹیکس ہدف 7255 ارب روپے مقرر کیے جانے کی تجاویز بھی دی گئی ہے۔

بجٹ خسارے کا تخمینہ 4282 ارب روپے لگایا گیا، نان ٹیکس ریونیو 1626 ارب کی تجویز دی گئی، بجٹ میں جی ڈی پی (معاشی ترقی) کا ہدف 5فیصد تجویزجس کو 6 فی تک بڑھانے کی کوشش کی جائیگی۔

زراعت سیکٹر کی نمو کا ہدف 3.9 فیصد، صنعت کا 5.9 فیصد اور سروسز سیکٹر کی نمو کا حدف 5.1 فیصد رکھنے کی تجویز ہے، پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل جمعہ کو ہی وفاقی کابینہ کا اسپیشل اجلاس منعقد ہوگا، جس میں بجٹ کی منظوری دی جائے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز کی بھی منظوری دی جائے گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس سے پندرہ فیصد اضافے کا امکان ہے جبکہ کنوینس الاونس، میڈیکل الاونس سمیت دیگر الاونسز میں بھی اضافے کی تجویز ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو 7255 ارب کا ٹیکس جمع کرے گا، نان ٹیکس کی مد میں 1626 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے اگلے مالی سال کے ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے کیلئے ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں وصولیوں کا ہدف2560 ارب روپے جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں وصولیوں کا ہدف4695 ارب روپے تجویز کیا ہے۔

اگلے مالی سال کے بجٹ میں ہر قسم کی گاڑیوں کی درآمد پر اڑھائی فیصد مزید فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز، بڑے گھروں اور فارم ہاوسز پر لگژری ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، زیادہ منافع کمانے والے اداروں پر بھی ٹیکس کی تجویز ہے جبکہ نان فائلرز کیلئے ٹیکس کی شرح بڑھانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس قوانین میں ترامیم کرکے سزائیں بھی سخت کرنے کی تجاویز ہیں۔

اس کے علاوہ اندرون ملک اور بیرون ملک سامان خریدنے کے لیے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ٹرانزیکشنز پر ایک فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، اسی طرح بزنس کلاس میں بین الاقوامی ہوائی سفر کیلئے ایئر ٹکٹ پر ٹیکس بڑھا کر پچاس ہزار روپے فی ایئر ٹکٹ کرنے کی بھی تجویز ہے، اس کے علاوہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں رجسٹرڈ ایکسپورٹرز کے ذریعے پیکنگ میٹریل، خام مال یا پرزہ جات/پارٹس کی سیلز ٹیکس فری مقامی خریداری کی بحالی کیلئے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم 2021ء میں بھی بڑی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

اسکے علاوہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹوبیکو سیکٹر میں گرین لیف تھریشنگ اسٹیج پر تین سو روپے فی کلو گرام کے حساب سے قابل ایڈجسٹ ایڈوانس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی یا دس فیصد موجودہ ایڈوانس ٹیکس کو بڑھا کر تین سو روپے کرنے کی بھی تجویز ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گرین بانڈ اور جینڈر بانڈ کے اجراء کے لیے ٹیکس کریڈٹ کی سہولت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، علاوہ ازیں اس کے علاوہ نجی فنڈز کو ٹیکس کریڈٹ دینے، کمپنیوں کے اندراج پر ٹیکس کریڈٹ کی بحالی، غیر ملکیوں کوکیپٹل گین ٹیکس (سی جی ٹی) سے چھوٹ دینے کی تجاویز بھی ہیں۔

Related Articles

Back to top button