کیا اپوزیشن کی سرگرمیوں کا تعلق آرمی چیف کی تقرری سے ہے؟

باخبر حلقوں نے دعوی کیا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز تب سامنے آئی جب یہ خبر لیک ہوئی کہ عمران خان صدر عارف علوی کے ساتھ مل کر آرمی چیف کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔

اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کے خلاف اچانک اکٹھے ہونا کسی درپردہ منصوبے کے تحت ہے ورنہ حکومتی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم، قاف لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی یکدم متحرک نہ ہوتیں۔ باخبر ذرائع کا دعوی کر رہے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد فروری کے مہینے میں ہی آئے گی جسکے نتیجے میں سیاسی منظر نامہ مکمل تبدیل ہو جائے گا۔

پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مرکزی قیادت کے مابین 5 فروری کو لاہور میں ہونے والی ملاقات کے بعد سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا نظر آتا ہے۔ اس ملاقات کے بعد آصف زرداری نے چودھری برادران سے ملاقات کی، ہھر ایم کیو ایم کے وفد نے قاف لیگ کی قیادت سے ملاقات کی جسکے بعد نواز لیگ والوں نے چوہدری برادران سے رابطہ کیا گیا ہے اور اب دونوں کے مابین ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان سیاسی ملاقاتوں کے نتیجے میں مستقبل کی ملکی سیاست کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں اور اندازے لگائے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ ان ملاقاتوں سے پہلے نواز لیگ کی قیادت عمران کے سابقہ دست راست جہانگیر خان ترین کے ساتھ معاملات بہت آگے تک بڑھا چکی ہے اور تحریک عدم اعتماد کی صورت میں قومی اسمبلی میں ان کے دھڑے سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی اپوزیشن کے ساتھ جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی اتحادی جماعتوں کی جانب سے کھلے عام اپوزیشن رہنماؤں سے پیار کی پینگیں بڑھانے پر کافی ذیادہ پریشان ہیں لیکن بظاہر خود کو مضبوط ظاہر کرنے کے لئے انہوں نے اپوزیشن مخالف جلسوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں ایک مرتبہ پھر باہمی اختلافات بھلا کر کپتان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوگئی ہیں۔

خیال رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے عمران مخالف مہم کے آغاز کے بعد اپوزیشن کی قیادت سے ملاقات کرنے والی اتحادی جماعتیں ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے جانی جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے قاف لیگ، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت وزیراعظم عمران خان سے خوش نہیں ہے اور اپنے بڑوں کی جانب سے گرین سگنل ملتے ہی ان کے خلاف کھڑی ہوجائے گی۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ تینوں جماعتیں اقتدار کے بغیر نہیں رہ پاتیں لہذا اگر واقع کوئی بڑی سیاسی تبدیلی آ رہی ہے تو یہ اس میں حصہ ڈال کر اگلے سیٹ اپ میں اپنا حصہ پکا کرنا چاہیں گی۔ شاید اسی مقصد کے لیے ایم کیو ایم اور باپ پارٹی نے اب یہ شور مچانا شروع کر دیا ہے کہ ان کے ساتھ وفاقی کابینہ میں دو وزارتوں کا وعدہ کیا گیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہو پایا۔ گجرات کے چوہدری بھی عمران خان کی جانب سے خود کو خطرناک قرار دینے کے بعد سے فاصلہ اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے دراصل اسٹیبلشمنٹ کو دھمکی دی تھی۔

صوبائی وزیر شاہ محمد کی نااہلی کا فیصلہ معطل

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے اچانک وزیراعظم کے خلاف اکٹھا ہونے کا فیصلہ بھی ان کے خطرناک ہونے کے بیان کے فوری بعد کیا جس سے معاملات کی سنگینی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے مابین معاملات آئی ایس آئی چیف کی تقرری پر ہونے والے تنازعے سے ہی خراب چکے آ رہے ہیں اور اب اس طرح کی افواہیں گرم ہیں کہ عمران خان نے عارف علوی کے ساتھ نئے آرمی چیف کے حوالے سے مشاورت شروع کر رکھی ہے جس کی خبر بڑے گھر تک بھی پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ اپوزیشن جماعتیں بھی موقع غنیمت جانتے ہوئے فوری طور پر متحرک ہو گئی ہیں۔

موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ کپتان حکومت کے اتحادی مسلسل پی ٹی آئی کی جانب سے بہتر ڈیل کی تلاش میں ہیں، وہ کسی ایسے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے جس سے انہیں اقتدار میں زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے میں مدد ملے۔ حکومت پر عدالتوں اور صحافتی اداروں پر دباؤ ڈالنے اور معیشت کو برباد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں کہ وہ اس غیر منتخب حکومت کو اقتدار سے باہر پھینکنا چاہتی ہیں،۔

دوسری جانب وزیر اعظم جو انسداد بدعنوانی کے نعرے پر اقتدار میں آئے، کہتے ہیں کہ اپوزیشن کی اس مہم کا مقصد اپوزیشن لیڈروں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات ختم کرنے کے لیے انہیں بلیک میل کرنا ہے۔ احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے اپوزیشن کے پاس اپنی معزولی کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا، عمران خان نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بہت ہی سخت رویہ اپنایا، انہیں ڈاکو اور بدعنوان قرار دیا، ان کے پیچھے نیب، ایف آئی اے اور آئی بی جیسی ایجنسیاں لگا کر ان کی زندگی مشکل کی۔ چنانچہ اپوزیشن اس مؤقف پر کھڑی نظر آتی ہے کہ اسے اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑنا ہو گی، اور اسی لیے اپوزیشن حکومت پر دباؤ ڈالنے اور اسے ہٹانے کے لیے متحرک ہو گئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بنائی گئی پی ٹی آئی کے اندر بغاوت کروانا کوئی مشکل کام نہیں ہے، کیونکہ اسکا حصہ بننے والے سیاستدانوں کو مسلم لیگ ن اور پی پی پی سے الگ کرانے میں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے ہی کپتان کی مدد کی تھی، اب جبکہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے آپسی تعلقات سخت خراب ہو چکے ہیں، ان سیاست دانوں کو بس ایک اشارے کی دیر ہے اور وہ وقت ضائع کیے بغیر اپنا قبلہ تبدیل لیں گے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم کے خلاف اپوزیشن کے اچانک اتحاد نے عمران سمیت انکے ساتھیوں کو بھی حیران کر دیا ہے اور وہ یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ اپوزیشن بغیر کسی یقین دہانی کے اکٹھی ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ 7 جنوری کو وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ابھی تک چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں نہیں سوچا کیونکہ ان کی دوسری مدت ختم ہونے میں ابھی کافی وقت باقی ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ عمران کے خطرناک ہونے اور توسیع پر کوئی فیصلہ نہ کرنے کے بیانات نے آرمی چیف کے ساتھ ان کے خراب تعلقات کو اور بھی کشیدہ کر دیا ہے جس کے بعد یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ شاید عمران خان نئے فوجی سربراہ کی تقرری کا اعلان وقت سے بہت پہلے کر دیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں اچانک اکٹھے ہوکر کر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری میں مصروف ہو گئی ہیں۔

Related Articles

Back to top button