کیا نواز اور زرداری کو اس مرتبہ اپنی کامیابی کا یقین ہے؟

پانچ فروری کو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کے مابین لاہور میں ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان سے جان چھڑوانے پر تو اتفاق رائے ہو گیا لیکن با خبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس کے باوجود پیپلز پارٹی کا دوبارہ پی ڈی ایم اتحاد کا حصہ بننے کا کوئی امکان نہیں.

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے اب مولانا فضل الرحمن کسی صورت قابل قبول نہیں اور ویسے بھی نواز لیگ اور پیپلز پارٹی نے اگلے الیکشن میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا ہے لہذا دونوں جماعتوں کا پی ڈی ایم اتحاد میں اکٹھے ہونا بے تکا نظر آتا ہے۔ تاہم عمران خان سے جان چھڑوانے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر دونوں جماعتوں کی قیادت کا اتفاق ہو چکا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے قائدین کیساتھ ملاقات کے بعد تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو یہ واضح پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ شہباز شریف ہی اب مسلم لیگ ن کو لیڈ کرینگے، اور مریم نواز بیک سیٹ پر چلی جائیں گی۔ ماضی میں بہت سے مواقع پر شہباز شریف اور مریم نواز کبھی اکھٹے نظر نہیں آئے لیکن 5 فروری کے روز پیپلز پارٹی کی قیادت سے ہونے والی ملاقات میں ایسا نہیں تھا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اس روز نہ صرف ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے تھے بلکہ اپنی بھتیجی مریم نواز کے علاوہ اپنے سیاسی وارث حمزہ شہباز شریف کو بھی ساتھ لائے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس ملاقات میں شریف خاندان سے تعلق رکھنے والے مفاہمتی اور مزاحمتی دھڑوں کی شرکت کا مقصد پیپلزپارٹی کی قیادت کو یہ پیغام دینا تھا کہ نواز لیگ عمران کو ہٹانے کے ایجنڈے پر اس کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہو گی۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک برس پہلے پیپلز پارٹی سے لانگ مارچ شروع کرنے اور اسمبلیوں سے استعفے دینے کا مطالبہ کرنے والی نواز لیگ خود ایک برس گزر جانے کے باوجود دونوں میں سے ایک بھی کام نہیں کر پائی جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ آصف زرداری کا اس معاملے میں موقف درست تھا۔ اب نواز لیگ کی قیادت بھی اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ اس نے پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم اتحاد سے نکالنے میں جلدی کی۔

نواز لیگ کی قیادت سمجھتی ہے کہ اگر عمران خان کو واقعی تحریک عدم اعتماد اور لانگ مارچ کے ذریعے اقتدار سے بے دخل کرنا ہے تو اکیلے ایسا کرنا ممکن نہیں اور پیپلز پارٹی کا ساتھ ہونا بہت ضروری ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت نے نواز لیگ پر واضح کیا ہے کہ وہ دوبارہ کسی صورت پی ڈی ایم اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی لیکن عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کے لیے اپوزیشن کا کھل کر ساتھ دے گی۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع نے اس امکان کو بھی مسترد کیا ہے کہ نواز لیگ اپنا لانگ مارچ 23 مارچ کی بجائے پیپلزپارٹی سے مل کر 27 فروری کو ہی شروع کر دے۔ ان کا کہنا ہے کہ 5 فروری کی ملاقات میں پیپلز پارٹی نے نواز لیگ کی قیادت کو ایسی کوئی تجویز نہیں دی۔

ضمیر مطمئن ہو تو ریٹائرمنٹ پر سکیورٹی نہیں مانگنا پڑتی

ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے مابین یہ اتفاق ہوا ہے کہ پہلے پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی اور اگر پھر بھی عمران خان بچ گئے تو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں میں اس بات پر بھی اتفاق رائے پایا کہ حکومت سے فوری نجات ضروری ہے لہذا آپس کے اختلاف بالائے طاق رکھ کر آگے بڑھا جائے۔

یاد رہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں رمضان شروع ہو جانا ہے اس لیے اپوزیشن کے پاس عمران خان کو نکالنے کے لیے فروری اور مارچ کے دو مہینے ہی باقی بچے ہیں۔ لیکن ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ تحریک عدم اعتماد کب اور پہلے کس کے خلاف پیش کی جائے گی۔

اس امکان کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے اور عمران خان کی چھٹی ہو جائے تو فوری انتخابات کی بجائے نواز لیگ کو 2023 میں ہونے والے اگلے الیکشن تک کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس سے پہلے لندن میں قیام پذیر نون لیگ کے قائد نواز شریف کا اصرار تھا کہ عمران حکومت کو فارغ کرکے فوری انتخابات کروائے جائیں۔

دوسری جانب دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں اس بات پر بھی اتفاق کرتی ہیں کہ حکومت کے اتحادیوں کو توڑے بغیر عمران خان کی حکومت گرانا مشکل ہوگا۔ ایسے میں دونوں جماعتوں نے ایم کیو ایم، قاف لیگ، جی ڈی اے اور بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت سے رابطے کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کیا جاسکے خصوصا جب کپتان حکومت ہر محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہے، جس کا خمیازہ اگلے الیکشن میں اتحادیوں کو بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہانگیر خان ترین کے ہم خیال درجنوں اراکین قومی اسمبلی عمران خان کا ساتھ چھوڑنے پر تیار ہیں اور گرین سگنل ملتے ہی اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیں گے۔

اس دوران یہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکومتی اتحادی جماعتوں بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ اور ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ باپ کے رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ہوا ہے جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر صوبائی اسمبلی، اراکین سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی وزرا نے شرکت کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ وفاق میں بی اے پی، پی ٹی آئی کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ہے لیکن بڑا اتحادی ہونے کے باوجود باپ کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جارہا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی کابینہ میں باپ کی نمائندگی نہ ہونے کے باوجود یہ وفاق میں پی ٹی آئی کی غیر مشروط حمایت دے تھک چکی ہے۔ چنانچہ پی ٹی آئی کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ارکان نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان پارٹی کے تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کریں اور مطالبات پورے نہ ہونے اور تحفظات دور نہ کرنےکی صورت میں بی اے پی آہندہ کا لائحہ عمل طے کرے۔

کہا جا رہا ہے کہ اگر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی نظر آئی تو وہ اپنا قبلہ تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کے سر سے ہاتھ ہٹا لیا ہے۔

اگر ایسا ہے تو پھر عمران کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہونے کا واضح امکان موجود ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری بہت سوچ سمجھ کر سیاسی چالیں چلنے والے سیاستدان ہیں اور ایسا ممکن نہیں کہ وہ اپنی کامیابی کی یقین دہانی کے بغیر عمران خان پر کوئی کچا وار کریں۔

Related Articles

Back to top button